درس قرآن نمبر 0769
سورة الانعام– آيت نمبر 151 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة الانعام– آيت نمبر 151 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
سوال نمبر/ 0110
اگر جماعت کھڑی ہو جائے تو جماعت کے حصول کے لئے دوڑ کر آنے کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر یہ جماعت نماز جمعہ کی ہو تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب:۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا "کہ جب جماعت کھڑی ہو جائے تو تم دوڑ کر مت آؤ بلکہ تم چل کر سکون وقار سے آؤ ۔(مسلم /1359)
فقہائے کرام نے اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں یہ بات تحریر فرمائی ہے کہ جب جماعت کھڑی ہو جائے تو اس کے حصول کے لئے دوڑ کر آنا مکروہ ہے اور اگر یہ جماعت نماز جمعہ کے لیے ہو اور جماعت کے فوت ہو نے کا اندیشہ ہو اور امام کی سلام سے قبل امام کے ساتھ ملنے کا امکان ہو تو اس صورت میں دوڑنا واجب ہوگا۔
"إذا نودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا إلي ذكرالله ‘ جب جمعہ کے دن اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرو۔(سورة الجمعة 9)
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (ﻗﺎﻝ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ)
ﻭﻛﺮﻫﺘﻢ ﺯﻋﻤﺘﻢ ﺇﺳﺮاﻉ اﻟﻤﺸﻲ ﺇﻟﻰ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻓﻘﻠﺖ ﻟﻠﺸﺎﻓﻌﻲ:ﻧﺤﻦ ﻧﻜﺮﻩ اﻹﺳﺮاﻉ ﺇﻟﻰ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﺇﺫا ﺃﻗﻴﻤﺖ اﻟﺼﻼﺓ
(ﻗﺎﻝ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ)
ﻓﺈﻥ ﻛﻨﺘﻢ ﻛﺮﻫﺘﻤﻮﻩ ﻟﻘﻮﻝ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ۔
«ﺇﺫا ﺃﺗﻴﺘﻢ اﻟﺼﻼﺓ ﻓﻼ ﺗﺄﺗﻮﻫﺎ ﻭﺃﻧﺘﻢ ﺗﺴﻌﻮﻥ ﻭاﺋﺘﻮﻫﺎ ﺗﻤﺸﻮﻥ ﻭﻋﻠﻴﻜﻢ اﻟﺴﻜﻴﻨﺔ»
ﻓﻘﺪ ﺃﺻﺒﺘﻢ۔(الأم :8/71)
علامہ ملیباری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ﻭﻳﻨﺪﺏ ﺗﺮﻙ اﻹﺳﺮاﻉ ﻭﺇﻥ ﺧﺎﻑ ﻓﻮﺕ اﻟﺘﺤﺮﻡ ﻭﻛﺬا اﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﻋﻠﻰ اﻷﺻﺢ ﺇﻻ ﻓﻲ اﻟﺠﻤﻌﺔ ﻓﻴﺠﺐ ﻃﺎﻗﺘﻪ ﺇﻥ ﺭﺟﺎ ﺇﺩﺭاﻙ اﻟﺘﺤﺮﻡ ﻗﺒﻞ ﺳﻼﻡ اﻹﻣﺎﻡ.(فتح المعين :84)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 151 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
سوال نمبر/ 0111
اگر کوئی شخص کسی بیماری کی وجہ سے مکمل دن یا کسی ایک نماز کے مکمل وقت تک بےہوش رہا تو ان نمازوں کی قضاء کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر اس کا اسی حالت میں انتقال ہو جائے تو کیا ان نمازوں کی قضاء اس کے ذمہ باقی رہیگی؟
جواب:۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم نے فرمایا "تین لوگوں سے قلم کو اٹھا لیا گیا ہے، سونے والے سے یہاں تک کہ بیدار ہو جائے مجنون سے یہاں تک کہ اس کا جنون ختم ہو جائے بچہ ہاں تک کہ بالغ ہو جائے۔(ابو داؤد 4398)
اس حدیث سے فقہاء کرام نے استدلال کیا ہے کہ مجنون سے نماز ساقط ہو جاتی ہے اس پر قیاس کرتے ہوئے اگر کوئی شخص بیماری یا کسی کی اور وجہ سے مکمل دن یا کسی ایک نماز کے وقت بے ہوش رہا تو ان نمازوں کی قضاء ضروری نہیں ، نیز اگر اسی حالت میں انتقال ہوگیا تو ان نمازوں کی قضاء اس کے ذمہ باقی نہیں رہتی البتہ قضا کرنا مستحب ہے۔
—————
امام رملی رحمة الله عليه فرماتے ہیں
ولا قضاء….ذي جنون أو إغماء ورد النص فى الجنون وقيس عليه كل من زال عقله بسبب بعذر فيه سواء أقل زمن ذلك أم طال…ويستحب للمجنون والمغمى عليه ونحوها القضاء (نهاية المحتاج1/241)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 148-149-150 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فضيلة الشيخ علي بن عبدالرحمن الحذيفي
فضيلة الشيخ صالح بن عبدالله بن حميد
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب