درس حدیث نمبر 0377
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: موسمیاتی تبدیلی اسباق اور نصیحتیں
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0767
دوران نماز اگر کسی امام کا وضو ٹوٹ جائے تو مقتدی حضرات باقی نماز کیسے مکمل کریں ؟
نماز کے دوران اگر کسی امام کا وضو ٹوٹ جائے تو اب مقتدیوں کے لیے اپنی نماز مکمل کرنے کے سلسلے میں دو طریقے ہیں۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ مقتدی اس امام سے الگ ہونے کی نیت کریگا اور اپنی بقیہ نماز مکمل کرے گا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اسی وقت مقتدیوں میں سے کوئی ایک امامت کے لیے آگے بڑھے گا اور بقیہ نماز کی امامت کرے گا اور نماز مکمل کریگا۔
إذا بطلت صلاة الامام بحدث ونحوه ….. فانه يفارقه ولا يضر الماموم هذه المفارقة إذَا خَرَجَ الامام عن الصلاة بحديث تَعَمَّدَهُ أَوْ سَبَقَهُ أَوْ نَسِيَهُ أَوْ بِسَبَبٍ آخَرَ أَوْ بِلَا سَبَبٍ فَفِي جَوَازِ الِاسْتِخْلَافِ قَوْلَانِ مَشْهُورَانِ (الصَّحِيحُ) الْجَدِيدُ جَوَازُهُ۔ (المجموع:213/4)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0766
اگر کوئی شخص السلام علیکم کے علاوہ صرف سلام مسنون یا سلام و تسلیم جیسے الفاظ کے ذریعہ کسی کو سلام کرے تو کیا اس طرح سلام کرنا درست ہے اور اس طرح سلام کرنے والے کو جواب دینا ضروری ہے ؟
سلام کا سنت طریقہ یہ ہے کہ آدمی پورا پورا سلام یعنی السلام علیکم ورحمة الله وبركاته اور اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته کہے ہاں اگر کوئی شخص سلام مسنون یا سلام تسلیم اس جیسے الفاظ کے ذریعہ سلام کرے تو اس طرح سلام کرسکتا ہے اور مخاطب کو اس کا جواب دینا بھی واجب ہوگا اس لیے کہ یہ الفاظ عجمی زبان میں سلام کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
قلت: الصواب صحة سلامة بالعجمية إن كان المخاطب يفهمها ، سواء قدر على العربية أم لا ، ويجب الرد ، لأنه يسمى تحية وسلاماً۔ (روضة الطالبين.كتاب السير :١٨٧/٤)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0765
گناہ کبیرہ بار بار کرنے والا شخص اگر سلام کرے تو اسے جواب دینے کا کیا مسئلہ ہے؟
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ فلاں شخص نے آپ کو سلام عرض کیا ہے، تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ وہ شخص نئی باتیں گڑھتا ہے اگر وہ ایسا ہى باتیں گڑھنے والا ہو تو میری طرف سے جواب نہ دینا۔ (سنن ترمذي:٢١٥٢) ایسا شخص جو بدعتی ہو، یا گناہ کبیرہ بار بار کرتا ہو اور توبہ بھی نہ کرتا ہو اگر کسی کو سلام کرے تو اس کے سلام کا جواب دینا واجب اور ضروری نہیں ہے۔ بلکہ ایسے لوگوں کے سلام کا جواب نہ دینا سنت ہے۔
ويلزمهم الرّد الا على فاسق بل يسن تركه على مجاهر بفسقه ومرتكب ذنب عظيم لم يتب منه و مبتدع إلا لعذر او خوف مفسدة. (تحفة المحتاج:٤/١٨٩) و في استحباب السلام على الفاسق ( المجاهر بنفسه) ووجوب الرد على المجنون والسكران اذا سلم وجهان. (العزيز شرح الوجيز:١١/٣٧٦) فرع:في استحباب السلام على الفاسق المجاهر بفسقه والمبتدع ومن ارتكب ذنباً عظيماً ولم يتب منه وجهان، اصحهما: لا. (عمدة المحتاج:١٤/٣٤)
فضيلة الشيخ عبد المحسن بن محمد القاسم
فضيلة الشيخ صالح بن عبدالله بن حميد
مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی