اللہ کے تمام فیصلوں سے راضی رہنا ایمان والوں کی نشانی ہے – 14-02-2020
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0819
جمعہ کے دن سورۃ کھف کو ایک مرتبہ پڑھنا سنت ہے یا زیادہ پڑھنا سنت ہے؟
جمعہ کے دن کم از کم ایک مرتبہ سورہ کھف پڑھنا سنت ہے۔ لھذا علمائے کرام نے سورہ کھف کو ایک سے زیادہ (تین) مرتبہ پڑھنا بھی سنت لکھا ہے اگر کوئی شخص تین سے زیادہ مرتبہ پڑھ سکتا ہو تو زیادہ بہتر ہے البتہ ایک مرتبہ پڑھنے سے بھی سنت حاصل ہوجائے گی ۔
يسن (قراءة الكهف) لكل أحد، وإكثارها (يومها وليلتها) ويسن أوّل كل منهما مبادرة إلى الخير، وحذراً من الإهمال، ونهارها أفضل؛ لما صح: "أن الأول يضيء له ما بين الجمعتين”، ولخبر الدارمي: "أن الثاني يضيء له من النور ما بينه وبين البيت العتيق”، وفي رواية زيادة: (وصلى عليه ألف ملك حتى يصبح، وعوفي من بلية، أو ذات الجنب والبرص والجذام، وفتنة الدجال”…. كما إن أقل إكثار الكهف ثلاث مرات؛ للأحاديث الآمرة بذلك۔ (بشرى الكريم بشرح مسائل التعليم:۳۳۷) قوله: وسن قراءة سورة كهف حكمة تخصيصها من بين سور القرآن،… قوله: وإن يكثر منها) أي ويسن أن يكثر من قراءة سورة الكهف، وأقل الإكثار ثلاث مرات. (إعانة الطالبين:١٠٤/٢)
مدبنہ اردو ترجمہ
عنوان: اللّٰہ کی مخلوقات میں غور و فکر
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ
عنوان: احسان
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ
عنوان: پیغام کی تجدید
فقہ شافعی سوال نمبر / 0818
اگر ظہر کی اذان کے بعد نماز پڑھے بغیر کوئی شخص سفر پر جائے تو کیا ایسا شخص ظہر کی نماز عصر کے ساتھ جمع اور قصر کرسکتا ہے؟
اگر کوئی ظہر کا وقت شروع ہوجانے کے بعد سفر کرے جب کہ وہ سفر شروع کرنے سے پہلے اپنے علاقہ میں ظہر کی نماز پڑھسکتا ہو اور وہ ظہر پڑھے بغیر سفر پر جائے تو ایسا شخص ظہر کی نماز کو عصر کے ساتھ جمع اور قصر دونوں کرسکتا ہے۔
ﻓﺄﻣﺎ ﺇﺫا ﺩﺧﻞ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﻗﺖ اﻟﺼﻼﺓ ﻭﺗﻤﻜﻦ ﻣﻦ ﻓﻌﻠﻬﺎ ﺛﻢ ﺳﺎﻓﺮ ﻓﺈﻥ ﻟﻪ ﺃﻥ ﻳﻘﺼﺮ…. ﻭ ﻳﺠﻮﺯ اﻟﺠﻤﻊ ﺑﻴﻨﻬﻤﺎ ﻓﻲ ﻭﻗﺖ اﻷﻭﻟﻰ ﻣﻨﻬﻤﺎ ﻭﻓﻲ ﻭﻗﺖ اﻟﺜﺎﻧﻴﺔ ﻏﻴﺮ ﺃﻧﻪ ﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻧﺎﺯﻻ ﻓﻲ ﻭﻗﺖ اﻷﻭﻟﻰ ﻓﺎﻷﻓﻀﻞ ﺃﻥ ﻳﻘﺪﻡ اﻟﺜﺎﻧﻴﺔ ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﺳﺎﺋﺮا ﻓﺎﻷﻓﻀﻞ ﺃﻥ ﻳﺆﺧﺮ اﻷﻭﻟﻰ ﺇﻟﻰ ﻭﻗﺖ اﻟﺜﺎﻧﻴﺔ ﻟﻤﺎ ﺭﻭﻯ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻗﺎﻝ: ﺃﻻ ﺃﺧﺒﺮﻛﻢ ﻋﻦ ﺻﻼﺓ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: ﻛﺎﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺇﺫا ﺯاﻟﺖ اﻟﺸﻤﺲ ﻓﻲ اﻟﻤﻨﺰﻝ ﻗﺪﻡ اﻟﻌﺼﺮ ﺇﻟﻰ ﻭﻗﺖ اﻟﻈﻬﺮ ﻭﺟﻤﻊ ﺑﻴﻨﻬﻤﺎ ﻓﻲ اﻟﺰﻭاﻝ ﻭﺇﺫا ﺳﺎﻓﺮ ﻗﺒﻞ اﻟﺰﻭاﻝ ﺃﺧﺮ اﻟﻈﻬﺮ ﺇﻟﻰ ﻭﻗﺖ اﻟﻌﺼﺮ ﺛﻢ ﺟﻤﻊ ﺑﻴﻨﻬما ﻓﻲ ﻭﻗﺖ اﻟﻌﺼﺮ ﻭﻷﻥ ﻫﺬا ﺃﺭﻓﻖ ﺑﺎﻟﻤﺴﺎﻓﺮ ﻓﻜﺎﻥ ﺃﻓﻀﻞ۔ (المهذب:٣٦٤.٣٦٥/١) ﻳﺠﻮﺯ ﻟﻠﻤﺴﺎﻓﺮ… "ﻗﺼﺮ اﻟﻈﻬﺮ ﻭاﻟﻌﺼﺮ ﻭاﻟﻌﺸﺎء ﺭﻛﻌﺘﻴﻦ ﺭﻛﻌﺘﻴﻦ”… "ﺃﺩاء” ﻟﻮ ﺑﺄﻥ ﺳﺎﻓﺮ ﻭﻗﺪ ﺑﻘﻲ ﻣﻦ اﻟﻮﻗﺖ ﻗﺪﺭ ﺭﻛﻌﺔ المنهاج القويم شرح علي المقدمة الحضرمي في الفقه الشافعي:١/١٦٦
فضيلة الشيخ علي بن عبد الرحمن الحذيفي
فضيلة الشيخ بندر بن عبد العزيز بليلة