درس قرآن نمبر 1318
سورة مريم – آيت نمبر 27-28-29-30-31-32-33-34 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة مريم – آيت نمبر 27-28-29-30-31-32-33-34 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة مريم – آيت نمبر 24-25-26 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0731
اگر عشاء کی نماز چھوٹ جائے تو کیا تراویح کی جماعت میں عشاء کی نماز پڑھ سکتے ہیں اور اس کا کیا طریقہ ہے؟
جواب:۔ اگر کسی کی عشاء کی جماعت فوت ہوجائے تو افضل یہ ہے کہ وہ الگ سے پڑھ لے لیکن اگر کوئی شخص تراویح کی نماز میں امام کی اقتدا میں عشاء کی نماز پڑھے تو اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے، اور جب دو رکعت کے بعد امام سلام پھیرے تو وہ شخص بقیہ دو رکعت کے لیے کھڑا ہوگا، اولی یہ ہے کہ باقی دو رکعت منفرد ہی ادا کرے لیکن اگر وہ بقیہ دو رکعت بھی تراویح کے امام کے ساتھ ادا کرنا چاہے تو امام کی سلام کے بعد کھڑا ہوکر انتظار کرے گا اور جب امام تراویح کی دو رکعت شروع کرے تو دل میں اقتداء کی نیت کرکے باقی دو رکعت امام کے ساتھ مکمل کرلے۔
وَتَصِحُّ صَلَاةُ الْعِشَاءِ خَلْفَ مَنْ يُصَلِّي التَّرَاوِيحَ كَمَا لَوْ اقْتَدَى فِي الظُّهْرِ بِالصُّبْحِ. فَإِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ قَامَ إلَى بَاقِي صَلَاتِهِ وَالْأَوْلَى أَنْ يُتِمَّهَا مُنْفَرِدًا، فَإِنْ اقْتَدَى بِهِ ثَانِيًا فِي رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ مِنْ التَّرَاوِيحِ جَازَ كَمُنْفَرِدٍ اقْتَدَى فِي أَثْنَاءِ صَلَاتِهِ بِغَيْرِهِ.١ وَتَصِحُّ الْعِشَاءُ خَلْفَ مَنْ يُصَلِّي التَّرَاوِيحَ إلَخْ) تَحْصُلُ لَهُ فَضِيلَةُ الْجَمَاعَةِ بِصَلَاتِهِ الْعِشَاءَ، أَوْ نَحْوَهَا خَلْفَ التَّرَاوِيحِ وَعَكْسُهُ وَبِصَلَاةِ الصُّبْحِ، أَوْ نَحْوِهَا ٢ وَلَوْ صَلَّى الْعِشَاءَ خَلْفَ التَّرَاوِيحِ جَازَ فَإِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ قَامَ إلَى رَكْعَتَيْهِ الْبَاقِيَتَيْنِ وَالْأَوْلَى أَنْ يُتِمَّهَا مُنْفَرِدًا فَلَوْ قَامَ الْإِمَامُ إلَى أُخْرَيَيْنِ مِنْ التَّرَاوِيحِ فَنَوَى الِاقْتِدَاءَ بِهِ ثَانِيًا فِي رَكْعَتَيْهِ فَفِي جَوَازِهِ الْقَوْلَانِ فِيمَنْ أَحْرَمَ مُنْفَرِدًا ثُمَّ نَوَى الِاقْتِدَاءَ الْأَصَحُّ الصِّحَّةُ۳. (ﺗﺼﺢ ﻗﺪﻭﺓ اﻟﻤﺆﺩﻱ ﺑﺎﻟﻘﺎﺿﻲ، ﻭاﻟﻤﻔﺘﺮﺽ ﺑﺎﻟﻤﻨﺘﻔﻞ ﻭﻓﻲ اﻟﻈﻬﺮ ﺑﺎﻟﻌﺼﺮ ﻭﺑﺎﻟﻌﻜﻮﺱ) ﺃﻱ ﺑﻌﻜﺲ ﻛﻞ ﻣﻤﺎ ﺫﻛﺮ ﻧﻈﺮا ﻻﺗﻔﺎﻕ اﻟﻔﻌﻞ ﻓﻲ اﻟﺼﻼﺗﻴﻦ، ﻭﺇﻥ ﺗﺨﺎﻟﻔﺖ اﻟﻨﻴﺔ، ﻭاﻻﻧﻔﺮاﺩ ﻫﻨﺎ ﺃﻓﻀﻞ، ﻭﻋﺒﺮ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﺑـ’ﺄﻭﻟﻰ’ ﺧﺮﻭﺟﺎ ﻣﻦ اﻟﺨﻼﻑ ١) تحفة المحتاج. ٣٣٥/٢٢) اسني المطالب. ٢٢٧/١٣) المجموع ٢٧٠/٤٤)تحفة المحتاج:. ٢/٢٣٢
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: پریشانیوں کا حل: سجدہ ریزی
سورة مريم – آيت نمبر 22-23-24-25-26 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فضيلة الشيخ فيصل بن جميل غزاوي
فضيلة الشيخ عبد الباري بن عواض الثبيتي
مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 0730
میت کی طرف سے افطار کروانا کیسا ہے؟
کیا میت کو اس کا ثواب میت کو پہنچتا ہے ؟
جواب:۔ کسی مرنے والے کی طرف سے ثواب کی نیت سے افطار کروانا صدقہ کرنے کی طرح درست ہے اور اس کا ثواب میت کو پہنچے گا خواہ افطار کروانے والا میت کی اولاد ہو یا کسی دوسرے کی طرف سے ہو۔
أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه وسلم إن أمي افتلتت نفسها ولم توصي وأظنها لو تكلمت تصدقت أفلها أجر إن تصدقت عليها فقال النبي صلى الله عليه وسلم : نعم۔ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ ١ جَوَازُ الصَّدَقَةِ عَنْ الْمَيِّتِ ٢ وَاسْتِحْبَابُهَا ٣ وَأَنَّ ثَوَابَهَا يَصِلُهُ وَيَنْفَعُهُ ٤ وَيَنْفَعُ الْمُتَصَدِّقَ أَيْضًا وَهَذَا كُلُّهُ أَجْمَعَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ۔ وينفع الميت صدقة عنه ومنها وقف لمصحف وغيره وحفر بئر وغرس شجر منه في حياته أو من غيره عنه بعد موته”۔ (صحيح البخاري ١٣٨٨) (صحيح مسلم/ ١٠٠٤) (شرح مسلم :١١/٨٤) (تحفة المحتاج /٧/٧٢)
سورة مريم – آيت نمبر 16-17-18-19-20-21 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة مريم – آيت نمبر 16-17-18-19-20-21 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)