جمعرات _2 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0862
*کُتا اگر کسی جگہ بیٹھ جائے تو اس جگہ کو دھونا دھونے کا کیا طریقہ کیا ہے؟*
*کُتا ناپاک ہے، لہذا کُتا کسی جگہ پر بیٹھ کر چلا گیا اگر وہ جگہ اور کُتا دونوں خشک تھے تو وہ جگہ ناپاک نہیں ہوگی۔ لیکن اگر کتا اور جگہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک تر ہو تو وہ جگہ ناپاک ہوگی۔ اس جگہ کو پاک کرنے کے لئے سات مرتبہ دھونا ضروری ہے، اور سات مرتبہ میں ایک مرتبہ مٹی ملاکر پانی بہانا ضروری ہے۔البتہ اگر وہ زمین مٹی والی ہو تو اس صورت میں صرف سات مرتبہ صرف پانی بہانا کافی ہے ۔*
*النَّجِسُ إذَا لَاقَى شَيْئًا طَاهِرًا، وَهُمَا جَافَّانِ: لَا يُنَجِّسُهُ* (الأشباه والنظائر للسيوطي:٤٣٢) *لَوْ مَاسَّ الْكَلْبُ ثَوْبًا رَطْبًا أَوْ مَاسَّ بِبَدَنِهِ الرَّطْبِ ثَوْبًا يَابِسًا أَوْ وَطِئَ بِرُطُوبَةِ رِجْلِهِ عَلَى أَرْضٍ أَوْ بِسَاطٍ كَانَ كَالْوُلُوغِ فِي وُجُوبِ غَسْلِهِ سَبْعًا فِيهِنَّ مَرَّةٌ بِالتُّرَابِ۔* (الحاوي الكبير:٣١٥/١) *يَكْفِي التُّرَابُ الْمَمْزُوجُ بِالْمَائِعِ؛ لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ تِلْكَ الْغَسْلَةِ إنَّمَا هُوَ التُّرَابُ وَلَا يَجِبُ تَتْرِيبُ أَرْضٍ تُرَابِيَّةٍ إذْ لَا مَعْنَى لِتَتْرِيبِ التُّرَابِ فَيَكْفِي تَسْبِيعُهَا بِمَاءٍ وَحْدَهُ۔* (مغني المحتاج :٢٤١/١) *بِخِلَافِ الْأَرْضِ الْحَجَرِيَّةِ وَالرَّمْلِيَّةِ الَّتِي لَا غُبَارَ فِيهِمَا فَلَا بُدَّ مِنْ تَتْرِيبِهِمَا۔* (نهاية المحتاج:٢٥٦/١)
بدھ _1 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0861
*بارش کے دنوں میں راستہ چلتے کیچڑ کپڑوں پر لگ جائے تو اسی کپڑوں پر نماز پڑھنے کا کیا مسئلہ ہے؟*
*بارش کے موسم میں راستوں پر جو کیچڑ یا جمع شدہ پانی بدن پر لگ جائے تو اگر کیچڑ یا جمع شدہ پانی میں نجاست ملنے کا یقین ہو تو وہ تھوڑا لگے تو معاف ہے اگر زیادہ لگ جائے تو معاف نہیں اور پاک پانی سے اس کا دھونا ضروری ہے زیادہ اور کم کی مقدار کا اعتبار عرف سے کیا جائے گا۔اور اگر نجاست کا یقین نہ ہو تو وہ پانی اور کیچڑ پاک ہے ۔ اس حالت میں نماز درست ہوگی۔*
(*ﻭﻃﻴﻦ اﻟﺸﺎﺭﻉ) ﻳﻌﻨﻲ ﻣﺤﻞ اﻟﻤﺮﻭﺭ ﻭﻟﻮ ﻏﻴﺮ ﺷﺎﺭﻉ ﻛﻤﺎ ﻫﻮ ﻇﺎﻫﺮ (اﻟﻤﺘﻴﻘﻦ ﻧﺠﺎﺳﺘﻪ) ﻭﻟﻮ ﺑﻤﻐﻠﻆ ﻣﺎ ﻟﻢ ﺗﺒﻖ ﻋﻴﻨﻪ ﻣﺘﻤﻴﺰﺓ ﻭﺇﻥ ﻋﻤﺖ اﻟﻄﺮﻳﻖ ﻋﻠﻰ اﻷﻭﺟﻪ ﺧﻼﻓﺎ ﻟﻠﺰﺭﻛﺸﻲ ﻟﻨﺪﺭﺓ ﺫﻟﻚ ﻓﻼ ﻳﻌﻢ اﻻﺑﺘﻼء ﺑﻪ ﻭﻓﺎﺭﻕ ﻣﺎ ﻣﺮ ﻧﺤﻮ ﻣﺎ ﻻ ﻳﺪﺭﻛﻪ ﻃﺮﻑ ﻭﻣﺎ ﻳﺄﺗﻲ ﻓﻲ ﺩﻡ اﻷﺟﻨﺒﻲ ﺑﺄﻥ ﻋﻤﻮﻡ اﻻﺑﺘﻼء ﺑﻪ ﻫﻨﺎ ﺃﻛﺜﺮ ﺑﻞ ﻳﺴﺘﺤﻴﻞ ﻋﺎﺩﺓ اﻟﺨﻠﻮ ﻫﻨﺎ ﻋﻨﻪ ﺑﺨﻼﻓﻪ ﻓﻲ ﺗﻠﻚ اﻟﺼﻮﺭ ﻭﻛﺎﻟﺘﻴﻘﻦ ﺇﺧﺒﺎﺭ ﻋﺪﻝ ﺭﻭاﻳﺔ ﺑﻪ (ﻳﻌﻔﻰ ﻋﻨﻪ) ﺃﻱ ﻓﻲ اﻟﺜﻮﺏ ﻭاﻟﺒﺪﻥ ﻭﺇﻥ اﻧﺘﺸﺮ ﺑﻌﺮﻕ ﺃﻭ ﻧﺤﻮﻩ ﻣﻤﺎ ﻳﺤﺘﺎﺝ ﺇﻟﻴﻪ ﻧﻈﻴﺮ ﻣﺎ ﻳﺄﺗﻲ ﺩﻭﻥ اﻟﻤﻜﺎﻥ ﻛﻤﺎ ﻫﻮ ﻇﺎﻫﺮ ﺇﺫ ﻻ ﻳﻌﻢ اﻻﺑﺘﻼء ﺑﻪ ﻓﻴﻪ (ﻋﻤﺎ ﻳﺘﻌﺬﺭ اﻻﺣﺘﺮاﺯ ﻋﻨﻪ ﻏﺎﻟﺒﺎ) ﺑﺄﻥ ﻻ ﻳﻨﺴﺐ ﺻﺎﺣﺒﻪ ﻟﺴﻘﻄﺔ ﺃﻭ ﻗﻠﺔ ﺗﺤﻔﻆ ﻭﺇﻥ ﻛﺜﺮ ﻛﻤﺎ اﻗﺘﻀﺎﻩ ﻗﻮﻝ اﻟﺸﺮﺡ اﻟﺼﻐﻴﺮ ﻻ ﻳﺒﻌﺪ ﺃﻥ ﻳﻌﺪ اﻟﻠﻮﺙ ﻓﻲ ﺟﻤﻴﻊ ﺃﺳﻔﻞ اﻟﺨﻒ ﻭﺃﻃﺮاﻓﻪ ﻗﻠﻴﻼ ﺑﺨﻼﻑ ﻣﺜﻠﻪ ﻓﻲ اﻟﺜﻮﺏ ﻭاﻟﺒﺪﻥ اﻩـ. ﺃﻱ ﺃﻥ ﺯﻳﺎﺩﺓ اﻟﻤﺸﻘﺔ ﺗﻮﺟﺐ ﻋﺪ ﺫﻟﻚ ﻗﻠﻴﻼ ﻭﺇﻥ ﻛﺜﺮ ﻋﺮﻓﺎ ﻓﻤﺎ ﺯاﺩ ﻋﻠﻰ اﻟﺤﺎﺟﺔ ﻫﻨﺎ ﻫﻮ اﻟﻀﺎﺭ ﻭﻣﺎ ﻻ ﻓﻼ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﻧﻈﺮ ﻟﻜﺜﺮﺓ ﻭﻻ ﻗﻠﺔ ﻭﺇﻻ ﻟﻌﻈﻤﺖ اﻟﻤﺸﻘﺔ ﺟﺪا ﻓﻤﻦ ﻋﺒﺮ ﺑﺎﻟﻘﻠﻴﻞ ﻛﺎﻟﺮﻭﺿﺔ ﺃﺭاﺩ ﻣﺎ ﺫﻛﺮﻧﺎﻩ (ﻭﻳﺨﺘﻠﻒ) ﺫﻟﻚ (ﺑﺎﻟﻮﻗﺖ ﻭﻣﻮﺿﻌﻪ ﻣﻦ اﻟﺜﻮﺏ ﻭاﻟﺒﺪﻥ) ﻓﻴﻌﻔﻰ ﻓﻲ ﺯﻣﻦ اﻟﺸﺘﺎء ﻭﻓﻲ اﻟﺬﻳﻞ ﻭاﻟﺮﺟﻞ ﻋﻤﺎ ﻻ ﻳﻌﻔﻰ ﻋﻨﻪ ﻓﻲ ﺯﻣﻦ اﻟﺼﻴﻒ ﻭﻓﻲ اﻟﻴﺪ ﻭاﻟﻜﻢ ﺳﻮاء ﻓﻲ ﺫﻟﻚ اﻷﻋﻤﻰ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﻛﻤﺎ ﻳﺼﺮﺡ ﺑﻪ ﺇﻃﻼﻗﻬﻢ ﻧﻈﺮا ﻟﻤﺎ ﻣﻦ ﺷﺄﻧﻪ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺧﺼﻮﺹ ﺷﺨﺺ ﺑﻌﻴﻨﻪ ﻭﻣﻊ اﻟﻌﻔﻮ ﻋﻨﻪ ﻻ ﻳﺠﻮﺯ ﺗﻠﻮﻳﺚ ﻧﺤﻮ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﺑﺸﻲء ﻣﻨﻪ ﻭﺧﺮﺝ ﺑﺎﻟﻤﺘﻴﻘﻦ ﻧﺠﺎﺳﺘﻪ۔* (تحفة المحتاج:١٣٠/٢) *ﺃﻣﺎ اﻟﺸﻮاﺭﻉ اﻟﺘﻲ ﻟﻢ ﻳﺘﻴﻘﻦ ﻧﺠﺎﺳﺘﻬﺎ ﻓﻤﺤﻜﻮﻡ ﺑﻄﻬﺎﺭﺗﻬﺎ ﻭﺇﻥ ﻇﻦ ﻧﺠﺎﺳﺘﻬﺎ ﻋﻤﻼ ﺑﺎﻷﺻﻞ.* (حاشیة الجمل: ٤٢٠/١)
بدھ _1 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0860
*اگر کسی جگہ بارش کا پانی جمع ہوجائے تو اس پانی سے وضو یا غسل کرنے کا کیا حکم ہے؟
*بارش کا پانی پاک ہے اگر بارش کا پانی کسی جگہ جمع ہوجائے جس سے وضو یا غسل کرنا ممکن ہو تو اس پانی سے وضو اور غسل کرنا اور نجاست کو دور کرنا درست ہے۔*
*قَالَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ (يَجُوزُ رَفْعُ الْحَدَثِ وَإِزَالَةُ النَّجَسِ بِالْمَاءِ الْمُطْلَقِ وَهُوَ مَا نَزَلَ مِنْ السَّمَاءِ أَوْ نَبَعَ مِنْ الْأَرْضِ فَمَا نَزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءُ الْمَطَرِ وَذَوْبُ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ (وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ) وَوَجْهُ الدَّلَالَةِ مِنْ الْآيَةِ لِمَا اسْتَدَلَّ بِهِ الْمُصَنِّفُ هُنَا وَهُوَ جَوَازُ الطَّهَارَةِ بِمَاءِ السَّمَاءِ ظَاهِرٌ وَهَذَا الْحُكْمُ مُجْمَعٌ عَلَيْهِ .* (المجموع : ١ /٨٠،٨١)
بدھ _1 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0859
*شربت یا چائے میں چونٹیاں گر جائے تو اس شربت و چائے کے پینے کا کیا حکم ہے؟*
*احادیث میں مشروبات کے اندر مکھی کے گرنے سے اسے نکال کر پینے کی گنجائش دی گئی ہے فقہائے کرام اسی حکم پر قیاس کرتے ہوئے یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ اگر مشروب میں گرنے والے جانور کے اندر بہنے والا خون نہ ہو جیسے چونٹی، مکھی تو وہ مشروب پاک ہے اور اسے نکال کر پی سکتے ہیں۔*
*ولو مات حيوان في ماء قليل، أو في مائع آخر؛ فإن كان كثيراً؛ نظر: إن كان حيواناً تؤكل ميتته؛كالسمك والجراد، لا ينجس ما مات فيه. وإن كان لا تؤكل ميتته؛ نظر: إن كانت له نفس سائلة؛ كالفأرة والعصفور ونحوها، نجس ما مات إلا الآدمي؛ فإن فيه قولين؛ بناء على [نجاسته بالموت]. وإن لم تكن له نفسٌ سائلة؛ كالذباب والنمل والعقرب والزنبور والخنفساء ونحوها- ففيه قولان: أصحهما وهو قول أبي حنيفة، ومالكٍ، وأكثر أهل العلم رحمهم الله: لا ينجس ما مات فيه؛ لتعذر الاحتراز عنه. وروي عن أبي هريرة أن رسول الله – صلى الله عليه وسلم- قال: "إذا وقع الذباب في إناء أحدكم، فليغمسه كله، ثم ليطرحه؛ فإن في أحد جناحيه شفاءً، وفي الآخر داء”.* (البغوي، أبو محمد، التهذيب في فقه الإمام الشافعي:١٦٢/١)
بدھ _1 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0858
*پانی اگر زیادہ ہو تو اس کے ناپاک ہونے کے لیے پانی کا مزہ، رنگ اور بو بدلنا ضروری ہے، یا صرف رنگ کی تبدیلی سے پانی ناپاک ہوگا ؟ *
*پانی اصلا تو پاک ہے لیکن اگر کثیر (تقریبا دو سو لیٹر) پانی میں نجاست گرجائے اور اس کا رنگ، بو یا مزہ تینوں میں سے کوئی ایک چیز بھی تبدیل ہوجائے تو وہ پانی ناپاک ہوگا۔*
*(وَالتَّغَيُّرُ الْمُؤَثَّرُ) حِسًّا أَوْ تَقْدِيرًا (بِطَاهِرٍ أَوْ نَجِسٍ طَعْمٌ أَوْ لَوْنٌ أَوْ رِيحٌ) أَيْ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ كَافٍ.* (مغني المحتاج :ج ١٣٠/١) *ﻭﺃﻣﺎ اﻟﻜﺜﻴﺮ، ﻓﻴﻨﺠﺲ ﺑﺎﻟﺘﻐﻴﺮ ﺑﺎﻟﻨﺠﺎﺳﺔ ﻟﻹﺟﻤﺎﻉ، ﺳﻮاء ﻗﻞ اﻟﺘﻐﻴﺮ ﺃﻡ ﻛﺜﺮ، ﻭﺳﻮاء ﺗﻐﻴﺮ اﻟﻄﻌﻢ ﺃﻭ اﻟﻠﻮﻥ ﺃﻭ اﻟﺮاﺋﺤﺔ، ﻭﻛﻞ ﻫﺬا ﻣﺘﻔﻖ ﻋﻠﻴﻪ ﻫﺎﻫﻨﺎ.* النووي روضة الطالبين وعمدة المفتين :1/19
بدھ _1 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0856
*کسی تندرست شخص کی طرف سے فرض حج یا عمرہ کرنے کا کیا حکم ہے؟*
*کسی تندرست شخص کے لیے دوسرے کو اپنی طرف فرض ونفل حج یا عمرہ کرنے کے لیے نائب بنانا درست نہیں ہے، لھذا اس کی طرف سے حج یا عمرہ کرنے سے تندرست شخص کے ذمہ سے یہ فریضہ ساقط نہیں ہوگا۔*
*علامہ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ﻭﺗﺠﻮﺯ اﻟﻨﻴﺎﺑﺔ ﻓﻲ ﺣﺞ اﻟﻔﺮﺽ ﻓﻲ ﻣﻮﺿﻌﻴﻦ: ﺃﺣﺪﻫﻤﺎ ﻓﻲ ﺣﻖ اﻟﻤﻴﺖ ﺇﺫا ﻣﺎﺕ ﻭﻋﻠﻴﻪ ﺣﺞ ﻭاﻟﺪﻟﻴﻞ ﻋﻠﻴﻪ ﺣﺪﻳﺚ ﺑﺮﻳﺪﺓ ﻭاﻟﺜﺎﻧﻲ ﻓﻲ ﺣﻖ ﻣﻦ ﻻ ﻳﻘﺪﺭ ﻋﻠﻰ اﻟﺜﺒﻮﺕ ﻋﻠﻰ اﻟﺮاﺣﻠﺔ ﺇﻻ ﺑﻤﺸﻘﺔ ﻏﻴﺮ ﻣﻌﺘﺎﺩﺓ ﻛﺎﻟﺰﻣﻦ ﻭاﻟﺸﻴﺦ اﻟﻜﺒﻴﺮ.* (المهذب:١/٣٦٥) *علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (ﻓﺄﻣﺎ) ﺣﺞ اﻟﺘﻄﻮﻉ ﻓﻼ ﺗﺠﻮﺯ اﻻﺳﺘﻨﺎﺑﺔ ﻓﻴﻪ ﻋﻦ ﺣﻲ ﻟﻴﺲ ﺑﻣﻌﻀﻮﺏ.* (المجموع:٧/١١٤) *مزید علامہ سلیمان الشافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ﻭﺗﺠﻮﺯ للمعصوب اﻟﻨﻴﺎﺑﺔ ﻓﻲ ﻧﺴﻚ اﻟﺘﻄﻮﻉ ﻛﻤﺎ ﻓﻲ اﻟﻨﻴﺎﺑﺔ ﻋﻦ اﻟﻤﻴﺖ.* (حاشيةالجمل:٢/٣٨٨)
بدھ _1 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0855
*اگر کسی عورت کو چالیس دن کے بعد نفاس کا خون بند ہوجائے اور عورت پاکی کا غسل کرے اور روزے رکھے پھر سات دن بعد دوبارہ خون جاری ہوجائے تو اس خون کا کیا حکم ہے اور ان دنوں رکھے ہوئے روزوں کا کیا مسئلہ ہے؟*
*نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت ساٹھ دن ہے اگر کسی عورت کو ساٹھ دن مکمل ہونے سے پہلے نفاس کا خون بند ہوجائے (چاہے ایک لحظہ یا ایک دن کے بعد بند ہوجائے) اور پندرہ دن سے پہلے دوبارہ خون آنا شروع ہوجائے تو وہ خون نفاس کا خون کہلائے گا اور وہ درمیانی ایام ناپاکی کے شمار ہونگے اور اس وقت رکھے ہوئے روزے بھی درست نہیں ہوں گے لھذا ان روزوں کو دوبارہ رکھنا ضروری ہے ۔*
*قال الإمام النووي رحمه الله؛قال أصحابنا إذا انقطع دم النفساء فتارة يتجاوز التقطع ستين يوما وتارة لا يتجاوزها فإن لم يتجاوزها نظر فإن لم يبلغ مدة النقاء بين الدمين أقل الطهر وهو خمسة عشر وما فأوقات الدم نفاس وفي النقاء المتخلل قولا التلفيق أصحهما أنه نفاس. والثاني أنه دم فساد مثال هذا أن ترى ساعة دما وساعة نقاء أو يوما أو يومين أو خمسة أو عشرة أو أربعة عشر وأربعة ونحوهما من التقديرات أما إذا بلغت مدة النقاء أقل الطهر بأن رأت الدم ساعة أو يوما أو أياما عقب الولادة ثم رات النقاء خمسة عشر يوما فصاعدا ثم رأت الدم يوما وليلة فصاعدا ففي الدم العائد الوجهان اللذان ذكرهما المصنف وهما مشهوران: قال الشيخ أبو حامد والأصحاب أصحهما أن الأول نفاس والعائد حيض وما بينهما طهر لأنهما دمان تخللهما طهر كامل فلا يضم أحدهما إلى الآخر كدمي الحيض*. المجموع شرح المهذب:٥٢٨/٢ *قال الإمام النووي رحمه الله: إذا انقطع دم النفساء، فله حالان. أحدهما: أن لا يجاوز ستين، فينظر، إن لم تبلغ مدة النقاء بين الدمين أقل الطهر، بأن رأت يوما دما، ويوما نقاء، فأزمنة الدم نفاس قطعا. وفي النقاء القولان كالحيض. وإن بلغته، بأن رأت عقب الولادة دما أياما، ثم رأت النقاء خمسة عشر فصاعدا، ثم عاد الدم فالأصح أن العائد دم حيض…. الحال الثاني: أن تجاوز ستين؛ فإن بلغ زمن النقاء في الستين أقل الطهر، ثم جاوز العائد، فالعائد حيض قطعا.* (روضة الطالبين:١٧٨/١) *قال الإمام إبن جحر الهيتمي رحمه الله؛ فإذا اغتسلت فلها حكم الطاهرات في كل شيء فإذا رأته قبل مضي خمسة عشر ولم يجاوز ستين – فهو نفاس بأي صفة كان، وكذلك ما تخلله من نقاء على الأظهر*. (الفتاوى الكبرى الفقهية:٩٥/١) *قال الإمام العمراني رحمه الله؛إذا ولدت المرأة ورأت ساعة دما، وساعة طهرا، ولم تجاوز الستين. أو رأت يوما دما، ويوما طهرا، ولم تجاوز الستين.. فإن الدم نفاس.* البيان في مذهب الإمام الشافعي: ٤٠٦/١
جمعہ _26 _جون _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
جمعہ _26 _جون _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
جمعہ _26 _جون _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی