درس حدیث نمبر 0217
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0584
اگر کتے کے لعاب يا اسكے اور ناپاکی کی وجہ سے کوئی چيز ناپاک ہوجائے پھر وہ ناپاک چيز كسی دوسری چيز كو لگ جائے تو وہ چيز ناپاک ہوگی يا نہيں ؟
جواب:۔ اگر کتے کے لعاب يا اسكی اور ناپاکی کی وجہ سے کوئی چيز ناپاک ہوجائے پھر وہ ناپاک چيز كسی دوسری چيز كو لگ جائے تو وہ دوسری چيز بھی ناپاک ہوگی۔
قال ابن شھاب الدين الرملي رحمة الله عليه وما نجس بملاقاة شئ من كلب سواء أكان بجزء منه أم من فضلاته، أم بما تنجس بشيء منهما كأن ولغ في بول أو ماء كثير متغير بنجاسة ثم أصاب ذلك الذي ولغ فيه ثوبا ولو معضه من صيد أو غيره، وسواء أكان جافا ولاقى رطبا أم عكسه (غسل سبعا إحداهن) في غير أرض ترابية (بتراب) ولو طينا رطبا كما أفتى به الغزالي لأنه تراب بالقوة، ويكفي العدد المذكور بشرطه وإن تعدد الوالغ أو الولوغ أو لاقته نجاسة أخرى. (نهاية المحتاج ٢٥٢/١) * الحاوى الكبير ! ٣١٥/١ * التهذيب ١٩٠/١ * روضة الطالبين ! ١٤١/١
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة رعد – آيت نمبر 25-26 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0583
اگر کسی شخص كو كتا كاٹے تو کاٹی ہوئی جگہ کے پاک کرنے کا طريقہ کياہے؟
جواب:۔ اگر کسی شخص كو كتا كاٹے تو کاٹی ہوئی جگہ کو جسم سے الگ کرنے کی ضروت نہيں ہے بلکہ اس جگہ کو سات مرتبہ دھوئے اس ميں ايک مرتبہ مٹی کا استعمال کرے , البتہ اگر اس زخم كو دهونے ميں ضرر زیادہ ہونے كا انديشہ ہے تو اس عذر کی بنا پر بغير دهوئے بھی پاک مانا جائے گا۔
قال الخطيب رحمة الله عليه: ومعض الكلب من الصيد نجس) كغيره مما ينجسه الكلب والأصح أنه لا يعفى عنه) كولوغه، والثاني يعفى عنه للحاجة، وقواه في المطلب (و) الأصح على الأول (أنه يكفي غسله) أي المعض سبعا (بماء وتراب) في إحداهن كغيره (و) أنه (لا يجب أن يقور) المعض (ويطرح) ؛ لأنه لم يرد، والثاني يجب ذلك، ولا يكفي الغسل؛ لأن الموضع تشرب لعابه، فلا يتخلله الماء.(مغني المحتاج :١٥٠/٦) (٢) نهاية المحتاج : ٢٥٢/١ (٣)روضة الطالبين :٥١٧/٢
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة رعد – آيت نمبر 22-23-24 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة رعد – آيت نمبر 22-23-24 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة رعد – آيت نمبر 21-22-23-24 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مدبنہ اردو ترجمہ : شفقت الرحمٰن
عنوان: خود احتسابی
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0582
اگر کافر میاں بیوی دونوں ایک ساتھ اسلام میں داخل ہوجائے تو کیا ان کا نکاح باقی رہیگا یا اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ قاضی سے نکاح پڑھانا ضروری ہے شریعت اس سلسلے میں کیا رہنمائی کرتی ہے واضح فرمائیں نوازش ہوگی؟
جواب:۔ اگر کافر میاں بیوی دونوں ایک ساتھ اسلام قبول کرلے تو پھر ان کا نکاح باقی رہے گا، اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں ہے۔
"ولو أسلما معاً دام النكاح” (منهاج الطالبين٤٥٨/٢) ولو أسلما معاً على اَي كافر كان قبل الدخول أو بعده دام النكاح باجماع كما نقله ابن المنذر و ابن عبدالبر. (مغني المحتاج ٢٣٤/٣)