دعا عرش الہی کو کھٹکھٹاتا ہے – 24-05-2019
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0732
کیا تراویح کی نماز میں تراویح کی نیت ہر دو دو رکعت کے لیے کی جائے گی یا مطلقا بیس رکعت کے لیے ایک ہی مرتبہ نیت کی جائے گی؟
جواب:۔ تراویح کی نماز میں ہر دو دو رکعت کے لیے تراویح کی نیت کی جائے گی مطلقا بیس رکعت کی یا چار رکعت کی نیت کرنا درست نہیں، اگر کسی نے چار رکعت ایک ہی سلام کے ساتھ مکمل کی تو نماز درست نہیں ہوگی.
وَلَا تَصِحُّ بِنِيَّةٍ مُطْلَقَةٍ كَمَا فِي الرَّوْضَةِ بَلْ يَنْوِي رَكْعَتَيْنِ مِنْ التَّرَاوِيحِ أَوْ مِنْ قِيَامِ رَمَضَانَ. (تحفة المحتاج:٢٤١/٢) لاتَصِحُّ بِنِيَّةٍ مُطْلَقَةٍ بَلْ يَنْوِي سُنَّةَ التَّرَاوِيحِ أَوْ صَلَاةَ التَّرَاوِيحِ أَوْ قِيَامَ رَمَضَانَ فَيَنْوِي فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ التَّرَاوِيحِ۔ (المجموع :٢٣/٤) وينوي الشخص في كل ركعتين منها سنة التراويح أو قيام رمضان. ولو صلى أربع ركعات منها بتسليمة واحدة لم تصح. (فتح القريب :٧٢/١ ) بل (ينوي بإحرام كل ركعتين التراويح، أو قيام رمضان) ليتميز بذلك عن غيرها وأفاد كلامه ما صرح به أصله أنه يسلم من ركعتين (اسنى المطالب :٢٠١/١ ) * النجم الوهاج :٣١٠/٢ * روضة الطالبين :٣٣٤/١
سورة مريم – آيت نمبر 27-28-29-30-31-32-33-34 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة مريم – آيت نمبر 24-25-26 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0731
اگر عشاء کی نماز چھوٹ جائے تو کیا تراویح کی جماعت میں عشاء کی نماز پڑھ سکتے ہیں اور اس کا کیا طریقہ ہے؟
جواب:۔ اگر کسی کی عشاء کی جماعت فوت ہوجائے تو افضل یہ ہے کہ وہ الگ سے پڑھ لے لیکن اگر کوئی شخص تراویح کی نماز میں امام کی اقتدا میں عشاء کی نماز پڑھے تو اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے، اور جب دو رکعت کے بعد امام سلام پھیرے تو وہ شخص بقیہ دو رکعت کے لیے کھڑا ہوگا، اولی یہ ہے کہ باقی دو رکعت منفرد ہی ادا کرے لیکن اگر وہ بقیہ دو رکعت بھی تراویح کے امام کے ساتھ ادا کرنا چاہے تو امام کی سلام کے بعد کھڑا ہوکر انتظار کرے گا اور جب امام تراویح کی دو رکعت شروع کرے تو دل میں اقتداء کی نیت کرکے باقی دو رکعت امام کے ساتھ مکمل کرلے۔
وَتَصِحُّ صَلَاةُ الْعِشَاءِ خَلْفَ مَنْ يُصَلِّي التَّرَاوِيحَ كَمَا لَوْ اقْتَدَى فِي الظُّهْرِ بِالصُّبْحِ. فَإِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ قَامَ إلَى بَاقِي صَلَاتِهِ وَالْأَوْلَى أَنْ يُتِمَّهَا مُنْفَرِدًا، فَإِنْ اقْتَدَى بِهِ ثَانِيًا فِي رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ مِنْ التَّرَاوِيحِ جَازَ كَمُنْفَرِدٍ اقْتَدَى فِي أَثْنَاءِ صَلَاتِهِ بِغَيْرِهِ.١ وَتَصِحُّ الْعِشَاءُ خَلْفَ مَنْ يُصَلِّي التَّرَاوِيحَ إلَخْ) تَحْصُلُ لَهُ فَضِيلَةُ الْجَمَاعَةِ بِصَلَاتِهِ الْعِشَاءَ، أَوْ نَحْوَهَا خَلْفَ التَّرَاوِيحِ وَعَكْسُهُ وَبِصَلَاةِ الصُّبْحِ، أَوْ نَحْوِهَا ٢ وَلَوْ صَلَّى الْعِشَاءَ خَلْفَ التَّرَاوِيحِ جَازَ فَإِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ قَامَ إلَى رَكْعَتَيْهِ الْبَاقِيَتَيْنِ وَالْأَوْلَى أَنْ يُتِمَّهَا مُنْفَرِدًا فَلَوْ قَامَ الْإِمَامُ إلَى أُخْرَيَيْنِ مِنْ التَّرَاوِيحِ فَنَوَى الِاقْتِدَاءَ بِهِ ثَانِيًا فِي رَكْعَتَيْهِ فَفِي جَوَازِهِ الْقَوْلَانِ فِيمَنْ أَحْرَمَ مُنْفَرِدًا ثُمَّ نَوَى الِاقْتِدَاءَ الْأَصَحُّ الصِّحَّةُ۳. (ﺗﺼﺢ ﻗﺪﻭﺓ اﻟﻤﺆﺩﻱ ﺑﺎﻟﻘﺎﺿﻲ، ﻭاﻟﻤﻔﺘﺮﺽ ﺑﺎﻟﻤﻨﺘﻔﻞ ﻭﻓﻲ اﻟﻈﻬﺮ ﺑﺎﻟﻌﺼﺮ ﻭﺑﺎﻟﻌﻜﻮﺱ) ﺃﻱ ﺑﻌﻜﺲ ﻛﻞ ﻣﻤﺎ ﺫﻛﺮ ﻧﻈﺮا ﻻﺗﻔﺎﻕ اﻟﻔﻌﻞ ﻓﻲ اﻟﺼﻼﺗﻴﻦ، ﻭﺇﻥ ﺗﺨﺎﻟﻔﺖ اﻟﻨﻴﺔ، ﻭاﻻﻧﻔﺮاﺩ ﻫﻨﺎ ﺃﻓﻀﻞ، ﻭﻋﺒﺮ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﺑـ’ﺄﻭﻟﻰ’ ﺧﺮﻭﺟﺎ ﻣﻦ اﻟﺨﻼﻑ ١) تحفة المحتاج. ٣٣٥/٢٢) اسني المطالب. ٢٢٧/١٣) المجموع ٢٧٠/٤٤)تحفة المحتاج:. ٢/٢٣٢
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: پریشانیوں کا حل: سجدہ ریزی
سورة مريم – آيت نمبر 22-23-24-25-26 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فضيلة الشيخ فيصل بن جميل غزاوي
فضيلة الشيخ عبد الباري بن عواض الثبيتي