جمعرات _21 _نومبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0479
*اگر کسی کے پاس چوری کیا ہوا مال ہو اور اب وہ شخص چوری سے توبہ و استغفار کر چکا ہو تو اس مال کا کیا حکم ہے؟
*اگر کسی شخص کے پاس چوری کا مال ہو اور وہ اپنے اس عمل سے سچی پکی توبہ کرچکا ہو تو ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ چوری کا مال بالکل استعمال نہ کرے اگر وہ چوری کی ہوئی چیز لوٹائی جاسکتی ہو اور اس کا مالک معلوم ہو یا اس کا مالک مر چکا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ چیز اس کے مالک کو لوٹائے، اگر اس کا مالک معلوم نہ ہو یا اس کا انتقال ہوا ہو تو اسکے وارثوں تک اس چیز کو لوٹائے گا ہاں اگر اس کے مالک یا وارثوں کو بھی لوٹانا ممکن نہ ہو تو پورا کا پورا مال مسلمان فقراء و مساکین کے درمیان خرچ کرے گا *
امام النووي رحمة الله عليه فرماتے ہیں قَالَ الْغَزَالِيُّ إذَا كَانَ مَعَهُ مَالٌ حَرَامٌ وَأَرَادَ التَّوْبَةَ وَالْبَرَاءَةَ ؤمِنْهُ فَإِنْ كَانَ لَهُ مَالِكٌ مُعَيَّنٌ وَجَبَ صَرْفُهُ إلَيْهِ أَوْ إلَى وَكِيلِهِ فَإِنْ كَانَ مَيِّتًا وَجَبَ دَفْعُهُ إلَى وَارِثِهِ وَإِنْ كَانَ لِمَالِكٍ لَا يَعْرِفُهُ وَيَئِسَ مِنْ مَعْرِفَتِهِ فَيَنْبَغِي أَنْ يَصْرِفَهُ فِي مَصَالِحِ الْمُسْلِمِينَ الْعَامَّةِ كَالْقَنَاطِرِ وَالرُّبُطِ وَالْمَسَاجِدِ وَمَصَالِحِ طَرِيقِ مَكَّةَ وَنَحْوِ ذَلِكَ مِمَّا يَشْتَرِكُ الْمُسْلِمُونَ فِيهِ وَإِلَّا فَيَتَصَدَّقُ بِهِ عَلَى فَقِيرٍ أَوْ فُقَرَاءَ……. فَإِنَّ الْمَقْصُودَ هُوَ الصَّرْفُ إلَى هَذِهِ الْجِهَةِ وَإِذَا دَفَعَهُ إلَى الْفَقِيرِ لَا يَكُونُ حَرَامًا عَلَى الْفَقِيرِ بَلْ يَكُونُ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ عَلَى نَفْسِهِ وَعِيَالِهِ إذَا كَانَ فَقِيرًا لِأَنَّ عِيَالَهُ إذَا قكَانُوا فُقَرَاءَ (المجموع شرح المهذب ٣٣٢/٩) امام الغزالی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: اعلم انّ كل من تاب وفي يده ما هو حرام معلوم العين…. إمّا ان يكون له مالك معين فيجب الصرف اليه أو إلى وارثه….. وإمّا أن يكون لمالك غير معين، وقع اليأس من الوقوف على عينه ولا يدري أنه مات عن وارث ام لا! فهذا لا يمكن الرد فيه للمالك…. فهذا ينبغي أن يتصدق به وإما من مال الفيء والأموال المرصدة لمصالح المسلمين كافة. (احياء علوم الدين :١٦٢/٢)
منگل _19 _نومبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
منگل _19 _نومبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0467
کرایہ کے مکان پر اگر کوئی کرایہ دار ضرورت کی چیزوں پر خرچ کرے تو کیا مالک مکان کو کرایہ دار کا خرچ کیا ہوا روپیہ دینا کیا ضروری ہے؟
کرایہ میں جو چیز دی جاتی ہے مکان ہو یا دکان یا کوئی چیز اس میں کرایہ دار کی کوتاہی کے بغیر اگر کوئی چیز خراب ہوجائے تو اس کی ذمہ داری اس چیز کے مالک کی ہوگی کہ وہ اس کی اصلاح کرے اس لیے کہ کرایہ دار اس کا ضامن نہیں ہوتا ہے اور اگر کرایہ دار خود اس کی اصلاح و مرمت کرے مکان و دکان کے واپس کرنے کے لیے یہ شرط لگائے کہ چیز کی مرمت و اصلاح کے لیے لگی ہوئی رقم کو واپس کرنا ہوگا تو کرایہ دار کا اس طرح سے شرط لگانا بھی درست ہے
امام عمرانی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: إذا تلف في يد المكتري من غير تفريط منه.. لم يضمنه، ويجب على المكري إبداله، كما لو انكسر جذع من الدار. البيان في مذهب الإمام الشافعي٢٦٢/٧-٢٩٣ امام مطرحى رحمة الله عليه فرماتے ہیں: فان تلف شئ منه في يد المكترى لم يضمنه كما لا يضمن العين المستأجرة ….. واذا تسلمه فهو يده امانة فلا يضمنه بلا تفريط واذا ضاع منه بلا تفريط ولم يبدله المكري ثبت له الفسخ ولا يجبرالمكري على الإبدال. (المجموع:٣٦٧/١٥-٣٦٨)
پیر _18 _نومبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اتوار _17 _نومبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اتوار _17 _نومبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0807
*وضو شروع کرتے وقت اس دعا *الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى الْإِسْلَامِ وَنِعْمَتِهِ* کے پڑھنے کا کیاحکم ہے؟
وضو کرتے وقت شروع میں مکمل بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى الْإِسْلَامِ وَنِعْمَتِهِ پڑھنا مستحب ہے۔
(البدرالمنیر:2/272) وَأَقَلُّهَا بِسْمِ اللَّهِ، وَأَكْمَلُهَا كَمَالُهَا، ثُمَّ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى الْإِسْلَامِ وَنِعْمَتِهِ. (مغني المحتاج ١/١٨٥)
ہفتہ _16 _نومبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
ہفتہ _16 _نومبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی
ہفتہ _16 _نومبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
جمعہ _15 _نومبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)