درس حدیث نمبر 0334
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0758
اگر کسی غیر مسلم کی دکان میں مسلمان شخص مرغی یا بکرے کو ذبح کرتا ہو یا ذبح کرنے کے سلسلے میں شک ہو تو ایسی دکان سے گوشت خریدنا کیسا ہے؟
جانور کا ذبیحہ صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ذبح کرنے والا مسلمان ہو، دکان مالک کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے سے کچھ فرق نہیں، ہاں اگر کسی دکان کے سلسلہ میں یہ شک ہو کہ مسلمان نے ذبح کیا ہے یا غیر مسلم نے تو ایسی صورت میں اس دکان سے گوشت خریدنا جائز نہیں چونکہ غیر مسلم کا ذبیحہ حلال نہیں۔ ہاں اگر یقین ہو کہ مسلمان ہی نے ذبح کیا ہے تو اس دکان سے گوشت خریدنا جائز ہے۔
"و” شُرِطَ ” فِي الذَّابِحِ ” الشَّامِلِ لِلنَّاحِرِ وَلِقَاتِلِ غَيْرِ الْمَقْدُورِ عَلَيْهِ بِمَا يَأْتِي لِيَحِلَّ مَذْبُوحُهُ ” حِلَّ نِكَاحِنَا لِأَهْلِ مِلَّتِهِ ” بِأَنْ يَكُونَ مُسْلِمًا أَوْ كِتَابِيًّا بِشَرْطِهِ السَّابِقِ فِي النِّكَاحِ ذَكَرًا أَوْ أُنْثَى وَلَوْ أَمَةً كِتَابِيَّةً قَالَ تَعَالَى: {وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ } بِخِلَافِ الْمَجُوسِيِّ وَنَحْوِهِ۔ (فتح الوهاب: ٢/٢٢٧)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0757
قربانی کے جانور کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ یا تکبیر نہ پڑھے تو اس جانور کے ذبیحہ کاکیا حکم ہے؟
جانور کو ذبح کرتے وقت اصل میں بسم الله پڑھنا اور ذبح کرنے سے پہلے اور ذبح کے بعد تین مرتبہ تکبیر پڑھنا سنت ہے۔ اگر کوئی جانور ذبح کرتے وقت کچھ بھی نہ پڑھے تب بھی ذبیحہ صحیح اور درست ہوگا۔
ويكره ترك التسمية و لا تحرم……. ويسن و يكبّر في الاضحية ثلاثا قبل التسمية وثلاثا بعدها. (الديباج:٤/٣٢٥) وفي "مراسيل ابي داؤد” عن الصلت مرفوعاً:(ذبيحة المسلم حلال ذكر اسم الله أو لم يذكر) (عمدة المحتاج: ١٤/٢٤٧,٢٦٨)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
فضيلة الشيخ عبد الرحمن بن عبدالعزيز السديس