فقہ شافعی سوال نمبر – 1322
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1322
اگر کوئی امام کے تشہد آخیر میں تکبیر تحریمہ کہہ کر شامل ہونے کے بعد بیٹھنے کے لیے جھکا نہیں تھا کہ امام نے سلام پھیر دیا تو یہ مسبوق بغیر بیٹھے ہی نماز مکمل کرے گا ؟
اگر کوئی شخص امام کے ساتھ آخری تشہد میں شامل ہو جائے اور اس شخص کے تشہد میں بیٹھنے سے پہلے ہی امام سلام پھیر دے تو ایسے شخص کو تشہد کے لیے بیٹھنا جائز نہیں ہے بلکہ وہ اسی طرح کھڑے ہو کر اپنی نماز مکمل کرے گا چونکہ امام کے سلام کے پھیرنے کے بعد امام کی متابعت ختم ہوجاتی ہے
قال ابن حجر الهيتمي: اذا سلم الإمام عقب تحرمه لم يلزمه القعود بل لا يجوز له لانقضاء المتابعة الموجبة للموافقة فيما لم يحسب له فيصير جلوسه زيادة في الصلاة وهي مبطلة وإذا احرم ولم يسلم الامام ولم يجلس عامدا عالما بل استمر قائما إلي أن سلم الإمام بطلت صلاته لما فيه من المخالفة الفاحشة… لوجلس بعد الهوي من الاعتدال جلسة يسيرة لم يضر مع أن الموضع ليس موضع جلوس فاتضح بذالك ما ذكرته
(الفتاوي الكبري الفقهية :١/٣٠٦،٣٠٧)
إعانة الطالبين : ٢/ ١٥
حواشي الشرواني علي تحفة المحتاج: ٣/٢٠