بھٹكل جامع مسجد عربی خطبہ – 18-09-2020
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ أسامة بن عبدالله الخياط
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا عبد النّور عبد الباری فكردے ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 0897
*کسی کو رات میں ایک سے زائد احتلام ہوجائے تو ایک ہی غسل کافی ہے، یا ہر بار غسل کرنا ہوگا؟*
*کسی شخص کو اگر متعدد مرتبہ فرض غسل کی ضرورت پیش آئے تو آخیر میں ایک مرتبہ غسل لینا کافی ہے۔ اگر غسل لینے کے بعد دوبارہ احتلام ہوجائے یا جماع کرے یا جماع کے بغیر صرف شہوت ابھرنے سے منی خارج ہوجائے تو دوبارہ غسل کرنا فرض ہے۔*
*قال الإمام النووي رحمة الله عليه في المجموع: وَكَذَا لَوْ أَجْنَبَ مَرَّاتٍ بجماع امرأة واحدة ونسوة أَوْ احْتِلَامٍ أَوْ بِالْمَجْمُوعِ كَفَاهُ غُسْلٌ بِالْإِجْمَاعِ سواء كَانَ الْجِمَاعُ مُبَاحًا أَوْ زِنًا وَمِمَّنْ نَقَلَ الاجماع فيه أبو محمد بن حزم* (المجموع. ١ / ٤٧٢) البخاري: ٥٢١٥، مسلم: ٣٠٩
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا عبد النّور عبد الباری فكردے ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 0896
*صفر کے مہینے کو بعض لوگ منحوس کہتے ہیں اور بہت کچھ باتیں عوام میں گردش کرتی ہے شریعت کی نظر میں اس کی کیا حقیقت ہے؟*
*صفر المظفر کے تعلق سے زمانے جاہلیت میں لوگوں کے درمیان بہت سی غلط باتیں اور غلط عقائد پائے جاتے تھے لیکن اسلام نے ان باطل نظریات کی مکمل تردید اور نفی کی ہے۔ اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں لھذا آج بھی اس مہینے کے تعلق سے جو باطل عقیدے اور توہمات مشہور ہیں اور جس کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں ان میں سے چند اعمال مندرجہ ذیل ہیں:*
*مخصوص طریقہ پر خاص عقیدے کے ساتھ اسی مہینے میں مطلقاً نفل نمازیں پڑھنا۔*
*ماہ صفر میں نکاح اور ختنہ کرنے کو منحوس سمجھنا۔*
*ماہ صفر کے آخری بدھ کو کسی خاص عقیدے سے روزہ رکھنا۔*
*صفر مہینے کے آخری بدھ کو کسی خاص نیت سے خوشیاں منانا اور مٹھائیاں تقسیم کرنا*
*یہ تمام چیزیں زمانہ جاہلیت میں پائے جانے والی ماہ صفر کی خرافات ہیں ان اعمال کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں*
*لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ ، وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ.* (صحیح البخاری:٥٧٠٧) *صاحب منار القاری فرماتے ہیں: ﻳﺪﻝ ﻋﻠﻰ ﺃﻥ ﻣﺮاﺩﻩ اﻟﻨﻔﻲ ﻭﺇﺑﻄﺎﻝ ﻫﺬﻩ اﻷﻣﻮﺭ اﻟﺘﻲ ﻛﺎﻧﺖ ﻓﻲ اﻟﺠﺎﻫﻠﻴﺔ. ﻗﻠﺖ: ﻭاﻟﻨﻔﻲ ﻫﻨﺎ ﻳﺘﻀﻤﻦ ﻣﻌﻨﻰ اﻟﻨﻬﻲ ﻭﺯﻳﺎﺩﺓ ﻷﻧﻪ ﻳﻜﻮﻥ ﻣﻌﻨﺎﻩ: ﻻ ﺗﻌﺘﻘﺪﻭا ﻫﺬﻩ اﻻﻋﺘﻘﺎﺩاﺕ اﻟﻮﻫﻤﻴﺔ، ﻷﻥ ﻫﺬﻩ اﻷﺷﻴﺎء اﻟﺘﻲ ﺗﻌﺘﻘﺪﻭﻧﻬﺎ ﺑﺎﻃﻠﺔ ﻻ ﻭﺟﻮﺩ. ﻟﻬﺎ ﻓﻲ اﻟﻮاﻗﻊ، ﻭﻻ ﺃﺳﺎﺱ ﻟﻬﺎ ﻣﻦ اﻟﺼﺤﺔ* (منار القاري:٥/٢٢٣) *فتاوی اللجنۃ الدائمہ میں ہے: ﻫﺬﻩ اﻟﻨﺎﻓﻠﺔ اﻟﻤﺬﻛﻮﺭﺓ ﻓﻲ اﻟﺴﺆاﻝ ﻻ ﻧﻌﻠﻢ ﻟﻬﺎ ﺃﺻﻼ ﻣﻦ اﻟﻜﺘﺎﺏ ﻭﻻ ﻣﻦ اﻟﺴﻨﺔ، ﻭﻟﻢ ﻳﺜﺒﺖ ﻟﺪﻳﻨﺎ ﺃﻥ ﺃﺣﺪا ﻣﻦ ﺳﻠﻒ ﻫﺬﻩ اﻷﻣﺔ ﻭﺻﺎﻟﺤﻲ ﺧﻠﻔﻬﺎ ﻋﻤﻞ ﺑﻬﺬﻩ اﻟﻨﺎﻓﻠﺔ، ﺑﻞ ﻫﻲ ﺑﺪﻋﺔ ﻣﻨﻜﺮﺓ، ﻭﻗﺪ ﺛﺒﺖ ﻋﻦ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺃﻧﻪ ﻗﺎﻝ: «ﻣﻦ ﻋﻤﻞ ﻋﻤﻼ ﻟﻴﺲ ﻋﻠﻴﻪ ﺃﻣﺮﻧﺎ ﻓﻬﻮ ﺭﺩ (¬2) » ﻭﻗﺎﻝ: «ﻣﻦ ﺃﺣﺪﺙ ﻓﻲ ﺃﻣﺮﻧﺎ ﻫﺬا ﻣﺎ ﻟﻴﺲ ﻣﻨﻪ ﻓﻬﻮ ﺭﺩ* (فتاوى اللجنة الدائمة:٢/٤٩٧) *فتاوی اللجنۃ الدائمۃ: ﻣﺎ ﺫﻛﺮ ﻣﻦ ﻋﺪﻡ اﻟﺘﺰﻭﺝ ﺃﻭ اﻟﺨﺘﺎﻥ ﻭﻧﺤﻮ ﺫﻟﻚ ﻓﻲ ﺷﻬﺮ ﺻﻔﺮ ﻧﻮﻉ ﻣﻦ اﻟﺘﺸﺎﺅﻡ ﻣﻦ ﻫﺬا اﻝﺷﻬﺮ، ﻭاﻟﺘﺸﺎﺅﻡ ﻣﻦ اﻟﺸﻬﻮﺭ ﺃﻭ اﻷﻳﺎﻡ ﺃﻭ اﻟﻄﻴﻮﺭ ﻭﻧﺤﻮﻫﺎ ﻣﻦ اﻟﺤﻴﻮاﻧﺎﺕ ﻻ ﻳﺠﻮﺯ؛ ﻟﻤﺎ ﺭﻭاﻩ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ ﻭﻣﺴﻠﻢ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: «ﻻ ﻋﺪﻭﻯ ﻭﻻ ﻃﻴﺮﺓ ﻭﻻ ﻫﺎﻣﺔ ﻭﻻ ﺻﻔﺮ (¬1) » ﻭاﻟﺘﺸﺎﺅﻡ ﺑﺷﻬﺮ ﺻﻔﺮ ﻣﻦ ﺟﻨﺲ اﻟﻄﻴﺮﺓ اﻟﻤﻨﻬﻲ ﻋﻨﻬﺎ، ﻭﻫﻮ ﻣﻦ ﻋﻤﻞ اﻟﺠﺎﻫﻠﻴﺔ ﻭﻗﺪ ﺃﺑﻄﻠﻪ اﻹﺳﻼﻡ.* (فتاوى اللجنة الدائمة:١/٦٥٨) إمداد المفتين:٢١٤ فتاوی رشیدیہ، کتاب العلم:۱۷۱
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)