Fiqhe Shafi Question No/0444 If anyone gives all his wealth as sadqa and doesn’t make the niyyah of zakah then does the zakah get dropped for him?
Ans; If anyone gives all his wealth as sadqa and doesn’t make the niyyah of zakah from it then the zakah doesnot get dropped for him rather it is necessary to give with the niyyah of zakah..
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0604 اگر ہم زکات کی نیت سے کسی کو پیسے دے اور ضرورت مند کو اس بات کا علم نہ ہو کہ یہ زکات کے پیسے ہے اس سے زکات ادا ہوگی یا نہیں؟
جواب:۔عام حالت میں پوشیدہ طور پر صدقہ دینا افضل ہے، اسلئے کہ اس میں ریاء نہیں ہوتا البتہ اگر علانیہ صدقہ دینے میں کوئی دینی مصلحت ہو مثلا لوگ بھی اس کی اقتدا کرینگے تو پھر علانیہ صدقہ دینا افضل ہوگا، البتہ زکات کی رقم دیتے وقت زکات لینے والے کو بتانا ضروری نہیں ہے۔
إذا دفع المالك أو غيره الزكاة إلى المستحق ولم يقل هي زكاة ولا تكلم بشئ أصلا أجزأه ووقع زكاة هذا هو المذهب الصحيح المشهور الذي قطع به الجمهور۔ (المجموع :٦ ٢٢٣) (التهذيب : ٣/٦٣) (روضة الطالبين٢/ ٢٠٧)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0442 اگرکوئی تاجر مال تجارت کی زکاۃ رقم کے بجاے اشیاء تجارت سے نکالتاہے تواس کی گنجائش ہے یانہیں؟
جواب:۔ امام شافعی رحمة الله عليه قول جدید کے مطابق (راجح مسلک) مال تجارت کی زکاة رقم (قيمت) سے ادا کی جائی گی، نہ کہ اشیاء تجارت سے، اس لئے کہ اشیاء تجارت سے ادا کرنا جائز نہیں ہے.
امام شافعي رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
وإذا اشترى العرض بنقد تجب فيه الزكاة، أو عرض تجب في قيمته الزكاة، حسب ما أقام المال في يده. (الأم:١٢٣\٣)
امام رافعي رحمك الله عليه فرماتے ہیں:
قال الغزالي:(وأما المخرج) فهو ربع عشر القيمة من النقد……………قال الرافعي:…….قطع في الجديد:بأنها تخرج من القيمة، ولا يجوز أن تخرج من عين ما في يده. (فتح العزيز:١١٥\٣-دار الكتب العلمية)
امام شربيني رحمة الله عليه فرماتے ہیں: (وواجبها)أي التجارة(ربع عشر القيمة)… وأما كونه من القيمة فعو الجديد لأن القيمة متعلق هذه الزكاة، فلا يجوز الإخراج من عين العرض.(مغني المحتاج:٥٣٧\١-دار الكتب العلمية)
Fiqhe Shafi Question No/0442 Is it permissible to give business goods as zakah of merchandise instead of giving money?
Ans; According to the new description of Imaam Shafi rehmatullah alaihi(Rajeh mislik)one must give zakah in amount and not by business goods because it is not permissible..
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0603 اگر صاحب نصاب کا کسی دوسرے کے ذمہ قرض ہوتو زکات ادا کرتے وقت اس قرض کی بھی زکات ادا کرنا ضروری ہے؟
جواب:۔ اگر کوئی صاحب نصاب کا کسی دوسرے کے ذمہ قرض ہو تو زکات ادا کرتے وقت اس شخص کو اپنے قرض شدہ مال کی بھی زکات نکالنا واجب ہے۔ یعنی جو رقم بطور قرض کسی کو دیا ہو تو سال پورا ہونے پر اس قرض دیے ہوئے رقم کی زکات نکالی جائے گی۔
(فرع تجب الزكاة في كل دين لازم) ولو مؤجلا (لا ماشية) لامتناع سوم ما في الذمة۔ (أسنى المطالب:١٢١/٢) تجب الزكاة في كل دين اللازم من فقد وعرض تجارة يعتاض عنه۔ (العباب : ٣٧٦/٢) * الحاوي الكبير:١٧٦/٣
فقہ شافعی سوال نمبر/0602 اگر کسی علاقے میں پانی کیلئے کنواں کھودنے کی ضرورت ہو تو کیا زکات کی رقم سے کنواں بورنگ لگانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔ اگر کسی علاقے میں پانی کے کمی کی وجہ سے کنواں کھودنے کی ضرورت ہو تو اس کنویں کے کھودنے کیلئے زکات کی رقم خرچ کرنا جائز نہیں ہے ۔
وافتتحه المحرر بقوله تعالى إنماالصدقات الأية فعلم من الحصر بانما إنها لا تصرف لغيرهم . (مغني المحتاج:٤/٢٨٠) اتفق جماهير فقهاء المذاهب على أنه لا يجوز صرف الزكاة إلى غير من من ذكر الله تعالى من بناء المساجد والجسور والقناطير والسقايات وكرى الأنهار وإصلاح الطرقات وتكفين الموتى و قضاء الدين والتوسعة على الاضياف وبنا الاسوار…. (الفقه الإسلامي وأدلة. ٢/٨٧٥) فلا يجوز صرف الزكاة إلى هذه الوجوه لانه لم يوجد التمليك اصلا. (فتح المعين: ١٩٣)
Fiqhe Shafi Question NO: 0602 If in any area there is a need to dig a well for water then is it allowed to use the amount of zakat for the purpose of digging the well?
Answer: If in any area there is scarcity of water and it is a necessity to dig a well for this purpose then using the zakat money for this purpose is not allowed.
سوال نمبر/ 0387 کسی غیرمکی کے لیے ایک عمرہ کرنے کے بعد دوسرا عمرہ مقام تنعیم (مسجدعائشہ) سے کرنے کاکیاحکم ہے؟
جواب: ایک روایت میں ہےکہ حضرت عائشہ ارشاد فرماتی ہے کہ ہم حجۃالوداع میں اللہ کے نبی کے ساتھ تھے ہم نے عمرہ کا احرام باندھا پھر اللہ کے نبی نے ارشاد فرمایا جس کے ساتھ ہدی کا جانور ہو وہ عمرہ کے ساتھ حج کا بھی احرام باندھے پھر وہ حلال نہ ہو یہاں تک کہ دونوں سے حلال ہو جاۓ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں حالت حیض میں مکہ آئی اور نہ ہی میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور نہ صفا و مروۃ کے درمیان سعی کی پس میں نے اسکی اللہ کے نبی سے شکایت کی تو آپ نے فرمایا تم اپنے سر کے بال کم کرو اور کنگھی کرو اور تم حج کا احرام باندھو اور عمرہ کو چھوڑ دو میں نے ایسا ہی کیا جب ہم حج سے فارغ ہو گۓ تو اللہ کے نبی نے مجھے عبد الرحمن ابن ابوبکر کے ساتھ مقام تنعیم بھیجا پس میں نے عمرہ کیا اور یہ تمھارے عمرہ کا احرام باندھنے کی جگہ ہے(١)
📝اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مکی وغیر مکی حضرات عمرہ کا احرام مقام تنعیم سے باندھ سکتے ہیں.اگرچہ ان کے لیے مقام جعرانہ اور حدیبیہ سے احرام باندھ کرعمرہ کرناافضل ہے.