005 – سورة المائدة – آیت نمبر – 048
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة التوبة – آيت نمبر 063-064-065-066 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0491
زمزم کے پانی سے وضو اور غسل کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم اور دوسری احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے فقہاء کرام نے یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ ماء زمزم سے وضو اور غسل کرنا جائز ہے، اور نجاست کو دور کرنا بھی جائز ہے البتہ نجاست کے لیے زمزم پانی کے استعمال کرنے میں احتیاط کرنا بہتر ہے۔ (صحیح بخاری۱۳۹) (صحیح مسلم ٦٣٥٦)
ولا یکرہ الوضوء والغسل بماء زمزم. (البیان:96/1) الماء الذی توضا به صلی اللہ علیہ وسلم لیلتئذ کان من ماء زمزم) فتح الباری 240/1) المیاہ التی تجوز الطھارة بھا سبع میاہ ورابعھا ماء البئر: تنبیه شمل اطلاق البئر بئر زمزم ۔۔۔
وفی المجموع حکایة الاجماع علی صحة الطھارۃ به وانه لا ینبغی ازالة النجاسة به۔ (الاقناع: 86/1)
Fiqhe Shafi Question no/0491
What is the ruling on performing ablution and ghusl using zamzam water?
Ans; By going through the hadeeths of sahih bukhari, sahih muslim and other hadeeths, the jurists(fuqaha) concluded that performing ablution and ghusl and even cleaning the impurities using zamzam water is permissible.. However it is better to take caution from removing the najasah using zamzam water…Sahih bukhari(139) Sahih muslim(6356)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0487
اگر کسی کے کپڑے پر نجاست لگ جائے اور وہ اس کو اس قدر دھوئے کہ مزہ اور بو ختم ہوجائے صرف رنگ باقی رہے تو کیا اس کپڑے کی طہارت کے لیے اتنا دھونا کافی ہوگا۔؟
جواب:۔ کسی شخص کے کپڑے پر نجاست لگ جائے اور وہ اس کو اس قدر دھوئے کہ مزہ اور بو ختم جائے اور اگر رنگ مشقت کے بعد بھی باقی رہے تو اس کا پاکی میں شمار ہوگا اور اگر بغیر مشقت کے رنگ کو باقی رکھے تو اس کو زائل کرنا ضروری ہے۔
وَإِنْ كَانَتْ) عَيْنِيَّةً (وَجَبَ) بَعْدَ زَوَالِ عَيْنِهَا (إزَالَةُ الطَّعْمِ) وَإِنْ عَسُرَ؛ لِأَنَّ بَقَاءَهُ يَدُلُّ عَلَى بَقَاءِ الْعَيْنِ، وَوَجَبَ مُحَاوَلَةُ إزَالَةِ غَيْرِهِ (وَلَا يَضُرُّ بَقَاءُ لَوْنٍ) كَلَوْنِ الدَّمِ (أَوْ رِيحٍ) كَرَائِحَةِ الْخَمْرِ (عَسُرَ زَوَالُهُ) فَيَطْهُرُ لِلْمَشَقَّةِ، بِخِلَافِ مَا إذَا سَهُلَ فَيَضُرُّ بَقَاؤُهُ لِدَلَالَةِ ذَلِكَ عَلَى بَقَاءِ الْعَيْنِ
مغنی المحتاج(١٤٦/۱)
Fiqhe Shafi Question no/0487
If the cloth is been touched with impurity (najaasat) and it is washed to such an extent that there is no taste or smell left , except the colour . Is it enough to wash this kind of cloth to this extent ?
Ans) If the cloth with impurity is washed to such an extent that there is no taste or smell left except the colour, after trying to remove it continuously then , this cloth will be measured in clean cloth . But, if it’s not tried hardly to remove the stain , it will be necessary to dispel that cloth .
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ عبدالرحمن بن عبدالعزيز السديس
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب