بھٹكل مسجدِ ابوذر غفاری گلمی روڈ عربی خطبہ – 07-07-2017
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سورة الأنفال– آيت نمبر 034-035 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0458
اگر کسی کے پاس کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، موبائل فون، فریج، موٹر سائیکل، گھڑی، فرنیچر، واشنگٹن مشین، قیمتی کپڑے، پنکھا، کولر جیسی قیمتی اشیاء موجود ہو اور ان اشیاء کی مالیت نصاب زکات کو پہنچ رہی ہو تو کیا اس مالیت پر زکات واجب ہوگی؟
جواب:۔ مذکورہ چیزوں پر زکات واجب نہیں ہوتی ہے الا یہ وہ ان چیزوں کی تجارت کرے تو اس میں نصاب کی مقدار کو پہنچنے پر زکات واجب ہوگی۔
قال النووی رحمة الله عليه:
(ﻟﻴﺲ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺴﻠﻢ ﻓﻲ ﻋﺒﺪﻩ ﻭﻻ ﻓﺮﺳﻪ ﺻﺪﻗﺔ) ﻫﺬا اﻟﺤﺪﻳﺚ ﺃﺻﻞ ﻓﻲ ﺃﻥ ﺃﻣﻮاﻝ اﻟﻘﻨﻴﺔ ﻻ ﺯﻛﺎﺓ ﻓﻴﻬﺎ ﻭﺃﻧﻪ ﻻ ﺯﻛﺎﺓ ﻓﻲ اﻟﺨﻴﻞ ﻭاﻟﺮﻗﻴﻖ ﺇﺫا ﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻟﻠﺘﺠﺎﺭﺓ۔ (شرح مسلم:3/47) قال ابن حجر هيتمى: ﻭﻭﺟﺒﺖ ﻓﻲ ﺛﻤﺎﻧﻴﺔ ﺃﺻﻨﺎﻑ ﻣﻦ اﻟﻤﺎﻝ اﻟﻨﻘﺪﻳﻦ ﻭاﻷﻧﻌﺎﻡ ﻭاﻟﻘﻮﺕ ﻭاﻟﺘﻤﺮ ﻭاﻟﻌﻨﺐ ﻟﺜﻤﺎﻧﻴﺔ ﺃﺻﻨﺎﻑ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺱ۔ (تحفة المحتاج1/439) قال أصحاب فقه المنهجى: ﺇﻥ اﻷﺳﺎﺱ اﻟﺬﻱ ﺗﺘﻌﻠﻖ ﺑﻤﻮﺟﺒﻪ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﺑﺎﻷﻣﻮاﻝ ﻫﻮ ﺻﻔﺔ اﻟﻨﻤﺎء، ﻓﻜﻞ ﻣﺎﻝ ﻗﺎﺑﻞ ﻟﻠﻨﻤﻮ ﻭاﻟﺰﻳﺎﺩﺓ ﻳﺘﻌﻠﻖ ﺑﻪ ﺣﻖ اﻟﺰﻛﺎﺓ۔ (الفقه المنهجى1/281)
Fiqhe Shafi Question No/0458
If a person has expensive things like computer, laptop,mobile, fridge, motorcycle, watch, furniture, washing machine, expensive clothes, fan, cooler and the sum amount of these things is as much as threshold(nisab) then does zakah become compulsory on him?
Ans; Zakah is not compulsory on these mentioned things but if he does marketing of these goods and the sum is as much as threshold(nisab)then zakah will be compulsory on him…
فقہ حنفی سوال نمبر/ 0102
تیز گرم کھانا کیسا ہے؟
جواب:۔ تیز گرام کھانا مناسب نہیں ہے حدیث میں جس کھانے کی گرمی نکال دی جائے اس میں زیادہ برکت ہوتی ہے۔ نیز طبی اعتبار سے بھی گرم کھانا معدے کے لیے نقصاندہ ہے ۔ (در مختار٤٩١/٩)
Fiqhe Hanafi Question No/0102
What is the ruling on consuming hot meals?
Ans; Consuming hot meals is not good.. There is a description in hadeeth that the food from which the heat is removed possess more blessings.. And even according to medical research consuming hot meals is harmful to the stomach..
سورة الأنفال– آيت نمبر 033-034 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سلطانی مسجد میں سلسہ وار درسِ حدیث كے موقعہ پر استاد دیوبند مولانا محمد یامن صاحب قاسمی كا مورخہ 4 جولائی 2017 كو دیا ہوا بیان
سورة الأنفال– آيت نمبر 031-032-033 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ حنفی سوال نمبر/ 0101
سفر حج پر جانے سے پہلے رشتہ داروں کو بتا کر معافی تلافی کے ساتھ جانا کیا ضروری ہے؟ اس سلسلے میں شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے؟
جواب:۔ سفر حج یقیناً ایسا ہے کہ اس سفر میں جانے سے پہلے رشتہ داروں، دوست احباب اور ان لوگوں سے جن سے معاملات ہوں ان سے معافی تلافی کرکے جانا بہتر اور ایک حد تک ضروری ہے، چونکہ ہوسکتا ہے اگر اس طرح معافی تلافی کے ساتھ جائیں اس لئے کہ حج کی قبولیت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ حلال کمائی سے حج کرے ہر ایک سے معافی تلافی کے ساتھ، اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ،اللہ کے دربار میں حاضری ہو اور حجِ مقبول کی سعادت حاصل ہوسکے۔
Fiqhe Hanafi Question No/0101
Is it necessary to ask forgiveness from ones relatives before going to hajj pilgrimage??What does the shariah say with regard to this?
Ans; Hajj pilgrimage is indeed a kind of journey where in before embarking on it, it is better and necessary to some extent to ask forgiveness from ones relatives, friends, dear ones and with those people whom we deal with.. On the contrary it is certain that if anyone ask forgiveness in this way then the hajj will be accepted because for its acceptance it is necessary to perform hajj using halal earnings, by asking forgiveness from the people and by fulfilling the rights of the people as one must stand in the court of Allah and acquire the virtue of acceptance of Hajj…..