محاسن الأخلاق – 06-12-2019
فضيلة الشيخ عبد الرحمن بن عبدالعزيز السديس
فضيلة الشيخ عبد الرحمن بن عبدالعزيز السديس
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0493
اگر کوئی آدمی تنہا نماز پڑھنے والے کو پیچھے سے اشارہ کرکے امام بنائے اور وہ امام بڑی آواز سے تکبیر نہ کہے تو کیا ان مقتدیوں کی نماز درست ہوگی اور ان کو جماعت کا ثواب ملے گا یا نہیں؟
مقتدی کے لیے اقتدا کی نیت کرنا شرط ہے البتہ امام کے لیے امامت کی نیت کرنا مستحب ہے ضروری نہیں اگر کوئی تنہا نماز پڑھنے والے کو پیچھے سے ہاتھ لگا کر امام بنائے تو ان مقتدیوں کی نماز درست ہوگی اگرچہ امام تکبیرات کو بلند آواز نہ کہے تب بھی ان مقتدیوں کو جماعت سے نماز پڑھنے کا پورا ثواب ملے گا۔
شرط القدوة ان ينوي الماموم مع التكبير الاقتداء… ولا يشترط للامام نية الامامة بل تستحي ليجوز فضيلة الجماعة فان لم ينو لم تحصل له واذا نوي في اثناء الصلاة جاز الفضيلة من حين النية۔ (السراج الوهاج ٥٩) مغني المحتاج فصل شرط القدوة ٥٠٢/٢
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب