درود کے فضائل اور فوائد – 01-11-2019
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0804
اگر کوئی شخص مسلسل (آٹھ سے بیس دن) سمندری سفر پر رہتا ہو تو اس کے لیے جمعہ کی نماز کا کیا حکم ہے اور ایسا شخص کشتی پر نمازوں کو کب تک جمع و قصر کر سکتا ہے؟
مسافر پر جمعہ فرض نہیں خواہ سفر سمندری ہو یا فضائی یا زمینی اور اس کی مدت کوئی متعین نہیں چونکہ حالت سفر میں جمعہ کی نماز فرض نہیں ہے ایسا شخص جب تک سفر پر رہیگا تب تک جمعہ کی نماز کی جگہ ظہر کی نماز ادا کرے گا اور سفر ختم ہونے تک تمام نمازوں کو جمع اور قصر دونوں کرسکتا ہے
وان كان سفره ثلاثة ايام فصاعدا٬ ولم يكن مدمن سفر البحر وغيره ولا يترك القصر رغبة عنه. يجوز الجمع بين الظهر و العصر و بين المغرب والعشاء في السفر الذي تقصر فيها الصلاة. (المجموع: ٥/ ٣٢٢-٣٥٢) ﻗﺪ ﺫﻛﺮﻧﺎ ﺃﻥ ﻣﺴﺎﻓﺔ اﻟﻘﺼﺮ: ﺳﺘﺔ ﻋﺸﺮ ﻓﺮﺳﺨﺎ، ﻭﻫﻮ ﻣﺴﻴﺮ ﻳﻮﻣﻴﻦ، ﻗﺎﻝ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ: (ﻭﺃﺣﺐ ﺃﻻ ﻳﻘﺼﺮ ﻓﻲ ﺃﻗﻞ ﻣﻦ ﻣﺴﻴﺮﺓ ﺛﻼﺛﺔ ﺃﻳﺎﻡ) ﻟﻴﺨﺮﺝ ﺑﺬﻟﻚ ﻣﻦ اﻟﺨﻼﻑ. (البيان:٤٥١/٢) (سورة النساء /١٠١)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0803
اگر کوئی امام جہری نماز کی تیسری رکعت میں بلند آواز سے سورہ فاتحہ پڑھے اور مکمل ہونے سے پہلے رک جائے تو اس صورت میں نماز ہوجائے گی یا دوبارہ نماز ادا کرنی ہوگی؟
امام مغرب یا عشاء کی جہری نماز میں تیسری یا چوتھی رکعت میں آواز سے سورہ فاتحہ پڑھے پھر بیچ میں رک جائے اور بقیہ سورہ فاتحہ آہستہ آواز سے مکمل کرے تو اس صورت میں امام اور مقتدیوں کی نماز پر کچھ اثر نہیں ہوگا نماز ہوجائے گی البتہ امام صاحب نماز میں مکروہ تنزیہی کا مرتکب ہوگا۔
لو جهر في موضع الاسرار او عكس لم تبطل صلاته ولا سجود السهو فيه ولكنه ارتكب مكروهاً هذا مذهبنا۔ (المجموع:٣٤٥/٣)
فقہ شافعی سوال نمبر /0802
اگر کوئی عورت اذان کے بعد ناپاک ہوجائے تو کیا اس نماز کی قضا لازم آئے گی؟
نماز کا وقت ہونے کے بعد خواہ اذان ہو یا نہ ہو اذان کا وقت گذر جانے کے بعد حائضہ ہوجائے تو اس عورت پر اس وقت کی نماز قضاء کرنا ضروری ہے۔
(وَلَوْ) طَرَأَ مَانِعٌ كَأَنْ (حَاضَتْ) أَوْ نُفِسَتْ (أَوْ جُنَّ) ، أَوْ أُغْمِيَ عَلَيْهِ (أَوَّلَ الْوَقْتِ) وَاسْتَغْرَقَهُ (وَجَبَتْ تِلْكَ) الصَّلَاةُ (إنْ) كَانَ قَدْ (أَدْرَكَ) مِنْ الْوَقْتِ قَبْلَ طُرُوُّ مَانِعِهِ فَالْأَوَّلُ فِي كَلَامِهِ نِسْبِيٌّ بِدَلِيلِ مَا عَقَّبَهُ بِهِ فَلَا اعْتِرَاضَ عَلَيْهِ (قَدْرَ الْفَرْضِ) الَّذِي يَلْزَمُهُ بِأَخَفِّ مُمْكِنٍ مَعَ إدْرَاكِ زَمَنِ طُهْرٍ يَمْتَنِعُ تَقْدِيمُهُ كَتَيَمُّمٍ وَطُهْرِ سَلَسٍ (تحفة المحتاج :١/٤٨٧)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0801
ايک احرام سے کتنے عمرہ کر سکتے ہیں؟
ایک مرتبہ احرام باندھنے سے ایک ہی عمرہ کرسکتے ہیں یہاں تک کہ اگر کوئی شخص احرام پہننے سے پہلے ایک ساتھ دو عمرہ کرنے کی نیت اور عمرہ کے مکمل اعمال دو مرتبہ ادا کرے تب بھی ایک ہی عمرہ منعقد ہوگا۔
ﻭﻟﻮ ﺃﺣﺮﻡ ﺑﺤﺠﺘﻴﻦ ﺃﻭ ﻋﻤﺮﺗﻴﻦ اﻧﻌﻘﺪﺕ ﺇﺣﺪاﻫﻤﺎ ﻭﻻ ﺗﻨﻌﻘﺪ اﻷﺧﺮﻯ ﻭﻻ ﺗﺜﺒﺖ ﻓﻲ ﺫﻣﺘﻪ ﻋﻨﺪﻧﺎ ﻷﻧﻪ ﻻ ﻳﻤﻜﻨﻪ اﻟﻤﻀﻲ ﻓﻴﻬﻤﺎ ﻓﻠﻢ ﻳﺼﺢ اﻟﺪﺧﻮﻝ ﻓﻴﻬﻤﺎ. ﻭﻟﻮ ﺃﺣﺮﻡ ﺑﺤﺠﺔ ﺛﻢ ﺃﺩﺧﻞ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﺣﺠﺔ ﺃﺧﺮﻯ ﺃﻭ ﺑﻌﻤﺮﺓ ﺛﻢ ﺃﺩﺧﻞ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﻋﻤﺮﺓ ﺃﺧﺮﻯ ﻓﺎﻟﺜﺎﻧﻴﺔ ﻟﻐﻮ۔ ﻭاﻥ ﺃﺣﺮﻡ ﺑﺤﺠﺘﻴﻦ ﺃﻭ ﻋﻤﺮﺗﻴﻦ ﻟﻢ ﻳﻨﻌﻘﺪ اﻻﺣﺮاﻡ ﺑﻬﻤﺎ ﻻﻧﻪ ﻻ ﻳﻤﻜﻦ اﻟﻤﻀﻲ ﻓﻴﻬﻤﺎ ﻭﺗﻨﻌﻘﺪ اﺣﺪاﻫﻤﺎ ﻻﻧﻪ ﻳﻤﻜﻨﻪ اﻟﻤﻀﻰ ﻓﻲ اﺣﺪاﻫﻤﺎ. (المجموع: ١٠٩/٢٠٧/٧)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0800
حیض کا خون صبح بند ہوجانے کے بعد شام تک انتظار کرنا کیسا ہے اور انتظار کی صورت میں ان نمازوں کی قضا ضروری ہے؟
حائضہ عورت کو چاہیے کہ جب خون عادت کے موافق بند ہوجائے اور نماز کا وقت قریب ہو تو نماز قضا ہونے سے پہلے فورا غسل کرکے نماز پڑھے، صبح سے شام تک مزید خون نکلنے کا انتظار نہ کرے اگر بلا وجہ انتظار کرے تو گنہگار ہوگی، اور خون بند ہونے کے بعد غسل سے پہلے انتظار کی وجہ سے جو نمازیں نہ پڑھی ہو ان نمازوں کی قضا بھی لازم ہوگی۔ یہاں تک کہ کسی نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے حیض بند ہوکر صرف اتنا وقت ملے جس میں تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز شروع کی جاسکتی تھی تب بھی اس نماز کی قضا کرنا ضروری ہے۔
عن أنس بن مالک رضي اللّٰہ عنہ قال: إذا طهرت في وقت صلاۃ صلت تلك الصلاۃ، ولا تصلي غیرها۔ (سنن الدارمي،کتاب الطہارۃ / ۱؍٦٤٦: ۹۲۹) عن عبد الرحمن بن غنم أخبرہ قال: سألت معاذ بن جبل رضي اللّٰہ عنہ عن الحائض تطہر قبل غروب الشمس بقلیل؟ قال: تصلي العصر، قلت: قبل ذہاب الشفق؟ قال: تصلي الصبح، ہٰکذا کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یأمرنا أن نعلم نساؤنا۔ سنن الدار قطني:کتاب الحیض / ۱؍۲۳۰:۸۵۷ وَ) حُكْمُهُ أَنَّهُ (لَوْ زَالَتْ هَذِهِ الْأَسْبَابُ) الْكُفْرُ الْأَصْلِيُّ، وَالصِّبَا وَنَحْوُ الْحَيْضِ، وَالْجُنُونِ (وَ) قَدْ (بَقِيَ مِنْ) آخِرِ (الْوَقْتِ تَكْبِيرَةٌ) أَيْ قَدْرُهَا (وَجَبَتْ الصَّلَاةُ) أَيْ صَلَاةُ الْوَقْتِ إنْ بَقِيَ سَلِيمًا زَمَنٌ يَسَعُ أَخَفَّ مُمْكِنٍ مِنْهَا كَرَكْعَتَيْنِ لِلْمُسَافِرِ الْقَاصِرِ وَمِنْ شُرُوطِهَا قَوْلُ الْمُحَشِّي قَوْلُهُ (؛ لِأَنَّهُ يُمْكِنُهُ فِعْلُهَا وَقَوْلُهُ مَا يُعْلَمُ مِنْهُ وَقَوْلُهُ أَمَّا الصَّبِيُّ فَوَاضِحٌ) (تحفة المحتاج : ١/٤٥٤) (الإقن
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)