رمضان ایک منٹ كا سبق نمبر 11 – 2013
مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ
عنوان : روزے کے اہم مسائل
مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ
عنوان : روزے کے اہم مسائل
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0608
دوکان کے فرنیچر اور سامان لانے کے لئے متعین شدہ گاڑیوں پر کیا زکوة واجب ہے؟
جواب:۔ دوکان کے فرنیچر اور سامان لانے کے لئے متعین شدہ گاڑیوں پر زکوة واجب نہیں ہے۔
لا يدخل في الأمور التجارية التي يجب تقويمها الأثاث وما في معناه والأجهزة الموجودة في المحل لقصد الاستعانة بها لا لقصد بيعها فلا زكاة عليهما مهما بلغت قيمتها۔ (الفقه المنهجى ۱/٣٠٤)
فضيلة الشيخ احمد بن طالب حميد
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الحجر– آيت نمبر 19-20-21 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0243
بعض بلڈر حضرات بڑی بڑی عمارتیں بناکر اس کے فلیٹ فروخت کرتے ہیں یا کبھی کرایہ پر دیتے ہیں تواس طرح کی عمارتوں کی زکاۃ نکالنا واجب ہے ؟
جواب: جو عمارتیں براے فروخت ہوتی ہیں جیسا کہ دور حاضر میں فلیٹ فروخت کئے جاتے ہیں ایسی عمارتوں کی قیمت نصاب کے بقدر ہو اور ایک سال گذر جائے تو مالک پر زکاۃ واجب ہوگی بشرط یہ کہ عمارت کی تعمیر براے فروخت مکمل ہوچکی ہو . لیکن وہ عمارتیں جن سے کرایہ کے طورپر آمدنی حاصل ہوتی ہے. جیسا کہ جہاز فیکٹری.اور کاریں جو برائے کرایہ ہوں اور جانوروں کے فارم یا پولٹری فارم ایسے آمدنی کے وسائل پر براہ راست زکوۃ واجب نہیں ہے بلکہ ان سے ہونے والی آمدنی پر زکوۃ واجب ہے بشرطیکہ وہ بقدر نصاب ہو.اور اس پراسلامی ایک سال مکمل گذر چکا ہو.اس صورت میں 5ء2 زکوۃ واجب ہوگی. (الفقہ الاسلامی وادلتہ:3/1948)
مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ
عنوان : روزے کے اہم مسائل
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: حقیقی روزے دار کون؟
فضيلة الشيخ عبد المحسن بن محمد القاسم
فضيلة الشيخ ماهر بن حمد المعيقلي