درس حدیث نمبر 0375
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سوال نمبر / 0762
تمتع کرنے والا حاجی عمرہ سے فارغ ہوجائے اور ابھی حج کے دن شروع نہیں ہوئے ہوں تو کیا اس عمرہ کے بعد اس کے لیے تمتع کا دم دینا کافی ہوگا؟
حج تمتع کرنے والا عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد جب حج کا احرام باندھے تو اس وقت اس پر دم تمتع واجب ہوتا ہے۔ البتہ عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد اس کے لیے دم دینا جائز ہے، عمرہ سے پہلے جائز نہیں ہے۔ نیز یوم النحر (١٠/ ذوالحجہ) کو دم دینا افضل ہے۔
(ووقت وجوب الدم احرامه بالحج)….. ولا تتأقت إراقته بوقت،….. (والأفضل: ذبحه يوم النحر، (ويجوز قبل الإحرام) بالحج بعد التحلل من العمرة في الازهر، ولا يجوز قبل التحلل منها في الاصح. (كنز الراغبين:١/٥٦١) (ووقت وجوب الدم) عليه (احرامه بالحج) لانه حينئذٍ يصير متمتعاً بالعمرة الى الحج ، والأصح جواز ذبحه اذا فرغ من العمرة، ولا يتأقت ذبحه بوقتٍ كسائر دماء الجبرانات (و) لكن (الافضل وذبحه يوم النحر). (نهاية المحتاج:٣/٣٢٧)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0764
ایک حاجی حج کے فورا بعد سفر کرنا چاہتا ہے کیا وہ طواف زیارت کے ساتھ ہی طواف وداع کی نیت کر سکتا ہے؟
طواف زیارت اور طواف وداع دونوں مستقل اور الگ الگ طواف ہیں٬ اس ليے طواف زیارت کے ساتھ طواف کی نیت کرنا کافی نہیں ہوگا، لہذا دونوں کو الگ الگ کرنا چاہیے۔
طواف الوداع لا یدخل تحت طواف آخر، حتی لو اخر طواف الإفاضة وفعله بعد ایام منی و اراد السفر عقبه … لم یکفه (البیان :2/549) *مغنی المحتاج:1/676
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
فضيلة الشيخ حسين بن عبدالعزيز آل الشيخ
فضيلة الشيخ ماهر بن حمد المعيقلي