بھٹكل خلیفہ جامع مسجد عربی خطبہ – 31-08-2018
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0639
اگر کوئی شخص کسی ادارے میں ملازم ہو تو اس کی ڈیوٹی کے اوقات میں کوئی ذاتی کام یا ادارے کے کسی ذمہ دار کا کام کرانے کی گنجائش ہے یا نہیں؟
جواب:۔ اگر کوئی شخص کسی ادارے میں ملازم ہو تو اس کے ذمہ دار یا مینیجر کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ڈیوٹی کے اوقات میں اپنا کوئی ذاتی کام یا دوسرے کا کام اس ادارے کے ملازم سے کرائے۔
فأما الاجير المنفرد وهو إذا إستأجر رجلا شهرا ليعمل له عملا فمنفعته في هذه المدة صارت مستحقة لهذا المستأجر وليس له أن يعمل فيها لغيره۔ (بحرالمذهب 9/ 322) وإن كان الاجير منفردا وهو الذي يعمل له ولا يعمل لغيره (المهذب 2/ 622) ★البيان 7/ 337 ★المجموع 15/ 427 ★التهذيب 4/ 467
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال/ 0638
کھڑے ہو کر استنجاء کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ اگر کسی شخص کو بیٹھ کر پیشاب پاخانہ کرنے میں تکلیف ہوتی ہو تو اس کے لیے کھڑے ہوکر کرنا جائز ہے ہاں اگر کھڑے ہوکر کرنے سے چھینٹے اڑنے کا اندیشہ ہو تو پھر پیالہ یا مخصوص پیشاب کے لیے بنائے گئے باتل یا کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کے لیے بنائے گئے بیسن میں پیشاب یا پاخانہ کرے گا۔ ہاں اگر کھڑے ہوکر استنجاء کرنے سے ناپاکی کے چھینٹے اڑنے کا اندیشہ ہو تو اس جگہ سے ہٹ کر استنجاء کرے گا، اس کے باوجود بھی اگر نجاست لگ جائے تو استنجا کے بعد اس کو دھونا ضروری ہے۔
ولا يبول قائما…….. الا لعذر فلا يكره فلا يكره له ذلك، ولاء خلاف اولی فقد ثبت انه النبي صلى الله عليه و سلم أتى. سباطه قوم فبال قائما۔ (مغني المحتاج:136/1) ولاء يستنجي بماء في مجلسه بل ينتقل لانه تحصل له رشاش ينجسه ،قال في الروضه: الا في الاخلية المعدة لذلك، فلا ينتقل، لانه لا يناله فيها رشاش۔ (كنز الراغبين/ 41) لاباس بالبول في إناء (النجم الوهاج1/291)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة بنى اسرائيل– آيت نمبر 009-010-011-012 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0637
ملازمین کی تنخواہ وقت پر نہ دیتے ہوئے اس میں تاخیر کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب :۔ تنخواہ ملازمین کی محنت کی اجرت ہے اس کا بلا وجہ تاخیر کرنا جائز نہیں اسلئے کہ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اجیر کی اجرت کو اس کے پسینہ خشک ہو نے سے پہلے ادا کرو(۱) حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے (۲) ان حدیثوں کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بلاوجہ ٹال مٹول کرنا ظلم اور ناجائز ہے اگر کسی عذر کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہو تو اس کی گنجائش ہے۔ البتہ وقت پر ادائیگی کی کوشش کرنی چاہیے۔
وقال الأزهري. المطل المدافعة، والمراد هنا تأخير مااستحق أداءه بغير عذر …والمعني أنه يحرم علي الغني القادر أن يمطل بالدين بعد إستحقاقه بخلاف العاجز(۳) (مطل الغني) أي تأخيره أداء الدين من وقت إلي وقت، قوله ظلم. فإن المطل منع لأداء مااستحق أداءه وهو حرام من المتمكن ولو كان غنيا، ولكنه ليس متمنكا جاز له التأخير إلي الإمكان، ذكره النووي(۴) (۱)سنن ابن ماجہ رقم الحدیث ۲۴۴۳ (۲)صحیح البخاری رقم الحدیث ۲۲۸۷ (۳)فتح الباری ۶/ ۳۵۷ (۴)عون المعبود ۵/ ۴۴۲ ★سنن الدارمی رقم الحدیث ۲۶۲۸