بھٹكل تنظیم جمعہ مسجِد عربی خطبہ – 31-05-2024
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
فقہ شافعی سوال نمبر / 1257
قربانی کے جانور میں اگر زبان نہ ہو تو اس جانور کی قربانی کا کیا حکم ہے؟
قربانی کے جانور میں اگر زبان نہ ہو یا زبان کا کچھ حصہ کٹ جائے تو اس جانور کی قربانی نہیں ہوگی۔ چونکہ زبان کا نہ ہونا ایک طرح کا عیب ہے اور قربانی درست ہونے کے لیے جانور کا عیب سے پاک ہونا شرط ہے۔
قال الامام جلال الدين المحلي رحمة الله عليه: وشرطها اي الاضحية لتجزء سلامة من عيب ينقص لحماً…..﴿قليوبي) ومقطوعة بعض اذن ففاقدتها ولو خلقة لا تجزئ بالاولى لانها عضو لازم للحيوان….. ولا تجزئ مقطوعة بعضِ اللسان.
(حاشيتا القليوبي وعميره ٥/ ٣٦٦٠،٣٦٦١)
قال الامام خطيب شربيني رحمة الله عليه: ولا مقطوعة بعض اذن، وان كان يسيرا…. او بقطع بعض لسان، فانه يضر لحدوث ما يؤثر في نقص اللحم
(مغنى المحتاج ٧/١٢٣)
حواشي الشرواني وابن القاسم العبادي: ٢٦١/١٢
نهاية المحتاج مع حاشية ابي الضياء و هاشية احمد عبد الرزاق:١٣٥/٨
بجيرمي على الخطيب ٣٣٦/٤
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ عبد الله بن عواد الجهني
فضيلة الشيخ عبد المحسن بن محمد القاسم
فضيلة الشيخ عبد الرحمن بن عبدالعزيز السديس
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 1256
طواف کے دوران نماز جنازہ کھڑی ہو جائے تو کیا طواف کو روک کر جنازہ کی نماز میں شریک ہوگا یا بقیہ طواف مکمل کرے گا؟
فرض طواف کے دوران اگر جنازہ کی نماز کھڑی ہوجائے تو طواف کو روک کر جنازہ کی نماز میں شامل ہونا مکروہ ہے۔
ولو أقيمت المكتوبة في أثناء الطواف فتخليلها بينها تَفْرِيقُ بِالْعُذْرِ . وقطع الطواف المفروض بِصَلاةِ الجَنَازَةِ والرَّواتِبِ مَكْرُوهُ، إذ لا يحسن تَرْكُ فَرْضِ لعَيْنِ بِالتَّطَوُّعِ أَو فَرْضِ الكِفَايَةِ .
فتح العزيز:٣/٣٩٨
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 1255
حج و عمرہ کو جانے والے افراد کے لیے مسجد نبوی یا مسجد حرام میں داخل ہوتے وقت اعتکاف کی نیت کا کیا حکم ہے؟
جس طرح تمام عام مساجد میں داخل ہوتے وقت اعتکاف کی نیت کرنا مستحب ہے۔ یہی حکم مسجد حرام و مسجد نبوی جیسے مقدس مساجد کا بھی ہے جب بھی مسجد حرام و مسجد نبوی میں داخل ہوں تو اعتکاف کی نیت کرنا مستحب ہے۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: يُستحب له أن ينوى الاعتكاف كُلَّمَا دَخَلَ المسجد الحرام، فإِنَّ الاعتكاف مُستَحِبُّ لِكُلِّ مَنْ دَخَلَ مَسْجِدًا مِنَ الْمَسَاجِدِ فَكَيْفَ الظن بالمسجد الحرام، فَيَقْصُد بقلبه حين يصير في المسجدِ أَنَّهُ مُعْتَكِفَ اللَّهُ تَعَالَى سَوَاءٌ كَانَ صائما أو لم يكن فَإِنَّ الصومَ لَيْسَ بِشَرط في الاعتكاف عِنْدَنَا ثُمَّ يستمر لَهُ ادام في المسجدِ فَإِذَا خَرَجَ زَالَ اعتكَافُه فَإِذَا دَخلَ مرة أخرى نوى الاعتكاف وهكذا كُلَّمَا دَخَلَ ، وَهَذَا مِنَ المُهمَّاتِ الَّتِي تُسْتَحَب المحافظة عَلَيْهَا والاعتناء بها.
(حاشية ابن هجر هيتمي على الايزاح)
وأن ينوي الاعتكاف كلما دخل المسجد الحرام ؟! فإن الاعتكاف مستحب لكل من دخل مسجدًا من المساجد، فكيف الظن بالمسجد الحرام؛ ولهذا المعنى لم يذكر الشيخ ذلك؛ لأنه إنما ذكر ما هو من خصائص تلك المواضع.
كفاية النبيه في شرح التنبيه ٥٢٧/٧
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)