درس حدیث نمبر 0393
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0789
غائب شخص کو سلام پہنچانے کا کیا حکم ہے ؟
سلام ایک مستقل سنت ہے اور اسی طرح غائب شخص کو اگر کوئی اپنی طرف سے سلام پہنچانے کو کہے تو اس شخص پر لازم اور ضروری ہے کہ وہ امانت سمجھ کر اس غائب شخص تک سلام کو پہنچائے۔ صحیح بخاری میں حضرت جبرئیل کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کو سلام پہنچانے کا ذکر ملتا ہے، البتہ اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ جس شخص کو سلام پہنچانے کو کہا ہو وہ کافر یا فاسق نہ ہو۔
قوله: يسن إرسال السلام) أي برسول أو بكتاب.(وقوله: للغائب) أي الذي يشرع له السلام عليه لو كان حاضرا بأن يكون مسلما غير نحو فاسق أو مبتدع (قوله: ويلزم الرسول التبليغ) أي ولو بعد مدة طويلة، بأن نسي ذلك ثم تذكره لانه أمانة۔ (إعانة الطالبين: ٢٨٨/٤) وَيُسَنُّ إرْسَالُ السَّلَامِ إلَى غَائِبٍ) عَنْهُ (بِرَسُولٍ أَوْ كِتَابٍ وَيَجِبُ) عَلَى الرَّسُولِ (التَّبْلِيغُ) لِلْغَائِبِ؛ لِأَنَّهُ أَمَانَةٌ ۔ (اسنى المطالب:٣٢٦٤/٦)
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0788
اگر کوئی شخص کسی کو تجارت کے یہ شرط لگا کر بطور قرض روپیہ دے اور یہ کہے کہ میں ایک لاکھ روپیہ دیتا ہوں تم مجھے ہر ماہ متعین رقم (تین/چار ہزار) دوگے چاہیے نفع ہو یا نقصان اور میرا ایک لاکھ روپیہ پورا کا پورا واپس بھی کرنا ہوگا شریعت کی روشنی میں اس طرح کرنے کا کیا حکم ہے؟
قرض دے کر فائدہ اٹھانا سود میں داخل ہے صورت مسئلہ میں ایک لاکھ روپے دے کر یہ شرط لگانا (کہ ہر مہینے تین ہزار روپیہ دینا اور ایک لاکھ روپیہ بھی لوٹانا) جائز نہیں ہے۔ اور یہ سود ہے اور سود شریعت میں حرام ہے۔
ﻓﺈﻥ ﺃﻗﺮﺽ ﺷﻴﺌﺎ ﺑﺸﺮﻁ ﺃﻥ ﻳﺮﺩ ﻋﻠﻴﻪ ﺃﻛﺜﺮ ﻣﻨﻪ…. ﻧﻈﺮﺕ: ﻓﺈﻥ ﻛﺎﻥ ﺫﻟﻚ ﻣﻦ ﺃﻣﻮاﻝ اﻟﺮﺑﺎ، ﺑﺄﻥ ﺃﻗﺮﺿﻪ ﺩﺭﻫﻤﺎ، ﺑﺸﺮﻁ ﺃﻥ ﻳﺮﺩ ﻋﻠﻴﻪ ﺩﺭﻫﻤﻴﻦ، ﺃﻭ ﺃﻗﺮﺿﻪ ﺫﻫﺐ ﻃﻌﺎﻡ ﺑﺸﺮﻁ ﺃﻥ ﻳﺮﺩ ﻋﻠﻴﻪ ﺫﻫﺒﻲ ﻃﻌﺎﻡ.. ﻟﻢ ﻳﺠﺰ؛ ﻟﻤﺎ ﺭﻭﻱ: ﺃﻥ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: «ﻛﻞ ﻗﺮﺽ ﺟﺮ ﻣﻨﻔﻌﺔ….ﻓﻬﻮ ﺣﺮاﻡ. (البيان/٤٢٤/٥)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)