درس قرآن نمبر 0754
سورة الانعام– آيت نمبر -126-127-128 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة الانعام– آيت نمبر -126-127-128 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر -125-126 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0121
لنگی پہن کر امامت کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: جس لباس میں آدمی نماز پڑھ سکتا ہے اس میں امامت بھی کر سکتا ہے۔
نمازیوں کے لیے حکم خداوندی ہے اچھے کپڑے پہنیں، زیب و زینت کے ساتھ جائیں، با ادب با خشوع جائیں، کہ احکم الحاکمین کا دربار ہے۔
لباس کے سلسلے میں عرف کا اعتبار کیا جائےگا۔ جس ماحول میں لنگی مہذب لباس تصور ہوتی ہو، اور اس علاقے کے عام شرفا اس کو پہنتے ہوں تو اس لباس میں نماز پڑھنا پڑھانا دونوں صحیح ہیں۔
سوال نمبر/ 0122
جمعہ کے دن نماز کے لیے سر پر تیل ڈالنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔صحیح بخاری کی روایت میں جمعہ کے دن سر پر تیل ڈالنے کا ذکر ملتا ہے، امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن نماز سے پہلے غسل کرنا، ناخن کتروانا، مسواک کرنا، خوشبو لگانا اور سر پر تیل ڈالنا بھی سنت ہے۔
حدیث میں چونکہ "یدھن” کا لفظ استعمال ہوا ہے حافظ ابن حجر رحمة الله عليه نے لفظ "یدھن” سے مراد تیل کے ذریعہ سر کے بکھرے ہوئے بالوں کو سیدھا کرنا لکھا ہےاور اس میں جمعہ کے دن تزیین کی طرف اشارہ ہے۔(صحیح بخاری/883)
————-
قال الامام النووي:
يستحب مع الإغتسال للجمعة أن ينتظف بإزالة أظفار وشعر…… وأن يتطيب و يدهن يتسوك. (المجموع:458/4)
قال الحافظ بن حجر: قوله "ويدهن” المراد به ازالة شعث الشعر به و فيه إشارة إلى التزيين يوم الجمعة۔(فتح الباري:388/3)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سورة الانعام– آيت نمبر -123-124 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر -123-124 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0123
زیرِناف (ناف کے نیچے) بالوں کے نکالنے کی حد کہاں سے کہاں تک ہے؟
جواب:۔ دراصل زیرِناف کا لفظ کنایہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے،اور بخاری روایت میں اعانة کا لفظ حدیث استعمال ہوا ہے، اور عانۃ سے مراد وہ بال جو مرد اور مرد اور عورت کی شرمگاہ کے اوپر اور اس کے ارد گرد (اطراف) ہوتے ہیں، اور ابنِ عباس بن سریج سے منقول ہے کہ عانة سے مراد وہ بال جو پیچھےکی شرمگاہ کے اردگرد نکلتے ہیں، لھذا وہ تمام بال جو اگلی یا پچھلی شرمگاہ اور اسکے ارد گرد ہوتے ہیں ان کا حلق کرنا یعنی مکمل نکالنا مستحب ہے،اس اعتبار سے ناف کے نیچے کے بال بھی صاف کئے جا سکتے ہیں اس لئے کہ وہ بال بھی شرمگاہ کے اوپر کے حصہ میں ہوتے ہیں۔
————-
والمراد بالعانة الشعر الذي فوق ذكر الرجل وحواليه وكذاك الشعر الذي حواليه فرج المرأة، ونقل عن ابي العباس بن سريج أنه الشعر النابت حول حلقه الدبر فيحصل من جميع هذا استحباب حلق جميع ما على القبل والدبر و حواليه۔(شرح مسلم 492/1)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)