فقہ شافعی سوال نمبر / 1299 اگر کوئی عورت (محرم یا گروپ کے ساتھ) حج کی استطاعت رکھتی ہو لیکن شوہر کے منع کرنے سے حج نہ کرسکے اور اس عورت کا انتقال ہوجائے تو کیا وہ عورت گنہگار ہوگی؟ شادی سے پہلے عورت اگر سفر حج کی طاقت نہ رکھتی ہو اور شادی کے بعد سفر حج پر قادر ہو (شرعی رکاوٹ نہ ہو) لیکن شادی کے بعد شوہر منع کرنے کی وجہ سے حج نہ کرسکے اور اس کا انتقال ہوجائے تو ایسی عورت گنہگار نہیں ہوگی، البتہ اس عورت کے مال سے حج بدل کرنا ضروری ہوگا الشیخ محمد بن محمد الشربینی فرماتے ہیں: واذا احرمت فمنعھا الزوج ومات قضي من تركتها مع كونها لا تعصي لكونه منعها۔ الا اذا تمکنت قبل النکاح فتعصی اذا ماتت (مغنی المحتاج:٣٤٧/٢) حواشی الشروانی:٣٦٨/٥ الغررالبھیہ: ٣٥٣/٤ الحاشیة الجمل:٢٧٦/٤ شرح التنبھیۃ: ٤٠٢/٣
فقہ شافعی سوال نمبر / 1298 غیر شادی شدہ شخص کے پاس صرف اتنا مال ہے کہ وہ حج کرسکتا ہے لیکن نکاح کی بھی ضرورت ہے تو وہ پہلے نکاح کرے گا یا حج کرے گا؟ اگر کسی غیر شادی شدہ شخص کے پاس صرف اتنا مال ہے کہ وہ حج کر سکتا ہے لیکن اسےنکاح کی بھی سخت ضرورت ہو اور اسے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں نکاح کو مقدم کرے گا اور حج مؤخر کرے گا الامام النووی رحمة الله علیه: وان احتاج الي النكاح وهو يخاف العنت قدم النكاح لان الحاجة الى ذلك على الفور و الحج ليس على الفور ثم ان لم يخاف العنت فتقديم الحج افضل والا فالنكاح (المجموع ١٠٧/٨) مغنی المحتاج: ٢٣٠/٣ حواشی الشروانی: ٣٢/٥ تحفتہ المحتاج: ٩/٢ المھذب : ٦٥٣/١
فقہ شافعی سوال نمبر / 1297 اگر کسی پر حج فرض تھا لیکن اس نے بغیر عذر کے حج نہیں کیا اور حج کرنے سے پہلے انتقال ہوجائے تو اس کا کیا مسئلہ ہے؟ اگر کسی پر حج فرض تھا اور اس نے استطاعت و سہولت کے باوجود ہونے بغیر کسی عذر کے حج نہیں کیا اور حج کرنے سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے تو وہ گنہگار ہوگا اور ورثا پر اس کے مال سے اس کی طرف سے قضاء حج کرنا واجب ہوگا اذا وجب علی الانسان الحج او العمرۃ ، ولکنہ تراخي عن اداءهما فلم يؤدهما حتى مات ” مات عاصيا۔ (الفقه المنهجي: ٤١٦/١) قال الامام النووي: اجمعت الامة : على ان من تمكن من الحج فلم يحج ومات لا يحكم بكفره بل هو عاص وقال: ومن وجب عليه الحج فلم يحج حتى مات بعد التمكن من الاداء لم يسقط الفرض ويجب قضاء ؤه.. (المجموع شرح المهذب:٧٦/٧) حدیث: جامع ترمذی :٢٠٢