ذم اليأس والقنوط – 29-11-2019
فضيلة الشيخ أسامة بن عبدالله الخياط
فضيلة الشيخ أسامة بن عبدالله الخياط
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0490
احرام کی حالت میں سویٹر (گرم کپڑا) پہننے کا کیا حکم ہے؟
سویٹر عام طور پر سلا ہوا ہوتا ہے اور حالت احرام میں سلا ہوا کپڑا پہننا منع ہے، لھذا حالت احرام میں سویٹر پہننے سے فدیہ دینا ہوگا البتہ اگر کوئی شخص سویٹر پہنے بغیر بدن پر اسطرح اوڑھے جسطرح شال اوڑھی جاتی ہے تو درست ہے اور اس صورت میں فدیہ بھی واجب نہیں ہوگا نیز حالت احرام میں شال اوڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
علامہ خطیب شربینی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ظاهر عبارة المصنف أنه لا يجوز اللبس لحاجة البرد والمداواة، وليس مرادا إذ المنقول في كلام الشيخين وغيرهما الجواز، لكن مع الفدية كما قدرته في كلامه، فلو عبر بالحاجة كما عبر به في الرأس لكان أولى. (مغنی المحتاج:293/2) علامہ زکریا الانصاری رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ولأن الاعتبار في كل ملبوس بما يعتاد إذ به يحصل الترفه بخلاف الحنث به لوجود اسم اللبس قال في المجموع، وكذا لو التحف بقميص أو عباءة أو إزار أو نحوها ولف عليه طاقا، أو أكثر فلا فدية. (اسنی المطالب:507/1)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0489
گھر یا دکان میں تصویر کے لٹکانے کا کیا حکم ہے اور جہاں تصویر لٹکائی ہوئی ہو اس جگہ پر نماز پڑھنے کا کیا مسئلہ ہے؟
مکان و دکان میں کسی جاندار کی تصویر لٹکانا جائز نہیں ہے چونکہ جہاں پر کسی جاندار کی تصویر ہوتی ہے وہاں اللہ کی رحمت کے فرشتے نہیں آتے، اسی طرح ایسی جگہ جہاں تصویر لٹکائی ہوئی ہو نماز پڑھنا بھی مکروہ ہے اس لیے کہ یہ نماز میں خشوع و خضوع کے لیے رکاوٹ سبب ہوتا ہے۔
يكره للمصلي……….ومن ثم كرهت ايضا. في مخطط أو اليه أو عليه لأنه يخل بالخشوع أيضا۔ (تحفة المحتاج.كتاب الصلاة. باب شروط الصلاة:٢٣٧/١) ونظر ما يلهي عن الصلاة كثوب له اعلام ورجل امراة يستقبلان المصلي. (اسنى المطالب:كتاب الصلاة. باب شروط الصلاة ٣٧٥/١) (ونظر نحو سماء ) مما يلهي، كثوب له اعلام….. ومن ثم كرهت ايضا في مخطط او اليه أو عليه لأنه يخل بالخشوع . (إعانة الطالبين:كتاب الصلاة/فصل في صفة الصلاة:٣٠٣/١) *صحيح البخاري: باب ان صلي في ثوب مصاب أو تصاوير/٣٧٤) *صحيح مسلم.كتاب اللباس. بابتحريم تصوير صورة الحيوان /٥٥١٧)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0488
اگر کوئی مسافر پردیس سے اپنے شہر میں داخل ہوجائے تو اس وقت کوئی خاص دعا پڑھنے کا کیا حکم ہے اور وہ دعا کونسی ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی سفر سے واپس آتے اور شہر میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتےاللهم بارك لنا فيها اور اسکے بعد تین مرتبہ یہ دعا بھی پڑھے فرمایا (اللهم ارزقنا جناها وحببنا الى اهلها وحبب صالحي اهلها الينا) فقہائے کرام نے اس دعا کو سفر سے واپسی پر پڑھنے کو مستحب لکھا ہے
قال الإمام النووي رحمة الله عليه: ما يقوله إذا راى قرية يريد دخولها او لا يريده ….اللهم ارزقنا حياها، واعذنا من وباها، وحببنا الى اهلها، وحبب صالحي اهلها الينا۔ (كتاب الأذكار:١٣٧/١٠)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب