منگل _7 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0864
*خطبہ جمعہ میں تقوی کی وصیت کا کیا حکم ہے ؟*
*خطبہ جمعہ میں تقوی کی وصیت کرنا ضروری ہے البتہ تقوی کی وصیت کرنے میں کسی خاص الفاظ کا استعمال کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ اصل مقصد اللہ کی اطاعت پر ابھارنا اور گناہ پر تنبیہ کرنا ہے اگر کوئی خطیب خطبہ جمعہ میں انہی چیزوں کو دوسرے الفاظ میں بیان کرے تو تقوی کی وصیت حاصل ہوگی لیکن صرف دنیاوی زیب و زینت اور دھوکہ سے متنبہ کرنا کافی نہیں ہوگا۔*
*وثالثها الوصية بالتقوی للأتباع رواه مسلم، ولا يتعين لفظ الوصية بالتقوى لان الغرض الوعظ والحث على طاعة الله تعالى فيكفى أَطِيعُوا الله وراقبوه۔* (مغنى المحتاج:٤٨٧/١) *الوصیت بالتقوی للأتباع، ولا يتعين لفظها اي الوصية بالتقوى لان غرضها الوعظ وهو حاصل بغير لفظها كاطيعوا الله … ولا يكفي الاقتصار على تحذير من غرور الدنيا .* (اسني المطالب:٥١٥/٥١٦:١)
منگل _7 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0863
*اگر کوئی شافعی شخص حنفی امام کی اقتدا میں نماز پڑھ رہا ہو تو ایسا مقتدی اپنی سورہ فاتحہ کب پڑھے گا؟*
*شوافع کے نزدیک ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا فرض ہے اگر کوئی شافعی شخص حنفی امام کی اقتداء میں نماز پڑھ رہا ہو تو اس کو چاہیے کہ امام کے سورہ فاتحہ کے ختم ہونے کے ساتھ ہی اپنی سورہ فاتحہ شروع کرے اور اگر یہ گمان ہو کہ امام طویل سورت پڑھنے کا عادی نہیں ہے جس کی وجہ سے سورہ فاتحہ کا موقع نہیں مل سکتا تو امام کے سورہ فاتحہ شروع کرنے کے بعد مقتدی اپنی سورة فاتحہ شروع کرکے مکمل کرسکتا ہے*
*علامہ خطیب شربینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ﻓﺈﻥ ﻋﻠﻢ ﺃﻥ اﻹﻣﺎﻡ ﻻ ﻳﻘﺮﺃ السورة ﺃﻭ ﻳﻘﺮﺃ ﺳﻮﺭﺓ ﻗﺼﻴﺮﺓ ﻻ ﻳﺘﻤﻜﻦ ﺑﻌﺪ ﻗﺮاءﺗﻪ ﻣﻦ ﺇﺗﻤﺎﻡ اﻟﻔﺎﺗﺤﺔ ﻓﻌﻠﻴﻪ ﺃﻥ ﻳﻘﺮﺃ اﻟﻔﺎتحة معه.* (مغني المحتاج:١/٥٠٩) *علامہ رملي رحمة الله علیہ فرماتے ہیں: لَوْ عَلِمَ أَنَّ إمَامَهُ يَقْتَصِرُ عَلَى الْفَاتِحَةِ أَوْ سُورَةٍ قَصِيرَةٍ وَلَا يَتَمَكَّنُ مِنْ إتْمَامِ الْفَاتِحَةِ فَعَلَيْهِ أَنْ يَقْرَأَ الْفَاتِحَةَ مَعَ قِرَاءَتِهِ۔* (نهاية المحتاج:٢/٢٣١)
اتوار _5 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0857
*استبراء کسے کہتے ہیں؟ اس کا طریقہ اور حکم کیا ہے؟*
*مرد کے عضو تناسل میں پیشاب کے بچے ہوئے قطروں سے مکمل طور پر پاکی حاصل کرنے کو استبراء کہتے ہیں اگر کسی شخص کو پیشاب کے بعد پوری طرح پیشاب کے قطرے نہ نکلنے کا یقین ہو تو ایسے شخص کے لیے استبراء کرنا واجب ہے ورنہ عام لوگوں کے لیے استبراء کرنا مندوب ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ پیشاب سے فارغ ہونے کے بعد بائیں ہاتھ کے انگھوٹے اور شہادت کی انگلی کو عضو تناسل کے نیچھے سے اوپر کی طرف پھیر دے جس سے بقیہ پیشاب باہر نکلے یا پیشاب کے بعد چند قدم چلنے سے یا پھر پیشاب کے بعد تھوڑا کھانسنے سے بھی پیشاب کے بقیہ قطرے نکلتے ہوں اور اطمینان حاصل ہوتا ہو تو اس پر عمل کرنے سے استبراء حاصل ہوگا۔*
*علامہ شربیني رحمة الله فرماتے ہیں۔ ﻭﻳﺴﺘﺒﺮﺉ ﻣﻦ اﻟﺒﻮﻝ ﻧﺪﺑﺎ ﻋﻨﺪ اﻧﻘﻄﺎﻋﻪ ﺑﻨﺤﻮ ﺗﻨﺤﻨﺢ ﻭﻣﺸﻲ، ﻭﺃﻛﺜﺮ ﻣﺎ ﻗﻴﻞ ﻓﻴﻪ: ﺳﺒﻌﻮﻥ ﺧﻄﻮﺓ ﻭﻧﺘﺮ ﺫﻛﺮ. ﻭﻛﻴﻔﻴﺔ اﻟﻨﺘﺮ ﺃﻥ ﻳﻤﺴﺢ ﺑﻴﺴﺮاﻩ ﻣﻦ ﺩﺑﺮﻩ ﺇﻟﻰ ﺭﺃﺱ ﺫﻛﺮﻩ، ﻭﻳﻨﺘﺮﻩ ﺑﻠﻄﻒ ﻟﻴﺨﺮﺝ ﻣﺎ ﺑﻘﻲ ﺇﻥ ﻛﺎﻥ، ﻭﻳﻜﻮﻥ ﺫﻟﻚ ﺑﺎﻹﺑﻬﺎﻡ ﻭاﻟﻤﺴﺒﺤﺔ؛ ﻷﻧﻪ ﻳﺘﻤﻜﻦ ﺑﻬﻤﺎ ﻣﻦ اﻹﺣﺎﻃﺔ ﺑﺎﻟﺬﻛﺮ، ﻭﺗﻀﻊ اﻟﻤﺮﺃﺓ ﺃﻃﺮاﻑ ﺃﺻﺎﺑﻊ ﻳﺪﻫﺎ اﻟﻴﺴﺮﻯ ﻋﻠﻰ ﻋﺎﻧﺘﻬﺎ. ﻗﺎﻝ ﻓﻲ اﻟﻤﺠﻤﻮﻉ: ﻭاﻟﻤﺨﺘﺎﺭ ﺃﻥ ﺫﻟﻚ ﻳﺨﺘﻠﻒ ﺑﺎﺧﺘﻼﻑ اﻟﻨﺎﺱ. ﻭاﻟﻘﺼﺪ ﺃﻥ ﻳﻈﻦ ﺃﻧﻪ ﻟﻢ ﻳﺒﻖ ﺑﻤﺠﺮﻯ اﻟﺒﻮﻝ ﺷﻲء ﻳﺨﺎﻑ ﺧﺮﻭﺟﻪ، ﻓﻤﻨﻬﻢ ﻣﻦ ﻳﺤﺼﻞ ﻫﺬا ﺑﺄﺩﻧﻰ ﻋﺼﺮ، ﻭﻣﻨﻬﻢ ﻣﻦ ﻳﺤﺘﺎﺝ ﺇﻟﻰ ﺗﻜﺮﺭﻩ، ﻭﻣﻨﻬﻢ ﻣﻦ ﻳﺤﺘﺎﺝ ﺇﻟﻰ ﺗﻨﺤﻨﺢ، ﻭﻣﻨﻬﻢ ﻣﻦ ﻻ ﻳﺤﺘﺎﺝ ﺇﻟﻰ ﺷﻲء ﻣﻦ ﻫﺬا. ﻭﻳﻨﺒﻐﻲ ﻟﻜﻞ ﺃﺣﺪ ﺃﻥ ﻻ ﻳﻨﺘﻬﻲ ﺇﻟﻰ ﺣﺪ اﻟﻮﺳﻮﺳﺔ، ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻟﻢ ﻳﺠﺐ اﻻﺳﺘﺒﺮاء ﻛﻤﺎ ﻗﺎﻝ ﺑﻪ اﻟﻘﺎﺿﻲ ﻭاﻟﺒﻐﻮﻱ، ﻭﺟﺮﻯ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﻤﺼﻨﻒ ﻓﻲ ﺷﺮﺡ ﻣﺴﻠﻢ ﻟﻘﻮﻟﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺗﻨﺰﻫﻮا ﻣﻦ اﻟﺒﻮﻝ ﻓﺈﻥ ﻋﺎﻣﺔ ﻋﺬاﺏ اﻟﻘﺒﺮ ﻣﻨﻪ ﻷﻥ اﻟﻈﺎﻫﺮ ﻣﻦ اﻧﻘﻄﺎﻉ اﻟﺒﻮﻝ ﻋﺪﻡ ﻋﻮﺩﻩ، ﻭﻳﺤﻤﻞ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻋﻠﻰ ﻣﺎ ﺇﺫا ﺗﺤﻘﻖ ﺃﻭ ﻏﻠﺐ ﻋﻠﻰ ﻇﻨﻪ ﺑﻤﻘﺘﻀﻰ ﻋﺎﺩﺗﻪ ﺃﻧﻪ ﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﺴﺘﺒﺮﺉ ﺧﺮﺝ ﻣﻨﻪ ﺷﻲء۔* (مغني المحتاج:١/١٥٩) *وَ وُجُوبِهِ (الإستبراء) مَحْمُولٌ عَلَى مَا إذَا غَلَبَ عَلَى ظَنِّهِ خُرُوجُ شَيْءٍ مِنْهُ بَعْدَ الِاسْتِنْجَاءِ إنْ لَمْ يَفْعَلْهُ۔* (نهاية المحتاج:١ /١٤٢)
جمعہ _3 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
جمعہ _3 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
جمعہ _3 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _3 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _3 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعہ _3 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ علي بن عبد الرحمن الحذيفي
جمعہ _3 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ بندر بن عبد العزيز بليلة
جمعہ _3 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
جمعہ _3 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _3 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _3 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعرات _2 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0862
*کُتا اگر کسی جگہ بیٹھ جائے تو اس جگہ کو دھونا دھونے کا کیا طریقہ کیا ہے؟*
*کُتا ناپاک ہے، لہذا کُتا کسی جگہ پر بیٹھ کر چلا گیا اگر وہ جگہ اور کُتا دونوں خشک تھے تو وہ جگہ ناپاک نہیں ہوگی۔ لیکن اگر کتا اور جگہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک تر ہو تو وہ جگہ ناپاک ہوگی۔ اس جگہ کو پاک کرنے کے لئے سات مرتبہ دھونا ضروری ہے، اور سات مرتبہ میں ایک مرتبہ مٹی ملاکر پانی بہانا ضروری ہے۔البتہ اگر وہ زمین مٹی والی ہو تو اس صورت میں صرف سات مرتبہ صرف پانی بہانا کافی ہے ۔*
*النَّجِسُ إذَا لَاقَى شَيْئًا طَاهِرًا، وَهُمَا جَافَّانِ: لَا يُنَجِّسُهُ* (الأشباه والنظائر للسيوطي:٤٣٢) *لَوْ مَاسَّ الْكَلْبُ ثَوْبًا رَطْبًا أَوْ مَاسَّ بِبَدَنِهِ الرَّطْبِ ثَوْبًا يَابِسًا أَوْ وَطِئَ بِرُطُوبَةِ رِجْلِهِ عَلَى أَرْضٍ أَوْ بِسَاطٍ كَانَ كَالْوُلُوغِ فِي وُجُوبِ غَسْلِهِ سَبْعًا فِيهِنَّ مَرَّةٌ بِالتُّرَابِ۔* (الحاوي الكبير:٣١٥/١) *يَكْفِي التُّرَابُ الْمَمْزُوجُ بِالْمَائِعِ؛ لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ تِلْكَ الْغَسْلَةِ إنَّمَا هُوَ التُّرَابُ وَلَا يَجِبُ تَتْرِيبُ أَرْضٍ تُرَابِيَّةٍ إذْ لَا مَعْنَى لِتَتْرِيبِ التُّرَابِ فَيَكْفِي تَسْبِيعُهَا بِمَاءٍ وَحْدَهُ۔* (مغني المحتاج :٢٤١/١) *بِخِلَافِ الْأَرْضِ الْحَجَرِيَّةِ وَالرَّمْلِيَّةِ الَّتِي لَا غُبَارَ فِيهِمَا فَلَا بُدَّ مِنْ تَتْرِيبِهِمَا۔* (نهاية المحتاج:٢٥٦/١)