005 – سورة المائدة – آیت نمبر – 095
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة يونس – آيت نمبر 068-069-070 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0522
بعض لوگوں کی پیروں کی انگلیاں سجدہ میں مکمل طور پر زمین پر لگ نہیں پاتی تو کیا اس حالت میں سجدہ درست ہوگا؟
جواب:۔ صحیح بخاری کی حدیث اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “مجھے سات چیزوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے،
دونوں گھٹنے، دونوں ہتھیلیاں، دونوں پاوں کی انگلیاں پیشانی….والی حدیث سے فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ سجدہ میں دونوں پاوں کا زمین پر لگنا ضروری ہے. جس کا مکمل طریقہ یہ ہے کہ پیروں کی تمام انگلیوں کا اندرونی حصہ زمین پر لگ جائے، البتہ اگر دونوں پیروں کی تمام انگلیوں کا کچھ حصہ یا کسی ایک انگلی کا بعض حصہ زمین پر لگ جائے تو تب بھی سجدہ درست ہوگا. اگر پورے سجدہ میں پاوں ہوا میں رہے طمانینت کے بقدر بھی زمین پر نہ رکھے تو سجدہ درست نہیں ہوگا.
فالکمال ان یضع …. بطون اصابع رجلیه فان اقتصر علی وضع بعض کل واحد منھا من الاصابع. (بحرالمذھب:۲/١٦٥) (قوله اصابع قدمیه) ولو جزءا من اصبع واحدۃ من کل رجل۔ (بجیرمی:۲/۳۰)
Fiqhe Shafi Question No/0522
Some people cannot touch their foot fingers completely to the floor while prostration(sajdah) then in this situation Do their prostration remains valid?
Ans; There is a narration in hadeeth of Sahih Bukhari that The Messenger of Allah(peace and blessings of Allah be upon him) said;” I have been ordered to perform prostration on seven bones
Both knees Both hands Fingers of Both foot Forehead The jurists(fuqaha) based their opinion by this hadeeth that while prostration both the foots should touch the ground and its complete way is that the inner part of all the fingers should touch the floor.. However, if some part of all the fingers of both the foot or some part of a single finger touches the floor even then the prostration(sajdah) will be valid.. if the foot are tucked up in air through out the prostration and doesn’t touch the floor even for a while then the prostration will not be valid..
فقہ حنفی سوال نمبر/ 0152
گوشت کے ساتھ لگا ہوا خون پاک ہے یا ناپاک؟
جواب:۔ جانور ذبح کرنے کے بعد جو خون اس کی رگوں میں یا گوشت میں باقی رہتا ہے وہ پاک ہے، کیونکہ وہ دم مسفوح نہیں ہے اور گوشت بغیر دھوئے بھی پاک رہتا ہے۔ فتاوی تاتارخانیہ ۲۹۱/۱
Fiqhe Hanafi Question No/0152
Is the blood attached to the meat pure or impure?
Ans; The blood that remains in the veins or the meat of the animals after its slaughter is pure because its blood is not spilled out and the meat is considered to be pure even without washing..
مدبنہ اردو ترجمہ : شفقت الرحمٰن
عنوان: شکر کی اہمیت اور فضیلت
سورة يونس – آيت نمبر 065-066-067 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0521
کھانا کھانے کے دوران اگر کسی کو پانی پینا ہو تو اس کا کونسا طریقہ مسنون ہے؟ دیگر حالات میں داہنے ہاتھ سے اور ایک ہاتھ سے مسنون ہے لیکن لوگ عام طور پر کھانے کے دوران پانی پیتے وقت بائیں ہاتھ میں گلاس لے کر دایاں ہاتھ کا سہارا لگا کر پیتے ہیں، پھر اس میں بھی بعض حضرات دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کا سہارا لیتے ہیں، اور بعض ظاہری ہتھیلی کا، ان میں سے کونسا طریقہ شرعا مسنون و مستحب ہے؟
جواب:۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھائے تو سیدھے ہاتھ سے کھائے،اور جب پئے تو سیدھے ہاتھ سے پئے. (صحیح مسلم/٢٠٢٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر وقت سیدھا ہاتھ ہی استعمال کرنا مستحب ہے، لیکن اگر کوئی عذر ہو تو بایاں ہاتھ استعمال کر سکتے ہیں، لہذا اگر آدمی دیگر لوگوں کے ساتھ کھارہا ہے، اور سیدھا ہاتھ استعمال کرنے کی وجہ سے لوگوں کو گھن محسوس ہو اور گلاس کے خراب ہونے کا امکان ہو تب بھی سنت عمل کو ترک نہیں کرنا چاہیے –
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:- فيه استحباب الأكل والشرب باليمين وكراهتهما بالشمال… وهذا إذا لم يكن عذر يمنع الأكل والشرب باليمين من مرض أو جراحة أو غير ذلك، فلا كراهة بالشمال. شرح مسلم: ١٣/١٩١-المطبعة المصرية بالأزهر * النجم الوهاج: ٧/٣٩٠
Fiqhe Shafi Question No/0521
If an individual wants to drink water while having meals then what is its sunnah way?
In other situations drinking with right hand and with one hand is sunnah but while having meals usually people drink by lifting the glass in the left hand with support of the right hand and some take the support of the palm of the right hand and some use the back of the hand for support, so which is the sunnah and recommended way among these according to shariah?
Ans; Hazrat Ibn Umar R.A narrated that the Messenger of Allah(peace and blessings of Allah be upon him) said; when any one of you eats, let him eat with his right hand and when he drinks, let him drink with his right hand(1)
We get to know from this hadeeth that using right hand only is recommended every time.. But if there is any problem then one can use his left hand too.. Therefore if an individual is having meals with some people and by using the right hand if people feel disgusted and there is a possibility of the glass being dirty even then one must not stop following the sunnah deeds..
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ حنفی سوال نمبر/ 0151
انسانی بدن کی رطوبت پاک ہے یا ناپاک؟
جواب:۔ انسان کے منھ، ناک، کان، سے نکلنے والی رطوبت و رال بلغم اور رینٹ بھی پاک ہے۔ فتاوی تاتارخانیہ ۳۰۰/۱
Fiqhe hanafi Question no/ 0151
Is the moisture of the body considered to be pure or impure?
Ans; The moisture that are secreted from mouth, nose, ears and the saliva and phelgm are pure…
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة يونس – آيت نمبر 061-062-063-064 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0520
اگر کوئی شخص بڑھاپے کی حالت کو پہنچ گیا ہو لیکن اتنا کمزور نہ ہو کہ وہ کسب معاش نہ کر سکے بلکہ کسی قدر مشقت کے ساتھ کما کر وہ اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے تو کیا ایسے شخص کے لئے اس کی اولاد یا رشتہ دار جن کے ذمہ اسکا نفقہ واجب ہے کسب معاش پر مجبور کر سکتے ہیں؟
جواب:۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے ” ووصينا الإنسان بوالديه إحسانا ” (احقاف آیت/ 15) اور ہم نے انسان کو حکم دیا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرئے، لھذا اس آیت کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوئی کہ انسان کو ہمیشہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہنا چاہیے اور خصوصا بڑھاپے کی عمر کو پہنچنے کے بعد اسلئے اس عمر میں ان کا سہارا صرف ان کی اولاد ہوتی ہے، لھذا حسن سلوک کا تقاضا یہ ہے کہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچنے کے بعد اگرچہ کسی قدر مشقت کے ساتھ کما سکتے ہیں تب بھی اولاد کو انہیں کسب معاش پر مجبور کرنا درست نہیں ہے۔
وان لم یکن به نَقْصٌ فِي الْحُكْمِ وَلَا فِي الْخِلْقَةِ، لَكِنَّهُ كَانَ لَا يَكْتَسِبُ مَعَ الْقُدْرَةِ عَلَى الْكَسْبِ، فَإِنْ كَانَ مِنَ الْفُرُوعِ لَمْ تَجِبْ نَفَقَتُهُ عَلَى الْمَذْهَبِ، سَوَاءٌ فِيهِ الِابْنُ وَالْبِنْتُ، وَإِنْ كَانَ مِنَ الْأُصُولِ وَجَبَتْ عَلَى الْأَظْهَرِ، لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَمَرَ بِمُصَاحَبَتِهِمْ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَيْسَ مِنَ الْمَعْرُوفِ تَكْلِيفُهُمُ الْكَسْبَ مَعَ كِبَرِ السِّنِّ،. (روضة الطالبين وعمدة المفتين ٨٥/١) يشترط لوجوب الإنفاق على الأصول أن يكون الأصل فقيراً، أوعاجزاً عن الكسب: فإن كان قادراً على الكسب فتجب أيضاً نفقته عند الحنفية، والشافعية في الأظهر؛ لأن الله تعالى أمر بالإحسان إلى الوالدين، وفي إلزام الآباء بالاكتساب مع غنى الأبناء ترك للإحسان إليهم وإيذاء لهم، وهو لايجوز، ويقبح بالإنسان أن يكلف قريبه الكسب مع اتساع ماله. (الفقه الإسلامي وأدواته للزحيلى. (10/7421
Fiqhe Shafi Question No/0520
If a person reaches his oldage but he is not so weak that he cannot work for his livelihood indeed he is able to fulfill his needs by hardwork then can his children or relatives ( on whom his maintenance is compulsory) force the old man to work for his own livelihood?
Ans; Allah has commanded in the holy Qur’an ; ” ووصينا الإنسان بوالديه إحسانا ” (احقاف آیت/ 15)
“And we enjoined upon man,to his parents, good treatment…” Therefore in the light of this hadeeth, we came to know that A man should provide his marents with good treatment especially when they reach their oldage because in this age, their only support is their own children.. Therefore, the befitting of good treatment is that if one reaches his oldage and he is able to work by the hardships even then their children are not permitted to force him to work…
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب