007 – سورة الاعراف – آیت نمبر – 026
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سورة بنى اسرائيل– آيت نمبر 024-025 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0648
نماز میں موبائیل کی اسکرین پر قرآن مجید دیکھ کر پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ نماز میں موبائیل کی اسکرین پر قرآن مجید کھول کر پڑھنا جائز ہے اسلیے کہ حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام تھا جن کا نام ذکوان تھا اس نے قرآن میں دیکھکر قراءت کرتے ہوئے حضرت عائشہ کی امامت کی۔ (صحيح البخاري/692) قرآن مجید کو دیکھ کر پڑھنا اور موبائیل کو اٹھانا اور اسکرین کو ہاتھ لگاکر صفحہ پلٹنا یہ سب عمل قلیل کے درجے میں ہے اس سے نماز باطل نہیں ہو گی۔
(في المصحف) إستدل به علي جواز قراءة المصلي في المصحف۔ (فتح الباري: 3/ 95) لو قرأ القرآن من المصحف لم تبطل صلاته سواء كان يحفظه أم لا بل يجب عليه ذلك إذالم يحفظ الفاتحة كماسبق ولو قلب أوراقه أحيانا في صلاته لم تبطل۔ (المجموع 4/ 27)
Fiqhe Shafi Question No/0648
What is the ruling on reciting The Holy Quran from mobile screen while on salah ?
Ans; Reciting The Holy Quran from the mobile screen in salah is permissible. As is in Hadith , there was one slave with Hazrath Aysha ( RA) whose name was Zakwan . He had performed imamat for Hazrath Aysha ( RA) by reciting the Quran whilst seeing it in salah.
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0647
بغیر عذر کے فرض نماز کو توڑنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے "ولاتبطلوا اعمالكم” اپنے اعمال کو باطل نہ کرو. فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ بغیر عذر شرعی کے نماز توڑنا جائز نہیں ہے. البتہ اگر نماز کو باقی رکھنے سے جان و مال کا خوف ہو تو اس صورت میں نماز توڑنا جائز ہے.
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: اذا دخل في صلاة مفروضة في اول وقتها حرم عليه قطعها من غير عذر وإن كان الوقت واسعا هذا هو المذهب المنصوص. (المجموع:335/2) ابن حجر رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ان كل شيئ يخشي اتلافه من متاع وغيره يجوز قطع الصلاة لأجله. (فتح الباري/1211)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0646
اوجھڑی کھانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب :۔ اوجھڑی کھانا جائز ہے اسلئے کہ قرآن وحدیث میں اس کی کوئی ممانعت نہیں آئی ہے اور اسی طرح فقہاء نے قسم کے جومسائل بیان کئے ہیں ان میں کھائی جانے والی چیزوں میں اوجھڑی کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اوجھڑی کھانا جائز ہے۔
فلا يحنث الحالف علي أكل البيض ويحمل اللحم فيمن حلف لايأكله علي لحم نعم وخيل ووحشي وطير مأكولين فيحنث بالأكل من مزكاها لا من الميتتة لا علي لحم سمك وجراد ولا شحم بطن وعين وكذا كرش وكبد وطحال وقلب في الاصح فلا يحنث بالاكل منها الحالف۔ (السراج الوهاج/577) ★منهاج الطالبين 4/ 368 ★تحفة المحتاج 4/ 304 ★النجم الوهاج 10/ 57