بھٹكل مسجدِ ابوذر غفاری گلمی روڈ عربی خطبہ – 17-08-2018
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
درس حدیث نمبر / 001
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0234
اگر کوئی شخص مکہ حج اور عمرہ کے علاوہ کسی اپنی ضرورت کی بنا پر گیا ہو تو کیا واپسی میں ایسے شخص کے لیے طواف وداع کرنا چاہیے یا نہیں.؟
جواب:۔ طواف وداع ہر اس شخص کے لیے واجب اور ضروری ہے جو مکہ سے سفر کا ارادہ کرئے چاہے وہ مکی ہو یا کسی جگہ کا ہو، خواہ حاجی ہو یا عمرہ کرنے والا ، یا پھر وہ اپنی ضرورت کی بنا پر مکہ میں داخل ہوا ہو اس لیے کہ طواف وداع مناسک حج و عمرہ میں سے نہیں ہے. بلکہ صحیح قول کے مطابق ایک مستقل عبادت ہے ۔ (مغنى المحتاج304/2) (روضة الطالبين: 395/2)
Fiqhe shafi Question No/0234
If a person visits Makkah for some purpose rather than Umrah and hajj.. so upon returning should he perform tawaaf e vida or not?
Ans: Tawaf al wada is compulsory to all those who intend to leave Makkah either he is Makki, Non makki , Haji or whether he came to perform Umrah or for some other purpose.. Though tawaf al wada is not among the obligations of either hajj or umrah but it is an everlasting worship..
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سوال نمبر/0233
حج و عمرہ کے موقع پر اکثر لوگ حطیم کعبہ میں نماز پڑھنے کے لئے حد سے زیادہ کوشش کرتے ہیں.شرعا وہاں نماز پڑھنے کی کوئی خاص فضیلت وارد ہے؟
جواب:۔ حضرت عائشہ رضي الله عنها سے روایت ہے کہ میں کعبة الله میں داخل ہوکر نماز پڑھنا چاہتی تھی. مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر حطیم میں داخل کیا اور فرمایا کہ جب تم کعبة الله میں داخل ہونا چاہو تو حطیم میں داخل ہوکر نماز پڑھ لو.چونکہ حطیم کعبۃ اللہ کا ہی حصہ ہے.اس لئے کہ جب تیری قوم نے کعبۃ ا للہ کی تعمیر کی توحطیم کو کعبۃ اللہ سے باہر رکھا (سنن ابوداود:2028)
حضرت ابن عباس رض سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کعبۃ اللہ میں داخل ہوجائے وہ نیکی اور بھلائی میں داخل ہوگیا اور برائیوں سے نکل گیا اور بخشا ہوا باہر نکلا (سنن بیہقی:7/9822)
مذکورہ دلائل کی بناء پر حطیم میں احادیث میں موجود فضیلت کے حصول کے لئے فقہاء نے حطیم میں نماز ادا کرنا اور دعاء کرنا مستحب قرار دیا ہے.اس لئے کہ اس میں دعا قبول ہوتی ہے.البتہ واضح رہے کہ اس فضیلت کے حصول کے لئے عام طور پر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے جو بھیڑ اور ایک دوسرے کو ڈھکیل کر تکلیف اور ایذا رسانی کا سبب بنتے ہیں اس سے احتیاط برتنا چاہیے اس لئے کہ کسی کو تکلیف پہچانا جائز نہیں ہے. (مغنی المحتاج:2/272) (المجموع:8/196)
Fiqhe Shafi Question No/0233
During the period of Hajj and Umrah most of the people tries their best to reach hateem and perform Salah there.. According to sharia Is there any special greatness or proficiency for performing Salah in hateem?
Ans: Hazrat Aisha R.A said when i expressed the wish to perform salah within Kabah then Prophet(peace and blessings of Allah be upon him) took me by the hand and led me into the hijr(hateem) where he said ‘ Perform Salah here if you wish to enter the Kabah as this is a part of Kabah.. because when the people of your nation built kabah,they placed hateem out of the Kabah ( adjacent to the kabah) (Sunan abu dawood:2028)
Hazrat Ibn Abbas R.A narrated that Prophet sallallahu alaihi wasallam said: Whoever enters Kabah as though he entered in goodness and virtue.. (Sunan Baihaqi: 9822/7)
Based on mentioned hadeeths that reveals the achievement of proficiency by praying salah in hateem , The scholars(fuqaha) revealed that praying salah and supplicatting in hateem are desirable acts..Because the supplications made in hateem get accepted .. However,This should be made clear that to achieve the greatness and proficiency of praying salah in hateem people usually thrust and push eachother in the crowd and trouble others so such acts must be avoided.. Because it is not appropriate to trouble others..
فقہ شافعی سوال نمبر / 0633
اگر قربانی کے گائے کے پستان پر زخم ہو یا پستان ہی نہ ہو تو ایسی گائے کی قربانی درست ہوگی یا نہیں؟
جواب:۔ اگر قربانی کے گائے کے پستان پر زخم ہو تو اس کی قربانی درست نہیں ہوگی، اسی طرح اگر گائے کے پستان کو بھیڑیے وغیرہ نے کاٹ دیا ہو کسی دوسری چیز سے پستان کٹ گئے ہوں تو ایسی گائے کی قربانی بھی درست نہیں ہوگی، ہاں اگر پیدائشی طور پر پستان ہی نہ ہوں تو ایسی گائے کی قربانی درست ہے۔
قلت الصحيح المنصوص يضر يسيرالجرب والله اعلم لأنه يفسد اللحم والودك وألحق به البثور والقروح ۔ (تحفة المحتاج: ٢٥٧/٤) وَلَوْ قَطَعَ الذِّئْبُ أَوْ غَيْرُهُ أَلْيَتَهَا أَوْ ضَرْعَهَا لَمْ تُجْزِئْ عَلَى الْمَذْهَبِ۔ (المجموع :٢٩٥/٨) وتجزئ الَّتِي خلقت بِلَا آلية أَو ضرع فِي الأصح۔ (فاية الأخيار/٦٣٠)
Fiqhe Shafi Question No/0633
If there is an injury on the udders (breasts) of a sacrificing cow or there are no udders then is it permissible to slaughter this cow?
Ans; If there is an injury on the udders of a sacrificing cow then it is not appropriate to slaughter this animal.. Similarly, if an wolf bites the udders of the cow or if it is cut off due to some other means then slaughtering of this animal is not permissible.. However, if there are no udders by birth then it is permissible..
سوال نمبر/ 0232
ایام حج میں اگر منی وعرفات کے قیام کے موقع پر جمعہ کا دن آجائے تو وہاں جمعہ قائم کرنا چاہیے یا نماز ظہر ادا کرنا چاہیے؟
جواب:۔ایک حدیث پاک میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حج کیا تو اس سال وقوف عرفہ جمعہ کا دن تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بجاے ظہر کی نماز ادا کی تھی (مسلم:2218)
اس حدیث کی روشنی میں فقہاء کرام استدلال کرتے ہیں کہ عرفہ اور منی میں قیام کے دوران اگر جمعہ کا دن آجائے تو نماز جمعہ نہیں بلکہ نماز ظہر ادا کریں گے. اس لئے کہ ان مقامات پر نماز جمعہ کے قیام کے شرائط پائے نہیں جاتے. نیز عام طور حجاج ان مقامات پر مسافر ہوتے ہیں اور مسافر پر جمعہ واجب نہیں ہے۔. (البیان:4/295) (مغنی المحتاج2/280)
Fiqhe Shafi Question No/0232
During the days of hajj, If Friday meets the day of stay at Arafah and Mina ..Do the people have to pray jumma or can they perform Zuhr prayer?
Ans: It is stated in one of the hadeeth that when our Prophet (peace and blessings be upon him) performed hajj ,the day of stay at Arafah was Friday and the Prophet( peace and blessings be upon him) performed zuhr prayer instead of jumma prayer.. (Muslim: 2218) In accordance to this hadeeth the great scholars revealed that if friday meets to the day of stay at Minah and Arafah then zuhr prayer is to be performed instead of jumma prayer..Because the provisions for performing jumma prayer cannot be found in these places.. However, Usually the people performing hajj are travellers to these places and Jumma prayer is not compulsory to the travellers..