جمعہ _4 _مئی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0601
بہت سے لوگ خصوصیت کے ساتھ رمضان میں عمرہ کرنا پسند کرتے ہیں تو کیا رمضان میں عمرہ کرنے کی کوئی خاص فضیلت ہے؟
جواب:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان آئے تو عمرہ کرے کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنا اجر و ثواب کے اعتبار سے حج کے برابر ہے۔ (صحیح بخاري:١٦٥٩) صحیح بخاری کی اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ رمضان المبارک میں عمرہ کرنا یہ فضیلت کی بات ہے کیونکہ رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے برابر ہوتا ہے اس لئے رمضان المبارک میں عمرہ کرنا غیر رمضان میں عمرہ سے زیادہ مستحب ہے۔
وَيُسْتَحَبُّ الِاعْتِمَارُ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَفِي رَمَضَانَ لِلْأَحَادِيثِ السَّابِقَةِ قَالَ الْمُتَوَلِّي وَغَيْرُهُ وَالْعُمْرَةُ فِي رَمَضَانَ أَفْضَلُ مِنْهَا فِي بَاقِي السَّنَةِ لِلْحَدِيثِ السَّابِقِ۔ (المجموع : ١١٥/٧)
جمعہ _4 _مئی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
جمعرات _3 _مئی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
جمعرات _3 _مئی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0600
اگر کسی باغ کے اردگرد کمپاؤنڈ موجود ہو یا نہ ہو تو ایسے باغ کے گرے ہوئے پھلوں کے اٹھانے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ کسی چیز کو اس کے مالک کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں ہے لہذا کسی باغ کے پھلوں کو مالک کی اجازت کے بغیر اٹھانا جائز نہیں ہے البتہ اضطرار یعنی بھوک شدت سے کھانے پینے کے لیے اس کے علاوہ کوئی چیز نہ ہو تب جائز ہے، مگر اس کا بدلہ ادا کرے گا اسی طرح گرے ہوئے پھلوں کا حکم درخت پر موجود پھلوں کی طرح ہے یعنی اگر درخت کمپاونڈ کے اندر ہوں تو ان پھلوں کا اٹھانا مالک کی اجازت کے بغیر درست نہ ہوگا اور اگر کمپاونڈ کے باہر پھل گرا ہو تو صحیح قول کے مطابق ایسے پھلوں کا اٹھانا اور کھانا اس وقت جائز ہے جب کہ یہ گمان ہو کہ اس کا مالک گرے پڑے پھل کھانے پر ناراض نہ ہوتا ہو، اگر درخت کا مالک ناراض ہوتا ہو یا منع کرتا ہو تو ایسے پھل اٹھانا اور کھانا جائز نہیں ہے۔
إذَا مَرَّ الْإِنْسَانُ بِثَمَرِ غَيْرِهِ أَوْ زَرْعِهِ لَمْ يَجُزْ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُ وَلَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ بِغَيْرِ إذْنِ صَاحِبِهِ إلَّا أَنْ يَكُونَ مُضْطَرًّا فَيَأْكُلَ حِينَئِذٍ وَيَضْمَنَ كَمَا سَبَقَ قَالَ أَصْحَابُنَا وَحُكْمُ الثِّمَارِ السَّاقِطَةِ مِنْ الْأَشْجَارِ حُكْمُ الثِّمَارِ الَّتِي عَلَى الشَّجَرِ إنْ كَانَتْ السَّاقِطَةُ دَاخِلَ الْجِدَارِ وَإِنْ كَانَتْ خَارِجَةً فَكَذَلِكَ إنْ لَمْ تَجْرِ عَادَتُهُمْ بِإِبَاحَتِهَا فَإِنْ جَرَتْ فَوَجْهَانِ أَحَدُهُمَا) لَا يَحِلُّ كَالدَّاخِلَةِ وَكَمَا إذَا لَمْ تَجْرِ عَادَتُهُمْ لِاحْتِمَالِ أَنَّ هَذَا الْمَالِكَ لَا يُبِيحُ (وَأَصَحُّهُمَا) يَحِلُّ لِاطِّرَادِ الْعَادَةِ الْمُسْتَمِرَّةِ بِذَلِكَ وَحُصُولِ الظَّنِّ بِإِبَاحَتِهِ. (المجموع :٤٩/٩) * كتاب الام :٦٣٨/٣
جمعرات _3 _مئی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
جمعرات _3 _مئی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة ابراهيم – آيت نمبر 37-38-39 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
بدھ _2 _مئی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
بدھ _2 _مئی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مدبنہ اردو ترجمہ : شفقت الرحمٰن
عنوان: دنیا میں انسان کے تین بڑے دشمن
منگل _1 _مئی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی
منگل _1 _مئی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
منگل _1 _مئی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة ابراهيم – آيت نمبر 36-37 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
پیر _30 _اپریل _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
پیر _30 _اپریل _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0599
اگر کوئی شخص رمضان کا روزہ جماع کے علاوہ کسی اور طریقہ سے جان بوجھ کر بغیر کسی شرعی عذر کے روزہ توڑ دے تو اس روزے کا صرف قضا کرنا ہوگا یا قضا کے ساتھ کفارہ بھی ادا کرنا ہوگا ؟
جواب:۔ رمضان المبارک کا روزہ اگر کوئی شخص جماع کے علاوہ کسی اور طریقہ سے جان بوجھ کر بغیر کسی شرعی عذر کے توڑ دے تو ایسے شخص پر صرف اس روزے کی قضا کرنا لازم ہوگا کفارہ کی ضرورت نہیں۔ البتہ بغیر شرعی عذر روزہ توڑنے کا گناہ ہوگا ۔
قال الإمام النووي رحمة الله عليه:
ولو أفسد صومه بغير الجماع كالأكل، والشرب، والاستمناء، والمباشرات المفضية إلي الإنزال فلا كفارة لان النص ورد في الجماع. (روضة الطالبين وعمدة المفتين:٢/٣٧٧) قال الإمام النووي رحمة الله عليه: قد ذكرنا أنه إذا استمنى متعمدا بطل صومه ولا كفارة. (المجموع ٦/٣٥٤) * الأم ٣/٢٥٢ * مغنى المحتاج ٢/١٩٣ * بحر المذهب ٤/٢٩١ * نهاية المطلب ٣/٥١٤
پیر _30 _اپریل _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
اتوار _29 _اپریل _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0598
اگر کسی میت پر باقی روزے اس کے اولیاء نہیں رکھ رہے ہوں تو کیا کسی اجنبی کو اجرت دے کر ان روزوں کو رکھوانے کی گنجائش ہے؟
جواب:۔ اگر کسی شخص کے رمضان کے روزے چھوٹ گئے ہوں اور قضاء کرنے سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے مثلا روزے چھوٹنے کے بعد سے وہ برابر موت تک مسافر یا بیمار ہو تو قضاء اور کفارہ کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ قضاء کرنا ممکن ہونے کے بعد اس کا انتقال ہوجائے تو پھر میت کے اولیاء اس کی جانب سے روزے رکھیں گے اور اگر اولیاء روزے نہ رکھیں بلکہ کسی اجنبی شخص کو میت کی جانب سے روزے رکھنے کے لئے اجرت دیں تو اس طرح اجرت پر میت کی طرف سے روزے رکھوانے کی گنجائش ہے ۔
(مَنْ فَاتَهُ) مِنْ الْأَحْرَارِ (شَيْءٌ مِنْ) صَوْمِ (رَمَضَانَ فَمَاتَ قَبْلَ إمْكَانِ الْقَضَاءِ) بِأَنْ اسْتَمَرَّ مَرَضُهُ أَوْ سَفَرُهُ الْمُبَاحُ إلَى مَوْتِهِ (فَلَا تَدَارُكَ لَهُ) أَيْ الْفَائِتِ بِالْفِدْيَةِ وَلَا بِالْقَضَاءِ لِعَدَمِ تَقْصِيرِهِ (وَلَا إثْمَ)… وَإِنْ مَاتَ بَعْدَ التَّمَكُّنِ لَمْ يَصُمْ عَنْهُ وَلِيُّهُ فِي الْجَدِيدِ…لَوْ صَامَ أَجْنَبِيٌّ بِإِذْنِ الْوَلِيِّ) أَيْ الْقَرِيبِ أَوْ بِإِذْنِ الْمَيِّتِ بِأَنْ أَوْصَى بِهِ سَوَاءٌ أَكَانَ بِأُجْرَةٍ أَمْ لَا (صَحَّ) (مغني المحتاج :١٨٦/٢) (البيان : ٥٤٣/٣) (المجموع : ٣٧٢/٦)