فضيلة الشيخ خالد بن علي الغامدي – 03-11-2017
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ
عنوان: تقدیر پر ایمان
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ
عنوان: تقدیر پر ایمان
سورة يونس – آيت نمبر 047-048-049 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0516
اگر کسی شخص کی کوئی ہڈی وغیرہ ٹوٹ جائے اور پلاسٹک سرجری میں استعمال ہونے والی ہڈی ناپاک ہو تو ایسے شخص کو اس طرح کی ناپاک ہڈی کے ساتھ نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ اگر کسی شخص کے بدن کی کوئی ہڈی یا عضو ٹوٹ جائے اور اس کے بدلے میں کوئی پاک چیز سے مل کر بنی ہوئی نقلی ہڈی نہ ملے تو مجبوری کی بناء پر ناپاک چیز سے مل کر بنی ہوئی ہڈی کا استعمال کرنا درست ہے، اور اس حالت میں ضرورتا اس شخص کی نماز بھی درست ہوگی.
(وَلَوْ وَصَلَ عَظْمَهُ) لِانْكِسَارِهِ مَثَلًا وَاحْتِيَاجِهِ إلَى الْوَصْلِ (بِنَجَسٍ لِفَقْدِ الطَّاهِرِ) الصَّالِحِ لِلْوَصْلِ أَوْ وَجَدَهُ، وَقَالَ أَهْلُ الْخِبْرَةِ: إنَّهُ لَا يَنْفَعُ وَوَصَلَهُ بِالنَّجَسِ (فَمَعْذُورٌ) فِي ذَلِكَ فَتَصِحُّ صَلَاتُهُ مَعَهُ لِلضَّرُورَةِ. (وَإِلَّا) أَيْ: وَإِنْ وَصَلَهُ بِهِ مَعَ وُجُودِ الطَّاهِرِ الصَّالِحِ، وَلَمْ يَحْتَجْ إلَى الْوَصْلِ حَرُمَ عَلَيْهِ لِتَعَدِّيهِ (وَجَبَ) عَلَيْهِ (نَزْعُهُ) وَأُجْبِرَ عَلَى ذَلِكَ (إنْ لَمْ يَخَفْ ضَرَرًا ظَاهِرًا) ، وَهُوَ مَا يُبِيحُ التَّيَمُّمَ۔ (مغنی المحتاج ۱/۳۲۷)
Fiqhe Shafi Question No/0516
.If a bone of a person is broken and the bone which is used during plastic surgery was impure then what is the ruling on the person with regard to performing salah with this impure bone?
Ans; If any bone of a person is broken and the artificial bone made of pure thing is not available then under these helpless conditions the use of bone made of impure thing is acceptable and in these conditions his prayer will also be valid…
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0002
اذان میں "الله اكبر” کی راء پر زبر پڑھنا ہے یا پیش یا سکون پڑھنا سنت ہے؟
جواب:۔ اذان میں "الله اكبر” کی راء پر سکون پڑھنا سنت ہے اور یہی افضل طریقہ ہے. البتہ لیکن اگر کوئی دونوں تکبیر کے درمیان فصل کے بجاے ملاکر پڑھ رہا ہے تو پھر پیش پڑھنا اولی ہے. واضح رہے کہ دونوں تکبیر کو ملانے اور پڑھنے کی صورت میں زبر یا پیش پڑھتا ہے تب بھی جائز ہے. البتہ زبر کے ساتھ یعنی الله اكبرَ کے مقابلہ میں پیش کے ساتھ یعنی الله اكبرُ پڑھنا بہتر ہے.
ویسن تسکین راء التکبیرۃ الاعلیٰ من الاذان ومثلھا راء التکبیرۃ الثانیة بل اولی. لانه یسن الوقف علیھا…… فان لم یفعل ضم او فتح …فالاصح الضم ای افصح من الفتح اعانة الطالبین۱/٣٤٦ نھایة المحتاج:۱/٤٠٨. يستثنى التكبير فإنه يجمع كل تكبيرتين في نفس لخفة لفظه…… قال حج: أي مع وقفة لطيفة على الأولى، فإن لم يقف فالأولى الضم وقيل الفتح حاشیۃ الجمل: 1/478
fiqhe Shafi Question No/0002
Is it sunnah to pronounce the ‘Ra’ of Allahu akbar as over(zabar) or pesh or sukoon in Adhan?
Ans; In adhan pronouncing sukoon on the ‘Ra’ of “Allahu Akbar” is sunnah and this is the afzal method.. However,if anyone recites two takbeers together without interspace between them then pronouncing it with pesh is the best.. It should be clear that while reciting the two takbeers together or separately if one pronounces it wih zabar or pesh even then it is permissible.. However reciting with pesh that is Allahu Akbaru is better than reciting it with zabar which means Allahu Akbara…
سورة يونس – آيت نمبر 045-046-047 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
سورة يونس – آيت نمبر 040-041-042-043-044 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: غبن کی مذمت اور دیار غیر میں مسلمان کی ذمہ داری
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير