درس حدیث نمبر 0173
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0527
نماز کے دوران اگر بچہ ماں کے سر سے ڈوپٹہ اتاردے تو نماز ہوگی یا نہیں؟
جواب:۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی حائضہ کی نماز کو ڈوپٹہ کے بغیر قبول نہیں کرتے(١)، حائضہ سے مراد ایسی عورت ہے جو بالغ ہو چکی ہو.(٢) اس حدیث کی بنا پر علماء نے یہ مسئلہ لکھا ہے کہ اگر سر کا ذرا سا بھی حصہ قدرت رکھتے ہوئےکھل جائے تو نماز باطل ہوجائیگی لیکن اگر کوئی فورا سر كو ڈھانک لے تو نماز درست ہوگی، لہذا اگر بچہ ماں کا ڈوپٹہ اتاردے، اور ماں فورا ڈوپٹہ کو سر پر رکھ دے تو نماز درست ہوگی، ورنہ درست نہیں ہوگی،
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: فستر العورة شرط لصحة الصلاة، قإن كشف شيء من عورة المصلي لم تصح صلاته، سواء أكثر من المنكشف أم أقل وكان أدنى جزء، وسواء في هذا الرجل والمرأة.(٣) امام عمراني رحمة الله عليه فرماتے ہیں: فإن انكشف شيء من العروة، مع القدرة على السترة.. لم تصح صلاته………..فاستوى فيه القليل والكثير.(٤) امام بغوي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ولو انكشف من عورة المصلي في خلال الصلاة بريح أو غيره، إن ستر في الحال صحت صلاته؛ لأنه معذور، وإن لم يستر في الحال علم به أو لم يعلم بطلت صلاته(٥) (١)أبوداؤد: ٦٤١ (٢)عون المعبود (٣)المجموع: ١٧٢/٣-مكتبة الإرشاد (٤) البيان: ١١٥/٢ (٥) التهذيب: ١٥٦/٢
Fiqhe Shafi Question No/0527
If a child pulls off the veil(dupatta) from his mother’s head while praying then will her salah be valid?
Ans; Hazrat Aisha (R.A) narrated that the Messenger of Allah(peace and blessings of Allah be upon him) said; “Allah does not accept the prayer of a woman who has reached puberty unless ahe wears a veil” Based on this hadeeth the scholars have written that if small part of head is uncovered even if one is able to cover it then the salah invalidates but if somebody covers it immediately then the salah will be valid.. Therefore, if a child pulls off the veil from his mother’s head and the mother covers it immediately then the salah will be valid otherwise the salah remains invalid…
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة يونس – آيت نمبر 083-084-085-086 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0526
چمڑے کی اشیاء استعمال کرنے کے سلسلے میں کیا حکم ہے ؟ اور ہمیں کیسے معلوم ہوسکتا ہے کہ حلال طریقہ پر گائے کا ذبیحہ ہوا ہے یا حرام ؟
جواب:۔ اگر چمڑا ایسے جانور کا ہے جسے شرعی طور پر ذبح کیا گیا ہے تو ایسے جانور کا چمڑا بغیر دباغت کے بھی پاک ہے. اور اگر چمڑا کسی مردار جانور کا ہے تو کتے اور خنزیر کے علاوہ تمام جانور کا چمڑا دباغت کے بعد پاک ہو جاتا ہے. اگر شرعی طریقہ پر اس جانور کو ذبح نہ کرنے یا اس جانور کا چمڑا یا بال یقینی طور پر دباغت نہ ہوا ہو تو ایسے چمڑے کی اشیاء خشک اور سوکھی ہونے کی حالت میں کا استعمال کرنا جائز ہے. اسی طرح اگر معلوم نہ ہو کہ ذبح شدہ جانور حلال ہے یا حرام تو اس کا چمڑا تر ہونے کی صورت میں نجس مانا جائےگا اور خشک ہونے پر پاک مانا جائے گا ۔
وجلود الحیوانات المیتة کلھا تطھر ظاھر او باطنا بالدباغ ولو بالقاء الدابغ علیه بنحوریح ……… الا جلد الکلب والخنزیر فلا یطھرہ الدبغ قطعا (بجیرمی علی الخطیب:۱/۹۹)
استعمال جلد المیتة قبل الدباغ جائز فی الیابس دون الرطب …..
قال اصحابنا: یجوز استعماله قبل الدباغ فی الیابسات (المجموع:۱/٢٨٦)
فاما جلد کل ذکی یؤکل لحمه. فلا بأس أن یشرب ویتوضأ فیه ان لم یدبغ. لان طھارۃ الذکاۃ وقعت علیه. (الام ۲/۲۹)
Fiqhe Shafi Question No/0526
What is the ruling on using products made from animal skin and how can we know that whether the cow has been slaughtered in a halal or haram way?
Ans; the skin of such an animal which have been slaughtered according to shariah is clean without tanning (dibagat)and if the skin is of dead animal then except dog and pig the skin of all other animals are considered to be clean after tanning .. but if the slaughtering of animal is not carried out according to shariah or if the skin or hair of this animal is surely not tanned then use of this skin in their dry or wet condition is permissible.. similarly, if one doesn’t know that the slaughtered animal is halal or haram then the skin of the animal in their wet condition is considered to be najis and will be considered as clean in their dried condition..
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة يونس – آيت نمبر 079-080-081-082 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0525
اگر کسی شخص کو کھجلی ہوگئ ہو اور وہ مستقل کھجاتے رہتا ہو تو اس حالت میں نماز درست ہوگی یا نہیں؟
جواب:۔ اگر کسی شخص کو کھجلی کا مرض ہو جس کی بناء پر اسے شدید کھجلی ہوتی رہتی ہو تو ایسا شخص اگر مسلسل تین یا اس سے زائد مرتبہ کھجاتا ہو تو اس کی نماز باطل ہوگی. لیکن اگر کھجلی اس قدر شدید ہو کہ نماز کے مکمل وقت میں اتنے وقت کے لئے بند ہوجاتی ہو جتنی دیر میں وہ فرض نماز ادا کرسکتا ہے تو یہ شخص کھجلی کے بند ہونے کا انتظار کرئے اور اس وقت نماز ادا کرئے تاکہ اس کی نماز عمل کثیر کے بغیر پوری ہوجائے۔ لیکن اگر کھجلی مسلسل جاری رہتی ہو اس طور پر کہ فرض نماز بھی بہت زیادہ کھجائے بغیر پوری نہیں ہوسکتی تو ایسے شخص کے لئے اسی حالت میں نماز ادا کرنا ضروری ہے. اور اس کی طرف سے جو عمل کثیر واقع ہو رہا ہے اسے درگذر کیا جائے گا.
قَوْلُهُ: (بِلَا حَرَكَةِ كَفِّهِ) أَيْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنْ حَرَّكَهَا بِلَا عُذْرٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ضَرَّ، فَإِنْ كَانَ لِعُذْرٍ كَأَنْ كَانَ بِهِ جَرَبٌ لَا يَقْدِرُ مَعَهُ عَلَى عَدَمِ الْحَكِّ أَوْ كَانَ مُبْتَلًى بِحَرَكَةٍ اضْطِرَارِيَّةٍ يَنْشَأُ عَنْهَا عَمَلٌ كَثِيرٌ فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّ اج. وَالْأَوْلَى فِي حَقِّهِ التَّحَرُّزُ عَنْ الْأَفْعَالِ الْخَفِيفَةِ، وَقَدْ يُسْتَحَبُّ الْفِعْلُ الْقَلِيلُ كَقَتْلِ نَحْوِ عَقْرَبٍ أَوْ اسْتِيَاكٍ وَيُكْرَهُ لِغَيْرِ ذَلِكَ، وَهَذَا أَيْ عَدَمُ الضَّرَرِ فِي الْحَكِّ لِلْجَرَبِ إنْ لَمْ يُعْلَمْ مِنْ حَالِهِ أَنَّهُ يَعْتَرِيهِ تَارَةً وَيَغِيبُ عَنْهُ أُخْرَى وَإِلَّا فَيَجِبُ عَلَيْهِ انْتِظَارُ زَوَالِهِ مَا لَمْ يَخْرُجْ الْوَقْتُ بجیرمی علی الخطیب:۲/٨٦ نھایة المحتاج:۲/۵۱
Fiqhe Shafi Question No/0525
If a person has an itching problem and scratches continuously then in this situation will his prayer be valid?
Ans; If a person has an itching problem which is very severe then if this person scratches continuously three times or more than that, then his prayer will invalidate but if itching is severe to an extent where he can stop scratching untill he can complete a fardh prayer then he should wait until his itching stops and perform the prayer so that he shall complete his prayer without performing maximum movements.. And if the itching is so continuous that he cannot complete his fardh prayer without maximum scratching then performing prayer in this situation is necessary for the person and the maximum movements performed in this situation will be forgiven…