موسم الأيام العشر – 17/07/2020
فضيلة الشيخ حسين بن عبدالعزيز آل الشيخ
فضيلة الشيخ حسين بن عبدالعزيز آل الشيخ
فضيلة الشيخ أسامة بن عبدالله الخياط
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
فضيلة الشيخ عبد الباري بن عواض الثبيتي
فضيلة الشيخ عبد الرحمن بن عبدالعزيز السديس
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 0866
*بدن پر کھجلی کی بناء پر پانی میں ڈیٹول ڈال کر اس پانی سے فرض غسل کرنے کا کیا حکم ہے؟*
*اگر ڈیٹول پانی میں اتنی معمولی مقدار میں ڈالا جائے جس سے پانی کے رنگ، بُو یا مزہ میں تبدیلی واقع نہ ہو تو اس پانی سے فرض غسل کر سکتے ہیں، لیکن اگر ڈیٹول اتنی زیادہ مقدار میں ڈالا جائے جس کی وجہ سے پانی کا رنگ، بو یا مزہ تبدیل ہوجائے تو اب اس پانی کو فرض غسل کے لیے استعمال کرنا درست نہیں۔ لہذا فرص غسل کے لئے صاف پانی استعمال کرنا ضروری ہے ۔*
*قال الماوردي في الحاوي الكبير: اعْلَمْ أَنَّ كُلَّ مَا خَالَطَهُ مَذْرُورٌ طَاهِرٌ كَالزَّعْفَرَانِ وَالْعُصْفُرِ وَالْحِنَّاءِ، أَوْ خَالَطَ الْمَائِعَ طَاهِرٌ كَمَاءِ الْوَرْدِ وَالْخَلِّ، فَإِنْ لَمْ يُؤَثِّرْ فِي تَغَيُّرِ الْمَاءِ جَازَ اسْتِعْمَالُهُ فِي الْحَدَثِ وَالنَّجَسِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْمَائِعُ الْمَخَالِطُ أَكْثَرَ وَإِنْ غَيَّرَ أَحَدَ أَوْصَافِ الْمَاءِ مِنْ لَوْنٍ أَوْ طَعْمٍ أَوْ رَائِحَةٍ لَمْ يَجُزِ اسْتِعْمَالُهُ فِي حَدَثٍ وَلَا نَجَسٍ.* (الحاوي الكبير:١/ ٤٦) *قال النووي في المجموع: وَأَمَّا صِفَةُ التَّغَيُّرِ فَإِنْ كَانَ تَغَيُّرًا كَثِيرًا سَلَبَ قَطْعًا: وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا بِأَنْ وَقَعَ فِيهِ قَلِيلُ زَعْفَرَانٍ فَاصْفَرَّ قَلِيلًا أَوْ صَابُونٌ أَوْ دَقِيقٌ فَابْيَضَّ قَلِيلًا بِحَيْثُ لَا يُضَافُ إلَيْهِ فَوَجْهَانِ الصَّحِيحُ منهما انه طهور لبقاء الاسم هكذا صححه الخراسانيون وهو المختار۔* (المجموع:١ / ١٠٣)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0865
*عمامہ پہنے شخص کے لیے وضو کرتے وقت عمامہ کو اتارنا ضروری ہے یا حرکت دئیے بغیر سر کے پچھلے یا کانوں کے اوپری حصہ کے بالوں میں مسح کرے تو کیا مسح درست ہے؟*
*وضو میں سر کا مسح کرنا فرض ہے اور سر کے مسح کی حد سر میں بالوں کے اگنے کی متعین جگے ہیں اگر کوئی عمامہ پہنا ہوا شخص سر کے پچھلے یا کانوں کے اوپری حصہ کے بالوں کا مسح کرے تو کافی ہوگا۔*
*علامہ رملی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔(اﻟﺮاﺑﻊ) ﻣﻦ اﻟﻤﻔﺮﻭﺽ ﻣﺴﻤﻰ ﻣﺴﺢ ﻟﺒﺸﺮﺓ ﺭﺃﺳﻪ) ﻭﺇﻥ ﻗﻞ (ﺃﻭ) ﺑﻌﺾ (ﺷﻌﺮ) ﻭﻟﻮ ﺑﻌﺾ ﻭاﺣﺪﺓ (ﻓﻲ ﺣﺪﻩ) ﺃﻱ اﻟﺮﺃﺱ ﺑﺤﻴﺚ ﻻ ﻳﺨﺮﺝ اﻟﻤﻤﺴﻮﺡ ﻋﻨﻪ ﺑﻤﺪ ﻭﻟﻮ ﺗﻘﺪﻳﺮا ﺑﺄﻥ ﻛﺎﻥ ﻣﻌﻘﻮﺻﺎ ﺃﻭ ﻣﺘﺠﻌﺪا، ﻏﻴﺮ ﺃﻧﻪ ﺑﺤﻴﺚ ﻟﻮ ﻣﺪ ﻣﺤﻞ اﻝﻣﺴﺢ ﻣﻨﻪ ﺧﺮﺝ ﻋﻦ اﻟﺮﺃﺱ ﻣﻦ ﺟﻬﺔ ﻧﺰﻭﻟﻪ ﺃﻭ اﺳﺘﺮﺳﺎﻝ ﻣﻦ ﺟﻬﺔ ﻧﺰﻭﻟﻪ ﺳﻮاء ﻓﻴﻬﻤﺎ ﺟﺎﻧﺐ اﻟﻮﺟﻪ ﻭﻏﻴﺮﻩ، ﻟﻤﺎ ﺻﺢ ﻣﻦ «ﻣﺴﺢﻫ – ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ – ﻟﻨﺎﺻﻴﺘﻪ ﻭﻋﻠﻰ ﻋﻤﺎﻣﺘﻪ» اﻟﺪاﻟﻴﻦ ﻋﻠﻰ اﻻﻛﺘﻔﺎء ﺑﻣﺴﺢ اﻟﺒﻌﺾ۔* (نهايةالمحتاج:١٧٣/١) *علامہ عبدالواحد الرویانی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وإن مسح على الصدغين أو النزعتين جاز۔* (بحر المذهب :٩٦/١)