فضيلة الشيخ ماهر بن حمد المعيقلي -15-07-2016
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ
عنوان / توحید اور مسلمانوں كے خون كی حفاظت
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ
عنوان / توحید اور مسلمانوں كے خون كی حفاظت
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
سوال نمبر/ 0054
کیا سلسل البول شخص پٹی اور لنگوٹ کے بجائے ٹیشو پیپر استعمال کر سکتا ہے بعض لوگ اس کو کاغذ کہتے ہیں اور یہ کاغذ کی بے حرمتی ہے ؟
جواب:۔ سلسل البول شخص لنگوٹ اور پیڈ و پٹی کے بجائے ٹیشو پیپر استعمال کرسکتا ہے .بعض ٹیشو پیپر
چونکہ نجاست کو دور کرنے ہی کے لئے خاص طور پر تیار کیا جاتا ہے. لہذا اس پر محترم اشیاء میں داخل نہیں ہے.اور نجاست دور کرنے کے لئے غیر محترم چیز کا ہونا شرط ہے یہ شرط ٹیشو میں پائی جاتی ہے.
چنانچہ فقہاء نے محترم اس کاغذ کو شامل کیا گیا ہے جسے علوم شرعیہ یا علوم شرعیہ کے لیے معین علوم میں استعمال کے تیار کیا جاتا ہے۔ لہذا ایسے کاغذ کا استعمال درست نہیں ہوگا.
قال الإمام الخطيب الشربيني رحمه الله:
المُحْتَرَم ما كتب عَلَيْهِ اسْم مُعظم أو علم كَحَدِيث أو فقه
قالَ فِي المُهِمّات ولا بُد من تَقْيِيد العلم بالمحترم سَواء كانَ شَرْعِيًّا كَما مر أم لا
كحساب ونَحْوه وطب وعروض فَإنَّها تَنْفَع فِي العُلُوم الشَّرْعِيَّة أما غير المُحْتَرَم كفلسفة ومنطق مُشْتَمل عَلَيْها فَلا كَما قالَه بعض المُتَأخِّرين
أما غير المُشْتَمل عَلَيْها فَلا يجوز(١)
_____________(١)الإقناع (١٥٤/١)
Question No/0054
Can a person suffering from urinary incontinence use tissue paper instead of piece of cloth and underwear?? Few people call it as paper and believe that it is disgrace to the paper if used in this way..Is it true?
Ans; A person suffering from urinary incontinence can use tissue paper instead of pad or piece of cloth and underwear.. Some tissue papers are specially produced to clean the impurities(najasah)..Therefore these tissue papers are not included under honourable things And to clean the najasah the use of non honourable thing is one of its condition and this condition is found in tissue paper..
Therefore fuqaha considered the papers as honourable thing which contain writings or fit to be written on, and are specially produced for islamic educational purposes..Therefore it is not permissible to use such papers in this situation..
مولانا نعمت اللہ عسكری ندوی صاحب
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة النساء – آيت نمبر -091 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
(عید الفطر خطبۃ 1437 ) اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: مقاصدِعید و خارجبوں كے لئے وعید
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة النساء – آيت نمبر -089-090 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0211
رمضان میں ایک شخص نے بیماری کی بناء پر چار/4روزے چھوڑدئے تھے اور پھر وہ صحت یاب بھی ہوگیا تھا اب رمضان کے بعد قضاء کرنے کا ارادہ تھا لیکن چھ سات ماہ کے بعد اس کا انتقال ہوگیا اور وہ قضا نہ کرسکا تو اب اس کا بھائی یا کوئی رشتہ دار اس کی طرف سے قضا کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب: فقہاء نے نقل کیا ہے کہ کسی شخص پر فرض روزوں کی قضاء باقی ہو اور اس کے لئے ان روزوں کی قضاء کے لٰئے وقت بھی مل گیا تھا لیکن نہیں رکھا اور اس کا انتقال ہوگیا تو
اس کے ایک روزے کے بدلے ایک مد اناج فدیہ غریبوں میں تقسیم کیا جائے گا یا اس کا ولی یا رشتہ دار اس کی طرف سے ان روزوں کی قضا کریگا اس لٰئے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کا اس حال میں انتقال ہوجائے کہ اس پر فرض روزے باقی ہوں تو اس کا ولی و رشتہ دار اس کی طرف سے روزہ رکھےگا (بخاری/1952)
فَوَاتُ نَفْسِ الصَّوْمِ، فَمَنْ فَاتَهُ صَوْمُ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ وَمَاتَ قَبْلَ قَضَائِهِ فَلَهُ حَالَانِ. أَحَدُهُمَا: أَنْ يَمُوتَ بَعْدَ تَمَكُّنِهِ مِنَ الْقَضَاءِ، سَوَاءٌ تَرَكَ الْأَدَاءَ بِعُذْرٍ أَمْ بِغَيْرِهِ، فَلَا بُدَّ مِنْ تَدَارُكِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ. وَفِي صِفَةِ التَّدَارُكِ قَوْلَانِ. الجَدِيدُ: أَنَّهُ يُطْعَمُ مِنْ تَرِكَتِهِ عَنْ كُلِّ يَوْمٍ مُدٌّ (روضۃ الطالبين 2 / 246)
Question No/0211
A person skipped 4 fasts of previous Ramadhan due to illness and later he recovered, he aimed to make up the missed fasts after Ramadhan but he died after 6-7 months and didnot make the missed fasts up.. so can his brother or any relative make these missed fasts up on behalf of him?
Ans; The jurists(fuqaha) narrated that if a person’s qaza fasts remain pending and he was able to make the fasts up but he did not do so and he died then for each fast, fidya(expiation) of one mudd of food may be distributed among the poor or his heirs/ relative/guardian may fast on his behalf the number of days that he did not fast So Hazrat Aaisha RA narrated that the messenger of Allah(peace and blessings of Allah be upon him) said "Whoever dies owing fasts,his heir should fast on his behalf”
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)