اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال:نمبر/ 0317
اگرکوئی شخص چوری کی چیز خریدے تواس کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگرخریدنے والے کواس بات کی خبرنہیں ہے کہ یہ چیز چوری کی ہے بلکہ وہ حلال سمجھ کرخرید رہا ہے تواس چیز کاخریدنا درست ہے.اس کے برخلاف اگراس بات کاعلم ہوکہ یہ چیز چوری کی ہے ہےتوپھراس کاخریدنا درست نہیں ہوگا.اس لیے کہ مبیع کے شرایط میں سے یہ شرط ہے کہ بائع مبیع کا مالک ہو.اورچوراس چیز کامالک نہیں ہوتا ہے.نیزاس صورت میں معاصی اورگناہ پرتعاون ہے اس لیے فقہاء نے ان جیسے معاملات کودرست نہیں مانا ہے.
واضح رہے کہ اگرکسی چیز کے بارے میں صرف یہ گمان بھی ہوکہ یہ چیزحلال چوری کی ہے تواس صورت میں بھی اس چیزکے خریدنے سے بچنا ضروری ہے
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال: نمبر/ 0315
دوران سفر اگر کوئی شخص بغیر عذر کے بیٹھ کر فرض نماز پڑھتا ہے تو کیا اس نماز کا اعادہ ضروری ہے؟
جواب :کھڑے ہو کر نماز پڑھنا یہ نماز کا ایک رکن ہے،اس کا چھوڑنا صحیح نہیں ہے سوائے عذر کے.اگر کوئی شخص قدرت کے باوجود بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز صحیح نہیں ہوگی.بلکہ اس نماز کا اعادہ ضروری ہوگا.حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں مجھے بواسیر کی بیماری تھی،تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’ تم کھڑے ہوکر نماز پڑھو، اگر قدرت نہیں تو بیٹھ کر پڑھو، اگر بیٹھ کر بھی نہیں پڑھ سکتے تو لیٹ کر پڑھو’ (البخاری:1117)
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ‘امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فرض نماز کھڑے ہوکر پڑھنا فرض ہے،استطاعت کے باوجود کھڑے ہوکر نہ پڑھنے سے اس کی نماز باطل ہوجائے گی. اور جو شخص کھڑے ہوکر نماز نہیں پڑھ سکتا وہ بیٹھ کر پڑھے،اور اس پر اعادہ کی ضرورت نہیں. (المجموع شرح المھذب)
لہذادوران سفراگرکھڑے رہ کرنماز پڑھنا ممکن ہوتوپھربیٹھ کرنماز اداکرنا درست نہیں لیکن بسا اوقات ٹرین.پلین اوربس وغیرہ میں قیام پرقادرشخص کے لئے بھی کھڑے رہ کرنماز پڑھنا ممکن نہیں ہوتا.اس لئے کہ قیام کی صورت میں سواری کے ہلنے کی بناء پرگرنے کا اندیشہ ہوتا ہے تواس صورت میں بیٹھ کرنماز ادا کرنا درست ہے جیسا کہ فقہاء نے کشتی اورجہاز میں کھڑے رہ کرنماز پڑھنے کی صورت میں چکرانے یاگرنے کا اندیشہ ہوتوبیٹھ کرنماز پڑھنے کی گنجایش دی ہے.الغرض کوئی مسافر ان اعذار کی بناء پربیٹھ کرنماز پڑھے تواس کی نماز درست ہے اوراس نماز کا اعادہ بھی ضروری نہیں ہے. واللہ اعلم
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال.نمبر/ 0314
بیوہ عدت میں ہے اسی درمیاں اس کے والد کی وفات ہوگئی توکیا وہ اپنے والدکی زیارت کےلئے میکہ یاکسی اورجگہ جاسکتی ہے ؟
جواب: اللہ تعالی کا ارشاد یے کہ طلاق کی عدت گذارنے والی عورتوں کوگھروں سے باہرمت نکالواورعدت گذارنے والیاں گھروں سے باہرنہ نکلیں (طلاق :1)
امام شافعی فرماتے ہیں کہ جس طرح اس آیت میں طلاق کی عدت گذارنے والی عورتوں کے لیے گھرسے باہرنکلنا جائز نہیں اسی طرح جو عورتیں شوہرانتقال ہونے پرعدت گذاررہی ہوں ان کے لیے بھی گھر سے باہر نکلنا درست نہیں ہے(الام:6/576)
حضرت فریعہ بنت مالک کے شوہر کا انتقال ہونے پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم اسی گھرمیں رہو جہاں تمہارےشوہر کی لاش آیی تھی یہاں تک کہ تم عدت مکمل کرلو.فرماتی ہیں کہ میں نے اس گھرمیں چارماہ دس دن عدت مکمل کی (سنن ابن ماجہ:2031)
ان دلائل کی روشنی میں فقہا ء نےعدت گذارنے والی عورت کے لیے بغیر کسی ضرورت کے گھر سے باہر نکلنا ممنوع قرار دیا ہے .اورایک حدیث کی بناء پر ضرورت اورحاجت کی بناء پرگھرسے باہرنکلنے کی گنجایش دی ہے .اب سوال یہ ہے کہ والد کے انتقال پردیدار کے لیے گھرسے باہرنکناحاجت اورضرورت میں داخل ہے یا نہیں؟اس سلسلہ میں فقہاء نے اس کوحاجت میں شامل نہیں کیا ہے .لہذا عدت گذارنے والی عورت کے لیے والد کے انتقال پردیدار کی خاطر گھرسے باہرنکلنے سے گریزکرنا چاہیے اس لیے کہ شرعا اس کی ممانعت ہے (بجیرمی علی الخطیب:2/62)
اگرکوئی عورت اپنے والدکا دیدار کرناہی چاہتی ہے تومیت کواس کے گھر پرلانے میں کوئی حرج نہیں ہے.
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال.نمبر/ 0313
قبرپربیٹھنے یاکھڑے رہنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی انگار پربیٹھے،پھراس کے کپڑے جل جاے یہاں تک کہ اس کی چمڑی نکل جاے یہ اس کے لیے بہتر ہے قبرپر بیٹھنے کے گناہ کے مقابلہ میں (مسلم:2248)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پربیٹھنے سے منع فرمایا (مسلم:2245)
ان دلائل کی روشنی میں فقہاء نے قبروں پربیٹھنے .کھڑے رہنے اور روندنے کومکروہ قرار دیا ہے.البتہ اگرکوئی عذرہومثلا کسی میت تک پہچنے کے کسی قبرپرسے گذرناناگزیز ہوتوپھراس کی بدرجہ مجبوری گنجائش ہے.(مغنی المحتاج:2/48)
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال.نمبر/ 0311
اگر كوئی آدمی نماز پڑہنے كیلئے آئے اور امام صاحب سجدے یا تشھد وغیرہ میں تھے تو وہ كس طرح امام صاحب كے ساتھ شامل ہوگا؟
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0308
*نئے اسلامی سال کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کا کیا حکم ہے؟*
نئے اسلامی سال کی آمد پر مبارکباد دینا سنت نہیں ہے بلکہ ایک مباح اور جائز عمل ہے لہذا اگر کوئی نئے اسلامی سال کی آمد پر سنت اور مستحب عمل نہ سمجھتے ہوئے صرف مبارکباد دیتا ہے یا *کل عام وانتم بخیر* کے الفاظ کہتا ہے تو اس کی گنجائش ہے۔
(خاتمة) قال القمولي لم أر لأحد من أصحابنا كلاما في التهنئة بالعيد والأعوام والأشهر كما يفعله الناس لكن نقل الحافظ المنذري عن الحافظ المقدسي أنه أجاب عن ذلك بأن الناس لم يزالوا مختلفين فيه والذي أراه مباح لا سنة فيه ولا بدعة وأجاب الشهاب ابن حجر بعد اطلاعه على ذلك بأنها مشروعة واحتج له بأن البيهقي عقد لذلك بابا فقال باب ما روي في قول الناس بعضهم لبعض في العيد تقبل الله منا ومنكم وساق ما ذكره۔ (تحفة المحتاج في شرح المنهاج وحواشي الشرواني والعبادي :3/56) وسئل رحمه الله: فضيلة الشيخ:لابن عثیمن ما رأيكم في تبادل التهنئة في بداية العام الهجري الجديد؟ الجواب: أرى أن بداية التهنئة في قدوم العام الجديد لا بأس بها ولكنها ليست مشروعة بمعنى: أننا لا نقول للناس: إنه يسن لكم أن يهنئ بعضكم بعضاً، لكن لو فعلوه فلا بأس، وإنما ينبغي له أيضاً إذا هنأه في العام الجديد أن يسأل الله له أن يكون عام خيرٍ وبركة فالإنسان يرد التهنئة. هذا الذي نراه في هذه المسألة، وهي من الأمور العادية وليست من الأمور التعبدية. (لقاء الباب المفتوح:93)
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0307
*اسلام میں مرد کے لیے سر کے کسی حصے کے بال کو کاٹ کر بالکل چھوٹا کرنا اور کسی حصے کے بال کو بڑا رکھنے کا کیا حکم ہے؟*
*مرد کا سر کے کسی حصے کے بال کو بالکل چھوٹا کرنا اور کسی حصے کے بال کو بڑا کرنے کو قزع کہتے ہیں اور ایسا کرنا منع ہے اگر اس طرح کرنے سے غیروں كے ساتھ مشابہت ہوتی ہے تو ایسا کرنا حرام ہے۔*
*قال الإمام النووي رحمه الله : يكره القزع وهو حلق بعض الرأس لحديث بن عمر رضي الله عنهما في الصحيحين.* (المجموع :١/ ٢٩٥) *قال الإمام العمراني رحمه الله: ويكره أن يترك على بعض رأسه الشعر؛لما روي: عن ابن عمر قال: نهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-عن القزع في الرأس.* (البيان: ٤ / ٤٦٧) *الصحيح لمسلم/٢١٢٠* * سنن أبي داود/٤٠٣١*
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال.نمبر/ 0306
اگرکسی نے ایسے شخص کوصدقہ دیا جومستحق نہیں تھا تواس کاصدقہ درست ہوگا یانہیں؟نیز اس کوثواب ملے گا یانہیں؟
جواب: حضرت ابوہریرہ رض فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص نے کہاکہ میں رات میں صدقہ کروں گا تووہ صدقہ لے کرنکلا اورایک مالدار کے ہاتھ صدقہ کیاتوصبح لوگ کہنے لگے کہ رات مالدار کوصدقہ دیاگیا لیکن اس سے کہا گیا کہ تیرا صدقہ قبول کیا گیا (مسلم :1022)
اس حدیث کی شرح میں امام نووی رح فرماتے ہیں:کہ مالدار کوبھی صدقہ دینے کی صورت میں ثواب ملے گا (شرح مسلم:3/91)
لہذا نفل صدقہ جس طرح کسی فقیرکودینا درست ہے اسی طرح کسی غیرمستحق بھی دیا جاے تب بھی درست ہے.اوراس صورت میں اس کوثواب بھی ملے گا.البتہ زکاۃ کی رقم کسی غیرمستحق کودینے سے ادا نہیں ہوگی.لہذا زکوۃ اداکرتے وقت مستحق کی صحیح چھابین کرکے ہی دینا چاہیے.
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال.نمبر/ 0305
نماز جنازہ کا مختصر طریقہ اور اس میں پڑهی جانے والی ضروری دعائیں کیا ہے؟
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0304
عورت کے لیے سجدہ کی حالت میں اپنے ہاتھ کس طرح رکھناچاہیے؟
جواب: حضرت انس رض سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم میں سے کویی سجدہ میں اپنے ہاتھ کتے کے ہاتھ بچھانے کی طرح نہ بچھاے (بخاری:822)
اس حدیث کی روشنی میں مرداورعورت کے لیے اپنے ہاتھ سجدہ میں زمین سے اٹھاے رکھنا سنت ہے .اس لئے سجدہ کے دوران اپنے ہاتھ زمین پربچھانے سے احتیاط کرنا چاہیے تاکہ سنت کے خلاف ورزی نہ ہوسکے.
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0303
*جنازہ کی نماز میں امام کہاں کھڑا رہیگا؟*
*میت اگر عورت کی ہو تو نماز جنازہ پڑھاتے وقت امام میت کی کمر کے پاس اور میت اگر مرد کی ہو تو سر کے پاس کھڑا ہوکر نماز پڑھانا مستحب ہے۔*
*عن أبي غالب، قال: صليت مع أنس بن مالك على جنازة رجل، فقام حيال رأسه، ثم جاءوا بجنازة امرأة من قريش، فقالوا: يا أبا حمزة صل عليها، فقام حيال وسط السرير، فقال له العلاء بن زياد: هكذا رأيت النبي صلى الله عليه وسلم قام على الجنازة مقامك منها ومن الرجل مقامك منه؟ قال: نعم. فلما فرغ قال:احفظوا.* (جامع الترمذي/٢٥/: ١٠٣٤ ) *قال الإمام النووي رحمه الله: السنة أن يقف الإمام عند عجيزة المرأة بلا خلاف للحديث، وفي الرجل وجهان :(الصحيح) باتفاق المصنفين وقطع به كثيرون وهو قول جمهور أصحابنا المتقدمين : أنه يقف عند رأسه .* (المجموع :٥ / ١٧٩) *قال الخطيب الشربيني رحمه الله : ويقف المصلي ندبا من إمام ومفرد عند رأس الذكر (الرجل) أو الصغير وعجزها أي الأنثى* (مغني المحتاج :٢/ ٣٧)
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0302
عورتوں کے لیے دوران نماز اپنے پیروں میں موزے پہننا ضروری ہے؟
جواب: حضرت ام سلمہ رض نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ایسی عورت جس کے پاس ازار نہ ہو وہ صرف قمیص پہن کراوردوپٹہ اوڑھ کر نماز پڑھ سکتی ہے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! جب کہ وہ قمیص اتنا لمبا ہوکہ وہ قدم کے ظاہری حصہ کو بھی چھپالے, (سنن ابی داود:630)
اس حدیث کی روشنی میں امام شافعی رح نے یہ استدلال کیا ہے کہ عورت کے قدم کا ظاہری حصہ بھی نماز کے لیے ستر میں شامل ہے.اسی بناء پر عورت کے لیے نماز میں اپنے قدم کے اوپری حصہ کوچھپانا ضروری ہے چاہے موزہ پہن کرچھپاے یا کپڑا لپیٹ کرچھپاے.
البتہ بہتر یہ ہے کہ مکمل قدم کوچھپالیا جاے جس کے لیے عورت نماز سے قبل موزے پہن لے تاکہ اس کے دونوں قدم چھپ جاے.
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال.نمبر/ 0300
عورت کے لیے اپنے پیر میں سونے کی چین پہننے کا کیا حکم ہے؟
جواب: حضرت ابوموسی اشعری رض سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے میری امت کی عورتوں کے لیے سونا اورریشم حلال کردیا ہےاورمردوں پرحرام کیا ہے (نسائی :5151)
اس حدیث کی روشنی میں فقہاء فرماتے ہیں کہ عورت کے لیے سونے چاندی کے مختلف قسم کے زیورات پہننے کی اجازت ہے لہذا عورت کے لیے سونے کا ہار ،کنگن نیز پازیب (سونے کی چین )کاپیرمیں پہننااوران جیسی اشیاء کا استعمال جایز ہے.البتہ زیورات کے استعمال میں اسراف سے احتیاط کرنا ضروری ہے.اور عرف میں جتنی مقدارکے زیورات استعمال ہوتے ہیں اسی طرح کے زیورات استعمال کرنا چاہیے.
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0299
قبلہ کی جانب رُخ یا پیٹھ کر کے پیشاب یا پاخانہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب تم بیت الخلاء کو جاؤ، تو قبلہ کی طرف رُخ اور پیٹھ نہ کرکے نہ بیٹھو……( بلکہ قبلہ سے ہٹ کر استنجا کرو)۔ بخاری ( 394) مسلم(530).
کھلی جگہ یا کھلے میدان میں جہاں کوئی آڑ بھی نہ ہو، ایسا کرنا حرام ہے اور اس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے، اور اگر پیشاب یا پاخانہ رُخ کر کے یا پیٹھ کر کے ایسی جگہ پر کرتا ہے جو جگہ اس کے لیے خاص ہے یعنی بنے ہوئے بیت الخلاء، تو دوسری حدیثوں کی بنیاد پر ایسا کرنے کی اجازت ہے لیکن آداب کے خلاف ہے۔
( ولا يستقبل القبلة ولا يستدبرها لما روى أبو هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ” { إذا ذهب أحدكم إلى الغائط فلا يستقبل القبلة ولا يستدبرها لغائط ولا بول } ” ويجوز ذلك في البنيان لما روت عائشة رضي الله عنها أن ناسا كانوا يكرهون استقبال القبلة بفروجهم ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أوقد فعلوها حولوا بمقعدتي إلى القبلة”
ولأن في الصحراء خلقا من الملائكة والجن يصلون فيستقبلهم بفرجه ، وليس ذلك في البنيان المهذب 1 / 106-107
Question no/ 0299
What does the shariah say with regard to facing the qibla or turning your back against the qibla while urinating or excreting?
Ans; Hazrat Abu ayyub ansari R.A narrated that the messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said "When you go to the toilet, while urinating or excreting you should neither face the qibla nor have your back against it (rather face towards east or west)”.(Bukhari 394) (muslim 530)
Facing qibla in the open area or open ground or in a place where there is nothing between you and qibla that conceals you while urinating or excreting is haram..
All the aaima have different opinion regarding this..if a person face qibla or turn his back towards it in a specific place like toilet while urinating or excreting then according to other hadees it is permitted but it is against etiquette.
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0249
گھوڑے کا گوشت کھانے کا کیا حکم ہے؟
جواب: حضرت جابر بن عبد الله رضي الله عنه فرماتے ہیں: رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ہمیں خیبر کے گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت دی (بخاری 5524)
مذکورہ حدیث سے فقہاء کرام یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ گھوڑ ے کا گوشت کھانا حلال ہے
علامہ ماوردی فرماتے ہیں واما لحم الخیل فاکلھا حلال ……(الحاوی الکبیر 142/15)