درس قرآن نمبر 0912
سورة الأنفال– آيت نمبر 046-047 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة الأنفال– آيت نمبر 046-047 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0461
کسی شخص نے اپنے بدن پر تیل لگایا ہو اور پھر اس پر وضو کرے تو کیا اس کا وضو صحیح ہو گا؟اور اگر اس شخص نے پہلے وضو کیا پھر تیل لگایا، نماز کے وقت وہ محدث ہوگیا اس نے تیل لگے ہوئے بدن پر مسح کیا، کیا اس کا وضو صحیح ہوگا؟
جواب:۔ اگر تیل لگے ہوئے بدن پر وضو کرے اور پانی چمڑی کو چھو رہا ہے، تو اس صورت میں وضو ہوجائے گا، اور اگر تیل اس طرح کا ہے، کہ وہ پانی کے بدن کو چھونے میں مانع ہے، تو وضو درست نہیں ہوگا ،اور اگر تیل اس طرح مانع ہے کہ پانی تو بدن کو چھو رہا ہے لیکن پانی چمڑی پر ٹہرتا نہیں ہے، تو ایسی صورت میں بھی وضو ہوجائے گا۔
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ﺇﺫا ﻛﺎﻥ ﻋﻠﻰ ﺑﻌﺾ ﺃﻋﻀﺎﺋﻪ ﺷﻤﻊ ﺃﻭ ﻋﺠﻴﻦ ﺃﻭ ﺣﻨﺎء ﻭاﺷﺘﺒﺎﻩ ﺫﻟﻚ ﻓﻤﻨﻊ ﻭﺻﻮﻝ اﻟﻤﺎء اﻟﻰ ﺷﺊ ﻣﻦ اﻟﻌﻀﻮ ﻟﻢ ﺗﺼﺢ ﻃﻬﺎﺭﺗﻪ ﺳﻮاء ﻛﺜﺮ ﺫﻟﻚ ﺃﻡ ﻗﻞ ﻭﻟﻮ ﺑﻘﻲ ﻋﻠﻰ اﻟﻴﺪ ﻭﻏﻴﺮﻫﺎ ﺃﺛﺮ اﻟﺤﻨﺎء ﻭﻟﻮﻧﻪ ﺩﻭﻥ ﻋﻴﻨﻪ ﺃﻭ ﺃﺛﺮ ﺩﻫﻦ ﻣﺎﺋﻊ ﺑﺤﻴﺚ ﻳﻤﺲ اﻟﻤﺎء ﺑﺸﺮﺓ اﻟﻌﻀﻮ ﻭﻳﺠﺮﻱ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﻟﻜﻦ ﻻ ﻳﺜﺒﺖ ﺻﺤﺖ ﻃﻬﺎﺭﺗﻪ. (المجموع:٤٦٨\١ شاملة)
Fiqhe Shafi Question no 0461
If a person applies oil on his body and then performs ablution over it, will his ablution be valid? And if the person performs ablution earlier and later applies oil on his body, but during the time of prayer he becomes Muhaddis ( i.e, impure or has no wudu) and so he performs ablution on his oiled body, will his ablution be valid?
Ans). If one performs ablution on oiled body and the water has touched the person’s skin, his ablution will be correct. But if the oil becomes a barrier and is blocking the water from touching one’s skin, his ablution will be invalid . Also, if the oil on the body is such that the water is touching the skin but is being slipped off or rolled down from the skin, his ablution will be valid .
فقہ حنفی سوال نمبر/ 0107
کیا شوال میں عمرہ کرنے سے حج فرض ہوجاتا ہے؟
جواب:۔ اگر کوئی ایسا شخص جس پر حج فرض نہ تھا وہ شوال کے مہینے میں عمرہ کرے تو اس بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر اس کے پاس حج کے ایام تک مکہ میں قیام مصارف و اسباب (یعنی ویزہ وغیرہ) مہیا ہیں تو اس پر حج کرنا فرض ہوگا، اگر اتنے مصارف نہیں ہیں تو اس پر حج فرض نہ ہوگا۔ (کتاب النوازل ۹۸/۱)
Fiqhe Hanafi Question No/0107
Does hajj become compulsory upon performing umrah in the month of shawwal?
Ans; If a person (who has hajj obligatory on him) performs umrah in the month of Shawwal then the detail with this regard is that if he has all the means and expenses to stay in Makkah untill the days of hajj then he may have hajj fardh on him and if he does not have then hajj shall not be fardh on him..
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
سورة الأنفال– آيت نمبر 045-046-047 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0460
اگر کسی غریب شخص کا انتقال ہوجائے اس کے بعد الله تعالی نے اس کی اولاد کومال عطا کیا تو اولاد پر اپنے غریب والدین کی طرف سے حج کرنا واجب ہے یا نہیں؟
جواب:۔ اگر کسی غریب شخص کاانتقال ہوجائے اس حال میں کہ وہ حج کی استطاعت نہیں رکھتا تھا، اس کے انتقال کے بعد اس کی مالدار اولاد اس کی طرف سے حج کرنا چاہے تو اس کی اجازت ہے واجب نہیں ہے. اس لیے کہ میت پر زندگی میں حج فرض نہیں ہوا تھا۔
ولو لم یکن للمیت حج ولا لزمه حج لعدم الاستطاعة ففی جواز الاحجاج عنه طریقان.. احدھما القطع بالجواز لوقوعه واجبا (المجموع:7/81)
Fiqhe Shafi Question No/0460
If a poor person dies and later Allah blesses his offspring with wealth then is it compulsory for the offspring to perform hajj on behalf of his poor parents?
Ans; If a person is poor and unable to perform hajj then after his death his wealthy offspring can perform hajj on behalf of him but it is not compulsory because the hajj was not fardh on the person during his survival..
سورة الأنفال– آيت نمبر 043-044 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)