پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0365
جس شخص کوپیشاب کے قطرے وقتافوقتاگرتے رہتے ہوں۔ ایساشخص احرام کی حالت میں انڈرویریالنگوٹ پہن سکتاہے یانہیں؟
جواب: اگرکسی شخص کو پیشاب کے قطروں کے نکلنے کامرض ہوتواس کے لیے حالت احرام میں پیشاب کے قطروں کوروکنے کے لئے کسی ایسی چیزکے استعمال کی گنجائش ہے جس سے اس کے پیشاب کے قطرے اس کے جسم اوراحرام کونہ لگ سکے،لہذااگر معمولی کپڑاباندھنے سے رک سکتے ہیں توپھراس سے بڑھ کرلنگوٹ یا کوئی اورچیزاستعمال نہیں کرسکتے،اس لئے کہ اصل پیشاب کے قطروں سے احرام اوربدن کوبچاناہے،اس اعتبار سے جس چیزسے یہ مقصدحاصل ہوسکتاہے اس کوچھوڑکرکسی اورچیزکےاستعمال کی گنجائش نہیں ہوگی.
اوربقدرضرورت کسی کپڑے یالنگوٹ کواستعمال کرنے کی صورت میں نہ اس پرفدیہ واجب ہوگااورنہ وہ فعل حرام کامرتکب ہوگا.
يباح للحاجة ولا حرمة فيه ولا فدية، وهو لبس السراويل؛ لفقد الإزار والخف المقطوع لفقد النعل، وعقد خرقة على ذكر سلس لم يستمسك بغير ذلك(١)
_____________(١)شرح المقدمة الحضرمية (٦٦٧/١)
*اعانة الطالبين (٢٠٥/٢)
پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0364
حاملہ سے وطی کا کیا حکم ہے؟
جواب: حضرت جدامہ بنت وہب الأسدية رض فرماتی ہیں کہ انهوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : میں نے یہ ارادہ کیا کہ لوگوں کو غیلہ سے منع کروں یہاں تک کہ مجهے اس بات کا علم ہوگیا کہ اہل روم اور فارس غیلہ کرتے ہیں لیکن ان کی اولاد کو کوئ نقصان لاحق نہیں ہوتا ہے (مسلم 3564)
مذکورہ حدیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداءً غیلہ سے منع کرنے کا ارادہ کیا تھا لیکن جب کسی نقصان کو اس میں نہیں پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا اور علامہ ماوردی رح نے لفظ غیلہ کاایک مطلب حاملہ سے وطی کرنابیان کیا ہے لہذاحاملہ عورت سے وطی جائزہے.
البتہ فقہاء کرام نے یہ بات نقل کی ہے کہ اگر حاملہ عورت سے وطئ کرنے میں بچے کو کسی تکلیف کا اندیشہ نہ ہو تو جائز ہے لیکن اگر تکلیف کا اندیشہ ہو تو مکروہ ہے اور اگر غالب گمان ہوتو اس صورت میں وطئ کرنا حرام ہے. (نهاية المحتاج 6/209) (الحاوي الكبير11/199) (فتاوي اللجنة الدائمة18/247)
ونَهى عَنْهُ مَعَ قَوْلِهِ فِي الغِيلَةِ: «أرَدْتُ أنْ أنْهى عَنْها ثُمَّ عَرَفْتُ أنَّ الرُّومَ لا يَضُرُّهُمْ» يُرِيدُ فِي الحَمْلِ الحادِثِ مِنهُ فَدَلَّ ذَلِكَ مِن قَوْلِهِ ومِن إقْرارِهِ عَلى أنَّهُ لا يَتَنافى فِي اجْتِماعِ الحَيْضِ والحَمْلِ (الحاوي الكبير11/199)
پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0363
نماز پڑھنے کے لیے عورتوں کا ستر کتنا ہے اگر ستر کهلا ہوتو نماز ہوگی؟
جواب: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی بالغہ کی نماز کو ستر کے ساتھ ہی قبول کرتے ہیں (أبو داؤد 641)
الله تعالى فرماتے ہیں : اور عورتیں اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر اس میں سے جوحصہ ظاہر ہوتا ہے (سورہ نور 31)
علامہ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکها ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباس الاماظھرکے متعلق فرماتے ہیں کہ اس سے مراد چہرہ اور ہتهیلی ہے۔ کہ یہ دونوں عضونمازمیں سترنہیں ہیں. (تفسیرابن کثیر:6/145)
چنانچہ فقہاء کرام نے اس آیت وحدیث کی روشنی میں استدلال کیا ہے کہ عورت کے لئے نماز میں ستر مکمل بدن ہے سوائے چہرے اور ہتھیلی کے. لہذاان دونوں عضو کے علاوہ بدن کا کوئ عضویابعض حصہ کهلا رہا تو نماز صحیح نہیں ہوگی ۔
(المجموع166/3)
(فتح العزيز 4 / 83)
فان انكشف شئ من العورة مع القدرة لم تصح صلاته)
(المجموع166/3)
وعورة الحرة جميع بدنها الا الوجه واليدين إلى الكوعين وظهر القدم عورة في الصلاة (فتح العزيز 4 / 83)
(المجموع166/3)
(فتح العزيز 4 / 83)
پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0362
بچے کی پیدائش پر کوئی عورت بچے کے کان میں اذان دینا چاہے تو اسکی اجازت ہے یا نہیں ؟
جواب: حضرت ابورافع رض فرماتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوحضرت حسن رض کی پیدایش کے وقت ان کے کان میں اذان دیتے ہوے دیکھا (سنن ترمذی :1514)
حضرت حسين بن علي رضي الله عنه فرماتے ہیں كه رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا جس کسی کے یہاں کوئی بچہ پیدا ہو پھر وہ اسکے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہے تو اسکو ام صبیا ( ایک قسم کی بیماری) نقصان نہیں پہونچائے گی (عمل الیوم واللیلة 623)
مذکورہ حدیث سےفقہاء نے استدلال کیا ہے بچے کے ایک کان میں اذان اور دوسرے کان میں اقامت دینا سنت ہے نیز عورت کے اذان دینے سے بھی سنت حاصل ہوگی،لہذا عورت اذان دے سکتی ہے- (المجموع 334/8)
پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0361
والد اپنی حیات میں جائیداد تقسیم کرناچاہے توکیا اسے میراث میں متعینہ حصوں کے اعتبارسے تقسیم کرناچاہیے؟یامذکرومؤنث میں برابری شرط ہے؟
جواب: اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں : مردوں کے لئے حصہ ہے اس چیز میں سے جس کو ماں باپ اور بہت نزدیک کے قرابت دار چهوڑ جاویں (سورہ نساء. .7)
مذکورہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد والدین کے انتقال پر ان کے چهوڑے ہوئے مال کی وارث ہوتی ہے.اسی وجہ فقہاء کرام نے وراثت تقسیم کرنے اوروارثین کااپنے مورث کے مال کامالک بننے کے لیے مورث(جس کی میراث ہے ) کا مرنا شرط قراردیا ہے لہذا مورث کی زندگی میں میراث تقسیم کرنا صحیح نہیں ہے البتہ باپ اپنے زندگی میں هبہ، هدیہ،یا موجودہ مال سے کسی چیز کو خرید کر دینے کے ذریعہ تقسیم کرسکتاہےاور جب زندگی میں تقسیم کرے تو بیٹا اور بیٹی کے درمیان برار دینا سنت ہے اور زندگی میں کم زیادہ دینا مکروہ ہے لہذا اگر کوئ شخص اپنی زندگی میں میراث میں مقررحصوں کے اعتبارسے کمی زیادتی کے ساتھ تقسیم کرے تو اس کی بھی گنجائش ہے
وأمّا شُرُوطُ الإرْثِ فَهِيَ أرْبَعَةٌ أيْضًا: أوَّلُها: تَحَقُّقُ مَوْتِ المُورَثِ، …..(١)
فِي كَيْفِيَّةِ العَدْلِ بَيْنَ الأوْلادِ فِي الهِبَةِ، وجْهانِ. أصَحُّهُما: أنْ يُسَوِّيَ بَيْنَ الذَّكَرِ والأُنْثى. (٢)
_____________(١) مغني المحتاج (١٠/٤)
(٢) روضة الطالبين (٣٧٩/٥)
*السراج الوهاج (٣٠٨)
پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0360
بعض جگہوں پرجنازہ قبرستان لے کرجاتے وقت لوگ بلندآواز سے کچھ اذکار پڑھتے ہیں.اس کا شرعا کیا حکم ہے؟
جواب: حضرت قيس بن عباده رضي الله عنه فرماتے ہیں رسول اللہ صلي الله کے اصحاب جنازہ کے وقت بلند اواز کرنے کو ناپسند کرتے تھے (سنن کبری للبیہقی 7182)
اور مصنف ابن ابی شیبہ کی ایک روایت میں ہے ابن عمر رضي الله عنه نے ایک شخص کو لے جاتے وقت بلند اوازسے استغفر اللہ کہتے ہوئے سنا تو انہوں نے فرمایا اللہ اسکی مغفرت نہ کرے (11192)
فقہاء نے ان احادیث کی بناء پر یہ استدلال کیا ہے کہ جنازہ لے جاتے وقت خاموشی اختیار کرے، ذکر وغیرہ بھی بلندآوازمیں نہ کرے ،بلکہ موت اور موت کے بعد والی زندگی اوردنیا کے فنا ہونے کو یاد کرے کہ موت کے آنے کے بعد اسکی دنیا کی زندگی ختم ہوگی البتہ آہستہ اواز سے ذکر اور تلاوت قران میں مشغول رہناسنت ہے-
وَيُكْرَهُ) (اللَّغَطُ) بِفَتْحِ الْغَيْنِ وَسُكُونِهَا وَهُوَ ارْتِفَاعُ الْأَصْوَاتِ (فِي) سَيْرِ (الْجِنَازَةِ) لِمَا رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ أَنَّ الصَّحَابَةَ – ﵃ – كَرِهُوا رَفْعَ الصَّوْتِ عِنْدَ الْجَنَائِزِ وَالْقِتَالِ وَالذِّكْرِ، وَكَرِهَ جَمَاعَةٌ قَوْلَ الْمُنَادِي مَعَ الْجِنَازَةِ اسْتَغْفِرُوا اللَّهَ لَهُ، ( نهاية المحتاج 23/3)
پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0359
کیا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنا ضروری ہے ؟
جواب: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ کهائے پهر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کئی (مسلم 354)
فقہاء کرام نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ بکری اور اونٹ وغیرہ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا لیکن وضو کرنا مستحب ہے اور جس روایت میں اونٹ کا گوشت کهانے سے وضو کاتذکرہ ہے اس سے مراد ہاتھ وغیرہ کا دهونا ہے یعنی وضو لغوی مراد لیا ہے (البيان 1/194) (المھذب مع المجموع:2/69)
پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0358
احرام کی حالت سر مندھانے سے پہلے اگر کسی کا انتقال ہوجائے تو اس شخص کا سر مندھانا ضروری ہے ؟
جواب: حضرت ابن عباس رضی اللہ فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ تھے ایک شخص اونٹ پر سے گڑا اور مرگیا تو اللہ کے نبی نے فرمایا اسکے سر کو نہ ڈھاکو (بخاري 1265)
فقہاء نے اس حدیث کی روشنی میں یہ مسئلہ بیان کیا ہے اگر کسی کا احرام کی حالت میں انتقال ہوجائے تواسکے بالوں میں سے کچھ بھی بال نکالنا حرام ہے۔
لہذااس کو بغیرسر مندھائے ہی دفن کیا جاے گا.نیز کفن پہناتے وقت اسکے سر کو کھلا رکھنا ضروری ہے.
إذَا مَاتَ المحرم والمحرمة حرم تطييبه وأخذ شئ مِنْ شَعْرِهِ أَوْ ظُفْرِهِ وَحَرُمَ سَتْرُ رَأْسِ الرجل (المجموع 5/ 162)
پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0357
بیوی کے انتقال پر شوہر بیوی کو غسل دے سکتا ہے؟
جواب: حضرت اسماء بنت عمیس رض سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ رض کے انتقال کے بعد انھیں غسل دینے میں حضرت علی رض شریک تھے (معرفۃ السنن والاثار:7357)
اس دلیل کی بناء پرفقہاء نے کسی عورت میت کوغسل دینے کے لئے اس کے شوہرکوغسل کی اجازت دی ہے.لہذاشوہرکے لئے اپنی بیوی کوغسل میت دینا جائز ہے.البتہ بہتر یہ ہے کہ عورت میت کوعورتیں ہی غسل دیں.
وَيُغَسِّلُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إذَا مَاتَتْ، وَالْمَرْأَةُ زَوْجَهَا إذَا مَاتَ، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: تُغَسِّلُ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا، وَلَا يُغَسِّلُهَا، (الأم 1/311)
پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال.نمبر/ 0356
مرد کے لے کس دھات کی انگوٹھی پہننا درست ہے؟اوراس کے پہننے کی کیفیت کیا ہے؟
جواب: حضرت انس رض فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اوراس کانگینہ بھی چاندی کا تھا (بخاری:5870)
حضرت سہل بن سعدرض فرماتے ہیں کہ ایک شخص سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نکاح کرواگرچہ بطورمہرلوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو (بخاری :515)
ان احادیث کی روشنی میں مرد کے لئے چاندی لوہا,پیتل,اورسیسہ, کی ایک انگوٹھی یاایک سے زائد انگوٹھی پہننا جائز ہے. جب کہ ایک سے زیادہ انگوٹھی پہننے کارواج ہو اورلوگوں کی عادت ہو، اورانگوٹھی دائیں ہاتھ کی چھوٹھی انگلی میں پہننا افضل ہے.چھوٹھی انگلی سے متصل انگلی اورانگوٹھے میں پہننا جائز ہے. شہادت کی انگلی اوراس سے متصل درمیانی انگلی میں پہننا مکروہ تنزیہی ہے ۔
قوله: يجوز للرجل) ومثله الخنثى، بل أولى.
(قوله: بخاتم فضة)……… ومثل خاتم الفضة: خاتم حديد، أو نحاس، أو رصاص، لخبر الصحيحين: التمس ولو خاتما من حديد. …(قوله: في خنصر يمينه) متعلق بيسن، ويصح تعلقه بيجوز. وخرج بالخنصر: غيره، فيكره وضع الخاتم فيه (اعانة الطالبين.. 243/2)
پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال.نمبر/ 0354
اگرکوئی حائضہ عورت عصرکے وقت پاک ہوگئی تواسے عصرکے ساتھ ظہربھی ادا کرناضروری ہے؟
جواب: حضرت عبدالرحمن بن عوف ایک حدیث میں نقل کرتے ہیں کہ حایضہ عورت طلوع فجر سے ایک رکعت کی اداییگی کے بقدرپہلے پاک ہوجاے تواس پرمغرب اورعشاء دونوں لازم ہیں اورغروب آفتاب سے پہلے ایک رکعت کے بقدرپہلے پاک ہوجاے تواس پرعصروظہرواجب ہے.(١)
📝اس حدیث کی روشنی میں فقہاء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ عصرکے وقت حیض سے پاک ہونے والی عورت پرعصرکی نماز کے ساتھ ظہرکی نمازکی قضاء ضروری ہے جب کہ عصرکے وقت میں سے اتناوقت پہلے وہ پاک ہوگی ہوکہ غسل کرکے عصرکی نماز میں سے کم ازکم ایک رکعت وقت کے اندرپڑھ سکے،جیساکہ جس مسافرکوظہرسفرکی وجہ سے اس کے وقت میں پڑھنا ممکن نہ ہوتواس کے لئےعصر کے وقت میں عصرکے ساتھ ظہرکی ادائیگی جمع تاخیرکی صورت میں ادا کرناضروری ہوجاتا ہے.
📌📖لا تلزمه الصلاة الأولى، إلا إذا أدرك من وقت الصلاة الثانية قدر ركعة، وهو الأصح؛ (٢)
📚📚المراجع📚📚
١.(سنن دارمی:١/٦٤٥)
٢.البيان ٢/٤٤
پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0353
اگر کوئ شخص جہری نماز کو سرا پڑھے یا سری نماز کو جھرا پڑھے تو کیا حکم ہے؟
جواب: حضرت قتادہ رض فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے. پہلی رکعت کو دوسری رکعت کی بہ نسبت طویل کرتے اور کبھی کبھی کوئ آیت درمیان میں سے سنا دیتے تھے .(١)
📝حافظ ابن حجررح فرماتے ہیں کہ مذکورہ حدیث سری نماز میں جہرا قرات کرنے کے جواز اور اس میں سجدہ سھو نہ کرنے پردلیل ہے. (٢)
📕لہذااگر امام نے کبھی جھری نماز میں سرا(آہستہ ) قرآت کی یا اس کے بر عکس سری نمازمیں جھرا قرآت کی تو اس نماز کی صحت متاثر نہیں ہوگی اور نہ ہی سجد سھو کی ضرورت ہوگی کیونکہ نماز میں قرات سرا(آہستہ) اور جھرا(بلندآوازمیں )پڑھنایہ سنن ہیات میں شامل ہے جس کے ترک پر سجد سھو کی ضرورت نہیں ہے البتہ اس قسم کی سنن ہیئات کوترک کرنا مکروہ تنزیہی ہے .
📌📖قوله : (في موضعه ) اي الجهر و اذا اسر في موضع الجهر او جهر في موضع الاسرار كره الا لعذر.(٣)
📚📚المراجع📚📚
١.بخاری ٧٧٨
٢.فتح الباری ١/٣١١
٣.حاشية البيجوري ١/٢٤٩
پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0352
برہنہ غسل کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: حضرت معاویہ بن حیدہ رض سے روایت ہے کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم کس قدرستر کریں اورکس قدرچھوڑدیں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اپنی بیوی اورباندی کے علاوہ ہرایک سے ستر کروتوانھوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول جب میں تنہا رہوں تواس وقت ستر کے بارے میں کیاخیال ہے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ان سے حیا کی جاے. (١)
📕اس حدیث کی روشنی میں فقہاء نے غسل کے دوران سترکوافضل قرار دیاہے.لہذاغسل کے دوران جس قدرممکن ہوسکے سترپوشی کا اہتمام کرنابہتر اورمناسب ہے.اوراس کی کوشش بھی کرنی چاہی . (٢)
📝البتہ لوگوں کی عدم موجودگی کی صورت میں برہنہ غسل کرنے کاجواز نقل کیا ہے.اس لئے کہ حضرت ابوہریرہ رض آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام برہنہ غسل کررہے تھے .
📕واضح رہے کہ لوگوں کے سامنے برہنہ یاستر کا بعض حصہ چھپاکربقیہ ستر کھول کر غسل کرناحرام ہے.اس سے اجتناب ضروری ہے.
📌📖لا يَجُوزُ الغُسْلُ بِحَضْرَةِ النّاسِ إلّا مَسْتُورَ العَوْرَةِ فَإنْ كانَ خالِيًا جازَ الغُسْلُ مَكْشُوفَ العَوْرَةِ والسَّتْرُ أفْضَلُ.(٣)
📚📚المراجع📚📚
١.(ترمذی:٢٧٦٩)
٢.(بخاری:٢٧٨)
٣.المجموع ٢٢٦/٢, ٢٢٧
پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0351
بعض لوگ دعائیہ سجدہ کے نام سے نماز کے باہرسجدہ کرکے سجدہ میں دعا مانگتے ہیں،شرعا یہ درست ہے یا نہیں؟
جواب: نماز کے باہرصرف دوہی سجدہ منقول ومشروع ہیں،ایک سجدہ تلاوت اوردوسرا سجدہ شکر،ان دو سجدوں کے علاوہ دعائیہ سجدہ کے نام سے کوئی سجدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ سے ثابت نہیں،بلکہ نماز کے باہرخالص سجدہ کو فقہاء نے حرام اور مکروہ لکھا ہے.واضح رہے کہ شوافع کی طرح احناف کے یہاں بھی دعائیہ سجدہ کا ثبوت نہیں ہے.لہذااس طرح کے سجدہ میں دعا مانگنے کے بجاےسنت نمازوں کے سجدہ میں عربی میں دعا مانگنا درست ہے .
📌📖جرت عادة بعض الناس يسجدون بعد الفراغ من الصلاة فيدعو فيها وتلك سجدة لا يعرف لها أصل ولم تنقل عن الرسول – ﷺ – والصحابة ﵃.
📚📚المراجع 📚📚
١. بحر المذهب ٢/١٩٨
*کتاب الفتاوی:٢/٤٦١
پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0350
مسبوق کے لئے پہلی سلام کے بعد کھڑا ہونا ہے یا پھر امام کے دونوں سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہونا ہے؟
جواب: حضرت عتبان ابن مالک رض فرماتے ہیں کہ ہم نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی توجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیری تو ہم نے بھی سلام پھیری .(١)
📝اس حدیث سے پتہ چلا کہ امام کا پہلی سلام پھیرتے ہی مقتدی ومسبوق اس کی اقتداء سے نکل جاتے ہیں ،اورچوں کہ دوسری سلام سنت ہے ،اس اعتبار سے مسبوق امام کی پہلی سلام کے بعد ہی بقیہ رکعت کی ادائیگی کے لیے کھڑا ہوسکتا ہے،البتہ دوسری سلام کے مکمل ہونے کے بعد کھڑا ہونا مستحب ہے،اس لئے کہ حضرت انس رض فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا امام اس لئے بنایا گیا ہے تاکہ اس کی متابعت کی جاے .(٢)
📕اورمتابعت کا تقاضہ یہ ہے کہ امام کی دوسری سلام کے بعدکھڑاہونا سنت ہے تاکہ امام کی مکمل متابعت ہو جائے.اس لئے کہ دوسری سلام بھی نماز کا حصہ ہے.
📌📖والسُّنَّةُ لِلْمَسْبُوقِ أنْ يَقُومَ بَعْدَ تَسْلِيمَتَيْ الإمامِ لِأنَّ الثّانِيَةَ مَحْسُوبَةٌ مِن الصَّلاةِ هَكَذا صَرَّحَ بِهِ القاضِي حُسَيْن والمُتَوَلِّي والبَغَوِيُّ وآخَرُونَ ويَجُوزُ أنْ يَقُومَ بَعْدَ تَمامِ الأُولى . (٣)
📚📚المراجع📚📚
١.(بخاری ٨٣٨)
٢.(بخاری ٣٧٨)
٣.المجموع ٤/١٩٠