درس حدیث نمبر 0309
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
فضيلة الشيخ حسين بن عبدالعزيز آل الشيخ
فضيلة الشيخ أسامة بن عبدالله الخياط
سورة كهف– آيت نمبر 050-051-052-053 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0714
کیا وارث کے لیے وصیت کرسکتے ہیں اور اس کی کیا صورت ہوگی؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلہ واضح فرمائیں
جواب:۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے، اگر وارث کے لیے وصیت کرے تو اس کے درست ہونے کے لیے دیگر ورثہ کا راضی ہونا ضروری ہے۔ اگر ورثہ میں سے کوئی بھی راضی نہ ہو تو وہ وصیت نافذ نہیں ہوگی۔
امام دارقطنی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: عن ابن عباس قال قال رسول الله علیه وسلم لا یجوز لوارث وصیة الا ان یشاء الورثة. (سنن دار قطنی:4259) امام ماوردی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: والوارث لا وصية له الا ان يجيز ذلك الورثة.(الحاوی الکبیر:277/4) امام شافعی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: فلما کان الاقربون ورثة وغير ورثة ابطلنا الوصية للورثة من الاقربين… واجزنا الوصية للاقربين ولغير الورثة. (كتاب الام:188/4) # المھذب:342/2 # الوسیط:412/4