درس حدیث نمبر 0331
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0714
کیا وارث کے لیے وصیت کرسکتے ہیں اور اس کی کیا صورت ہوگی؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلہ واضح فرمائیں
جواب:۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے، اگر وارث کے لیے وصیت کرے تو اس کے درست ہونے کے لیے دیگر ورثہ کا راضی ہونا ضروری ہے۔ اگر ورثہ میں سے کوئی بھی راضی نہ ہو تو وہ وصیت نافذ نہیں ہوگی۔
امام دارقطنی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: عن ابن عباس قال قال رسول الله علیه وسلم لا یجوز لوارث وصیة الا ان یشاء الورثة. (سنن دار قطنی:4259) امام ماوردی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: والوارث لا وصية له الا ان يجيز ذلك الورثة.(الحاوی الکبیر:277/4) امام شافعی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: فلما کان الاقربون ورثة وغير ورثة ابطلنا الوصية للورثة من الاقربين… واجزنا الوصية للاقربين ولغير الورثة. (كتاب الام:188/4) # المھذب:342/2 # الوسیط:412/4
فقہ شافعی سوال نمبر / 0712
کسی بھی فرض نماز سے پہلے والی سنت کو نماز کے بعد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب:۔ فرض نماز سے پہلے والی سنت کو اسی وقت کرنا چاہیے ہاں اگر پہلے نہ پڑھ سکے تو اس سنت کو بعد میں بھی پڑھ سکتے ہیں جس طرح سے سنن ابي داود/1267 میں فجر سے پہلے والی سنت کو فجر کی نماز کے بعد پڑھنے پر اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی رہے منع نہیں فرمایا اس معلوم ہوا کہ فرض نمازوں سے پہلے والی سنتوں کو بعد میں پڑھ سکتے ہیں۔
عظیم آبادی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:(فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم) قال الخطابي: فيه بيان أن لمن فاتته الركعتان قبل الفريضة أن يصليهما بعدها قبل طلوع الشمس، وأن النهي عن الصلاة بعد الصبح حتى تطلع الشمس إنما هو فيما يتطوع به الإنسان إنشاء وابتداء دون ما كان له تعلق بسبب۔ (عون المعبود:2/ 557) امام نووي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: رَاتِبَةٌ تَسْبِقُ الْفَرِيضَةَ فَيَدْخُلُ وَقْتُهَا بِدُخُولِ وَقْتِ الْفَرِيضَةِ، وَيَبْقَى جَوَازُهَا مَا بَقِيَ وَقْتُ الْفَرِيضَةِ. وَوَقْتُ اخْتِيَارِهَا مَا قَبْلَ الْفَرِيضَةِ. (روضة الطالبين 1/ 439) علامہ سليمان الجمل رحمة الله عليه فرماتے ہیں : وَسُنَّ قَضَاءُ نَفْلٍ مُؤَقَّتٍ ” إذَا فَاتَ كَصَلَاتَيْ الْعِيدِ وَالضُّحَى وَرَوَاتِبِ الفرائض كما تقضي الفرائض بجامع التَّأْقِيتِ۔ (حاشية الجمل:2/ 259) ★مرعاة المفاتيح: 3/ 466
فقہ شافعی سوال نمبر / 0713
کیا لوکی کھانا سنت عمل ہے؟
جواب:۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سبزیوں میں لوکی بہت پسند فرماتے تھے۔ اور لوکی اگر نبی کی پسندیدہ چیز سمجھ کر اسی نیت سے کھانا سنت عمل شمار ہوگا. جس کا ذکر صحیح بخاری میں بھی ملتا ہے اور بغیر نیت کے یوں ہی کھانے سے سنت کا اجر و ثواب حاصل نہیں ہوگا ۔ (صحیح البخاری:2092) وھبة زھیلی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: مندوب زائد: کالامور العادیة التی فعلھا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بحسب العادۃ کالاقتداء باکل الرسول وشربه واتباعه فی مشیه ونومه ولبسه ونحو ذلك ویسمی ھذا القسم سنة زائدۃ وادبا وفضیلة لان ھذہ الامور لیست تشریعا. (الوجيز في أصول الفقه١٣٠) حافظ ابن حجر رحمة الله عليه فرماتے ہیں۔فقال كان الطعام مشتملا على مرق ودباء وقديد فكان يأكل مما يعجبه وهو الدباء ويترك ما لا يعجبه وهو القديد۔ (فتح الباري :٥٢٤/٩)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0711
کیا عورت کا عورت سے مصافحہ کرنا سنت ہے؟
جواب:۔ جامع الترمذي کی روایت نمبر2727 سے صاف طور پر یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح مرد کا مرد سے ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا سنت ہے اسی طرح عورت کا عورت سے ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا بھی سنت ہے۔
علامه خطيب شربيني رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وَتُسَنُّ مُصَافَحَةُ الرَّجُلَيْنِ وَالْمَرْأَتَيْنِ لِخَبَرِ: «مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ يَتَصَافَحَانِ إلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقَا» رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَغَيْرُهُ۔ (مغني المحتاج :4/ 218) (حاشية البجيرمي علي الخطيب 3/ 385)(تحقة المحتاج مع حاشيتيه :7/ 208) (حاشية الجمل :4/ 126) (الفقه الاسلامي وادلته: 4/ 2660)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مدبنہ اردو ترجمہ : شفقت الرحمٰن
عنوان: قلبی عبادت
فضيلة الشيخ علي بن عبد الرحمن الحذيفي