درس قرآن نمبر 1082
سورة يوسف – آيت نمبر 022-023-024 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة يوسف – آيت نمبر 022-023-024 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0566
كسی کے انتقال کے بعد تین دن غم اور سوگ منانے کی مدت تدفین کے بعد سے شروع ہوگی یا انتقال کے وقت سے؟
جواب:۔ حضرت ام حبیبہ رضي الله عنها فرماتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ مومن عورت کے لیے کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں سوائے مرنے والے کی بیوی کے، اس لیے کہ بیوی پر اسکے شوہر کے انتقال پر چار مہینے دس دن سوگ منانا واجب ہے۔ (بخاری/5339) فقہاء نے مذکورہ حدیث سے استدلال کیا کہ اگر کسی شخص کا انتقال ہوجائے اور مرنے والا اس عورت کا شوہر ہو تو اس پر چار مہینے اور دس دن سوگ منانا واجب ہے اور اگر سوگ منانے والے میت کے بیوی کے علاوہ ہو تو ان کے لئے تین دن سوگ منانا جائز ہے اور تین دن کی مدت کا اعتبار میت کی موت سے ہوگا تدفین سے نہیں۔
ولھا احداد علی غیر زوج ثلاثة أيام فأقل وتحرم الزيادة علیھا بقصد الاحداد ۔۔۔ قال البرلسی وقد مر فی التعزية اعتبار الثلاثة من الموت أو الدفن أن فينبغي أن یاتئ مثل ذلك ھنا قال بعضهم ینبغی ھنا اعتبارها من وقت العلم بالموت علی قیاس الغائب فالموت۔ (حاشیةالبجیرمی۔ 4/60)
Fiqhe Shafi Question No/0566
Upon the death of an individual from which day the period of mourning (of 3days) begins? Does it begin after the burial of the deceased or after the occurence of death?
Ans; Narrated by Hazrat Umme Habiba R.A that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said,” It is not lawful for a muslim woman who believes in Allah and the last day to mourn for more than three days, except for her husband, for whom she should mourn for four months and ten days” (Sahih bukhari 5339) The jurists (fuqaha) based their opinion from the mentioned hadeeth that if an individual dies and he is a husband of a woman then it is compulsory (wajib) for the woman to mourn for four months and ten days.. Except his wife it is permissible for the other people to mourn for 3 days and the period of mourning (of 3days) begins from the day in which the death occured..
فقہ حنفی سوال نمبر/ 0179
امام کا مقتدیوں کے مقابلے میں بلند مقام پر کھڑے ہوکر نماز پڑھانے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ جماعت کی نماز میں اگر امام اکیلا بلند مقام (ایک فٹ یا اس کے زائد) پر کھڑا ہو تو اس طرح بلند جگہ پر کھڑا ہو کر نماز پڑھانا مکروہ تحریمی ہوگا۔ (در مختار مع الشامي ٤١٦/٢)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سورة يوسف – آيت نمبر 021 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0565
بعض لوگ دوران نماز بلغم اور سردي كو تيشو پيپر سے صاف كرنے کےبعد اسکو لپيت كر جيب میں ركھ ديتے ہيں کيا حديث میں آپ صلى الله عليه وسلم اسكى رہنمائی فرمائی ہے اور اسں طرح كرنے سے نماز کا کيا حكم ہے؟
جواب:۔ صحيح بخارى کی حديث نمبر ٤١٧ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص كا نماز كی حالت ميں بلغم اور سردی كو تيشو سے صاف كرکے جيب ميں ركھنا جائز ہے اور اس طرح كرنے سے نماز بھی درست ہوگی اسلئے کہ بلغم اور سردى پاک ہے۔
فان كان فيه بصق في ثوبه في الجانب الأيسر وحك بعضه ببعض، ولا يبصق فيه فإنه حرام (٢). قال علامه محمد المرصيفى أما الخارج من الصدر أو الحلق وهو النخامة، ويقال النخاعة والنازل منالدماغ فطاهر (٣) (٢) مغني المحتاج :٣٤٧/١ (٣) حاشية البجير مى :١٠٥/١ (٤) حواشي الشروانى:١٦٤/ ٢(٥) نهاية المحتاج:٦١/٢
fiqhe Shafi Question No/0565
Some people clean their mucus from the nose and phelgm using tissue paper while praying salah and keep it in their pocket by folding it.. Have The messenger of Allah( peace and blessings of Allah be upon him) showed guidance with this regard in the hadeeth and what is the ruling with regard to salah?
Ans; From the hadeeth number 417 of sahih bukhari we come to know that it is permissible for an individual to clean his mucus of nose and phelgm with tissue paper while praying and keep it in pocket and by doing this his salah will also be valid because the mucus from the nose and phelgm are considered to be clean..
فقہ حنفی سوال نمبر/ 0178
کندھا کھلا رکھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب:۔ نماز میں دونوں کندھوں کو ڈھکنا مستحب ہے، لھذا جو شخص ایک یا دونوں کندھے کھول کر نماز پڑھے گا تو وہ کرائت کا مرتکب ہوگا۔ (طحطاوي علي المراقي/١٩٣)
فقہ حنفی سوال نمبر/ 0177
نماز میں آگے کی طرف سینہ باہر نکال کر کھڑا ہونا کیسا ہے؟
جواب:۔ نماز کی حالت میں اللہ تعالی کے سامنے انتہائی عاجزی اور خشوع و خضوع کا اظہار ہونا چاہیے، لھذا اگر کوئی شخص نماز میں سینہ آگے کی طرف باہر نکال کر اکڑ کے کھڑا ہوگا تو یہ سخت بے ادبی اور کراہت کی بات ہوگی۔ مجمع الأنهر ١٢٤/١ فتاوي عالمگیری۱۰۷/۱