شب برات کے متعلق چند خصوصی نصیحتیں
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سورة ابراهيم – آيت نمبر 36-37 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0599
اگر کوئی شخص رمضان کا روزہ جماع کے علاوہ کسی اور طریقہ سے جان بوجھ کر بغیر کسی شرعی عذر کے روزہ توڑ دے تو اس روزے کا صرف قضا کرنا ہوگا یا قضا کے ساتھ کفارہ بھی ادا کرنا ہوگا ؟
جواب:۔ رمضان المبارک کا روزہ اگر کوئی شخص جماع کے علاوہ کسی اور طریقہ سے جان بوجھ کر بغیر کسی شرعی عذر کے توڑ دے تو ایسے شخص پر صرف اس روزے کی قضا کرنا لازم ہوگا کفارہ کی ضرورت نہیں۔ البتہ بغیر شرعی عذر روزہ توڑنے کا گناہ ہوگا ۔
قال الإمام النووي رحمة الله عليه:
ولو أفسد صومه بغير الجماع كالأكل، والشرب، والاستمناء، والمباشرات المفضية إلي الإنزال فلا كفارة لان النص ورد في الجماع. (روضة الطالبين وعمدة المفتين:٢/٣٧٧) قال الإمام النووي رحمة الله عليه: قد ذكرنا أنه إذا استمنى متعمدا بطل صومه ولا كفارة. (المجموع ٦/٣٥٤) * الأم ٣/٢٥٢ * مغنى المحتاج ٢/١٩٣ * بحر المذهب ٤/٢٩١ * نهاية المطلب ٣/٥١٤
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0598
اگر کسی میت پر باقی روزے اس کے اولیاء نہیں رکھ رہے ہوں تو کیا کسی اجنبی کو اجرت دے کر ان روزوں کو رکھوانے کی گنجائش ہے؟
جواب:۔ اگر کسی شخص کے رمضان کے روزے چھوٹ گئے ہوں اور قضاء کرنے سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے مثلا روزے چھوٹنے کے بعد سے وہ برابر موت تک مسافر یا بیمار ہو تو قضاء اور کفارہ کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ قضاء کرنا ممکن ہونے کے بعد اس کا انتقال ہوجائے تو پھر میت کے اولیاء اس کی جانب سے روزے رکھیں گے اور اگر اولیاء روزے نہ رکھیں بلکہ کسی اجنبی شخص کو میت کی جانب سے روزے رکھنے کے لئے اجرت دیں تو اس طرح اجرت پر میت کی طرف سے روزے رکھوانے کی گنجائش ہے ۔
(مَنْ فَاتَهُ) مِنْ الْأَحْرَارِ (شَيْءٌ مِنْ) صَوْمِ (رَمَضَانَ فَمَاتَ قَبْلَ إمْكَانِ الْقَضَاءِ) بِأَنْ اسْتَمَرَّ مَرَضُهُ أَوْ سَفَرُهُ الْمُبَاحُ إلَى مَوْتِهِ (فَلَا تَدَارُكَ لَهُ) أَيْ الْفَائِتِ بِالْفِدْيَةِ وَلَا بِالْقَضَاءِ لِعَدَمِ تَقْصِيرِهِ (وَلَا إثْمَ)… وَإِنْ مَاتَ بَعْدَ التَّمَكُّنِ لَمْ يَصُمْ عَنْهُ وَلِيُّهُ فِي الْجَدِيدِ…لَوْ صَامَ أَجْنَبِيٌّ بِإِذْنِ الْوَلِيِّ) أَيْ الْقَرِيبِ أَوْ بِإِذْنِ الْمَيِّتِ بِأَنْ أَوْصَى بِهِ سَوَاءٌ أَكَانَ بِأُجْرَةٍ أَمْ لَا (صَحَّ) (مغني المحتاج :١٨٦/٢) (البيان : ٥٤٣/٣) (المجموع : ٣٧٢/٦)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)