بھٹكل مسجدِ ابوذر غفاری گلمی روڈ عربی خطبہ – 04-10-2019
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0788
اگر کوئی شخص کسی کو تجارت کے یہ شرط لگا کر بطور قرض روپیہ دے اور یہ کہے کہ میں ایک لاکھ روپیہ دیتا ہوں تم مجھے ہر ماہ متعین رقم (تین/چار ہزار) دوگے چاہیے نفع ہو یا نقصان اور میرا ایک لاکھ روپیہ پورا کا پورا واپس بھی کرنا ہوگا شریعت کی روشنی میں اس طرح کرنے کا کیا حکم ہے؟
قرض دے کر فائدہ اٹھانا سود میں داخل ہے صورت مسئلہ میں ایک لاکھ روپے دے کر یہ شرط لگانا (کہ ہر مہینے تین ہزار روپیہ دینا اور ایک لاکھ روپیہ بھی لوٹانا) جائز نہیں ہے۔ اور یہ سود ہے اور سود شریعت میں حرام ہے۔
ﻓﺈﻥ ﺃﻗﺮﺽ ﺷﻴﺌﺎ ﺑﺸﺮﻁ ﺃﻥ ﻳﺮﺩ ﻋﻠﻴﻪ ﺃﻛﺜﺮ ﻣﻨﻪ…. ﻧﻈﺮﺕ: ﻓﺈﻥ ﻛﺎﻥ ﺫﻟﻚ ﻣﻦ ﺃﻣﻮاﻝ اﻟﺮﺑﺎ، ﺑﺄﻥ ﺃﻗﺮﺿﻪ ﺩﺭﻫﻤﺎ، ﺑﺸﺮﻁ ﺃﻥ ﻳﺮﺩ ﻋﻠﻴﻪ ﺩﺭﻫﻤﻴﻦ، ﺃﻭ ﺃﻗﺮﺿﻪ ﺫﻫﺐ ﻃﻌﺎﻡ ﺑﺸﺮﻁ ﺃﻥ ﻳﺮﺩ ﻋﻠﻴﻪ ﺫﻫﺒﻲ ﻃﻌﺎﻡ.. ﻟﻢ ﻳﺠﺰ؛ ﻟﻤﺎ ﺭﻭﻱ: ﺃﻥ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: «ﻛﻞ ﻗﺮﺽ ﺟﺮ ﻣﻨﻔﻌﺔ….ﻓﻬﻮ ﺣﺮاﻡ. (البيان/٤٢٤/٥)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0787
اگر کوئی عورت کو سات دن حیض کی عادی ہو اور اسے کسی مہینہ ایک مرتبہ نو دن حیض آئے، تو وہ زائد دو دن حیض کے شمار کرے گی یا طہارت ؟
حیض کی کم سے کم مدت سات دن اور زیادہ سے زیادہ مدت پندرہ دن ہے اگر کسی عورت کو عادت کے مطابق سات دن ہی حیض آتا ہو لیکن کسی مہینہ عادت کے خلاف سات کے بجائے نو یا دس دن حیض آئے تو زائد دو دن بھی حیض ہی کے ہونگے، اس لیے کہ حیض کی اکثر مدت پندرہ دن ہے، لہذا اس پر حیض کی احکام باقی رہیں گے۔
قال الإمام النووي رحمة الله عليه : وإن انْقَطَعَ لِيَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَوْ لِخَمْسَةَ عَشَرَ أَوْ لِمَا بَيْنَهُمَا فَهُوَ حَيْضٌ سَوَاءٌ كَانَ أَسْوَدَ أَوْ أَحْمَرَ وَسَوَاءٌ كَانَتْ مُبْتَدَأَةً أَوْ مُعْتَادَةً وَافَقَ عَادَتَهَا أَوْ خَالَفَهَا بِزِيَادَةٍ أَوْ نَقْصٍ أَوْ تَقَدُّمٍ أَوْ تَأَخُّرٍ وَسَوَاءٌ كَانَ الدَّمُ كُلُّهُ بِلَوْنٍ وَاحِدٍ أَوْ بَعْضُهُ أَسْوَدَ وَبَعْضُهُ أَحْمَرَ وَسَوَاءٌ تَقَدَّمَ الْأَسْوَدُ أَوْ الاحمر. (المجموع:٢/ ٣٨٩) قال الإمام ابن حجر الهيتمي رحمه الله: فإذا انقطع دون قدر العادة لزمها أن تفعل مايفعله الطاهر، ولا يجوز لها أن تنتظر قدر العادة حينئذ، وإذا زاد على قدر العادة ولم يجاوز خمسة عشر لزمها أن تبقى على أحكام الحائض لما قررته أنه عارض العادة ماهو أقوى منها قدم عليها (الفتاوى الكبرى الفقهية:١/ ٧٩)