بھٹكل خلیفہ جامع مسجد عربی خطبہ – 13-03-2020
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
فضيلة الشيخ صالح بن عبدالله بن حميد
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0827
قبرستان کے علاوہ دوسرے جگہوں یا گھر کے کسی حصہ میں میت کو دفن کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟
*اصل تو یہ ہے کہ میت کو قبرستان میں دفن کرنا ہے اور یہی مستحب ہے۔ لیکن فساد یا کرفیو یا کسی اور عذر کی وجہ سے میت کو قبرستان تک لے جانے میں جان کا خطرہ ہو یا کرفیو کی بناء پر قبرستان تک میت کو لے جانا دشوار ہو تو میت کو گھر کے خالی جگہ میں دفن کرنا بھی جائز ہے *
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: والدفن في المقبرة افضل… ويجوز الدفن في البيت…. (المجموع:۲۸۰/۳)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0826
فسادات کے موقع پر جمع بین الصلاتین اور قصر کرنے کا حکم؟
*فسادات کے موقع پر نمازیں عام حالات کی طرح ہی وقت پر ادا کرنا ضروری ہے، قصر اور جمع بین الصلاتین کی اجازت نہیں ہوگی البتہ بعض علماء نے فساد اور خوف کے موقعوں پر جمع بین الصلاتین ظہر اور عصر ایک وقت میں اور مغرب و عشاء ایک ساتھ پڑھنے کی گنجائش دی ہے قصر کی اجازت نہیں *۔
*قال امام النووى رحمة الله عليه: وَقَالَ الشَّافِعِيُّ وَمَالِكٌ وَالْجُمْهُورُ إِنَّ صَلَاةَ الْخَوْفِ كَصَلَاةِ الْأَمْنِ فِي عَدَدِ الرَّكَعَاتِ فَإِنْ كَانَتْ فِي الْحَضَرِ وَجَبَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَإِنْ كَانَتْ فِي السَّفَرِ وَجَبَ رَكْعَتَانِ وَلَا يَجُوزُ الِاقْتِصَارُ عَلَى رَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ فِي حَالٍ من الأحوال۔ * (المنهاج شرح مسلم/٦٨٧) قال امام العمرانى رحمة الله عليه : ولا يؤثر الخوف في عدد الركعات، بل إن كان في الحضر صلاها أربعًا، وإن كان في السفر صلاها ركعتين،ويستوي الإمام والمأموم في ذلك. (البيان :٢/٤٨٥) لاَ يُنْتَقَصُ عَدَدُ رَكَعَاتِ الصَّلاَةِ بِسَبَبِ الْخَوْفِ، فَيُصَلِّي الإِْمَامُ بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ، إِنْ كَانُوا مُسَافِرِينَ وَأَرَادُوا قَصْرَ الصَّلاَةِ، أَوْ كَانَتِ الصَّلاَةُ مِنْ ذَوَاتِ رَكْعَتَيْنِ، كَصَلاَةِ الْفَجْرِ، أَوِ الْجُمُعَةِ، وَيُصَلِّي بِهِمْ ثَلاَثًا أَوْ أَرْبَعًا إِنْ كَانَتِ الصَّلاَةُ مِنْ ذَوَاتِ الثَّلاَثِ، أَوِ الأَْرْبَعِ وَكَانُوا مُقِيمِينَ، أَوْ مُسَافِرِينَ أَرَادُوا الإِْتْمَامَ. الموسوعة الفقهية الكويتية :٢٧/٢١٦ قال امام العمرانى رحمة الله عليه يجوز الجمع بين الظهر والعصر، وبين المغرب والعشاء في وقت الأولى منهما في الحضر في المطر. الموسوعة الفقهية الكويتية:٢٧/٢١٦ وقال مالك وأحمد وإسحاق: يجوز الجمع للمرض والخوف. (البيان:٤٧٩/٢) قال امام الاسنوى رحمة الله عليه: وَقَالَ الرَّافِعِيُّ قال مالك واحمد يجوز الْجَمْعُ بِعُذْرِ الْمَرَضِ وَالْوَحَلِ وَبِهِ قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا مِنْهُمْ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ وَالْقَاضِي حُسَيْنٌ. (المجموع:٤/٣٨٣)
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير