مدينة المنوّرة دعاء – 01 رمضان 1439
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
سوال نمبر/ 0170
اگر کسی شخص کا صبح صادق کے بعد سفر کا ارادہ ہو تو اس ارادے کی وجہ سے ایسے شخص کو اس دن کا روزہ نہ رکھنا جائز ہے ؟
جواب :اللہ رب العزت کاارشادہے: فمن شھدمنکم الشھر فلیصمه (البقرہ:158)
اس آیت کے ضمن میں امام رازی فرماتےہیں. روزہ اس شخص پر فرض ہے جو روزہ کے وقت مقیم ہو مسافرنہ ہو . (احکام القرآن 1/256)
لہذا جو روزہ کی ابتداء کے وقت مقیم ہوگا اس پر روزہ رکھنا فرض ہوگا. اگر صبح صادق کے بعد سفر کا ارادہ ہو تو اس ارادہ سفر کی بناء پر روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے ، اس لیے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنے کے جواز کے لیے یہ شرط ہے کہ صبح صادق سے پہلے پہلے ہی اپنے گاوں کی ابادی چھوڑدے، اس لیے اگر کسی کا صبح صادق کے بعد سفر کا ارادہ ہو تو روزہ رکھے پھر دوران سفر روزہ مشکل معلوم ہوتو روزہ توڑ دے اور بعد میں قضاء کرلے ۔
قال الإمام إبن حجر الهيتمي رحمه الله:
أنَّ شَرْطَ الفِطْرِ فِي أوَّلِ أيّامِ سَفَرِهِ أنْ يُفارِقَ ما تُشْتَرَطُ مُجاوَزَتُهُ لِلْقَصْرِ قَبْلَ طُلُوعِ الفَجْرِ وإلّا لَمْ يُفْطِرْ ذَلِكَ اليَوْمَ…وإنْ أصْبَحَ صائِمًا ثُمَّ (سافَرَ فَلا) يُفْطِرُ بِعُذْرِ السَّفَرِ بِخِلافِ ما إذا غَلَبَهُ الجُوعُ أوْ العَطَشُ كَما هُوَ ظاهِرٌ.تَغْلِيبًا لِلْحَضَرِ؛(١)
_____________
(١)تحفة المحتاج (٥٢٢,٥٢٣/١)
(٢) كتاب الأم (٢٥٦/٣)
Fiqhe Shafi Question No/0170
If a person has the intention of travelling after sunrise then is it allowed for this person to leave his fast?
Ans: with reference to Surah Baqarah verse number 158, in connection with this verse Imam Razi says that fasting is compulsory on that person who is stationed and not a traveller. Therefore that person who is stationed at the time of fast on him fasting is compulsory. If a person has the intention of travelling after sunrise then based on his intention of travelling he can leave that fast but the condition for this is that before sunrise the person must leave his place and go. That is why if a person has the intention of travelling after sunrise then he must keep the fast after which if he finds the fast becoming difficult during travelling then he can break his fast and he must keep the qaza fast later on.
فضيلة الشيخ عبدالله عواد الجهني
سورة الحجر– آيت نمبر 03-04-05-06-07-08 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سوال نمبر/ 0171
اگر کوئی شخص دائم المرض (یعنی ہمیشہ کا بیمار) ہونے کی وجہ سے پورا مہینہ روزہ نہ رکھ سکا تو مکمل مہینہ کا ایک ساتھ اپنے روزہ کا فدیہ اداکرے گا یا روزانہ ہر روزہ کا ادا کرنا چاہیے ؟
جواب : دائم المرض یعنی ہمیشہ کا بیمار شخص پورے مہینہ کا فدیہ چاہے تو مہینہ مکمل ہونے کے بعد ایک ساتھ یا روزانہ کا فدیہ روزانہ بھی ادا کرسکتا ہے ایسے شخص کو دونوں باتوں کا اختیار ہے یاد رہے ہر روزہ کے بدلہ ایک مد چاول تقریباً چھ سو گرام فدیہ (اس شہر کا اناج )چاول یا گہیوں کا حساب لگائے گا (حوالہ الفتاوی الکبری لابن حجر 74/1)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)