بھٹكل مسجدِ ابوذر غفاری گلمی روڈ عربی خطبہ – 13-07-2018
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سورة النحل– آيت نمبر 045-046-047-048-049-050 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0615
امام کی سلام کے بعد کسی مسبوق شخص کو ہاتھ کے اشارہ سے امام بنا کر اس کی اقتداء نماز پڑھنے کا شرعا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ کسی بھی مسبوق شخص کو جب وہ اپنی بقیہ نماز ادا کر رہا ہو تو ایسے شخص کی اقتداء میں نماز ادا کرنا درست ہے۔ لیکن اس طرح کرنا مکروہ ہے۔ البتہ مکروہ ہونے کی وجہ سے جماعت کا پورا ثواب بھی نہیں ملے گا۔ اگر دو یا اس سے زیادہ لوگ ہوں تو مسبوق کی اقتداء کے بجائے الگ سے جماعت بناکر نماز ادا کرنا زیادہ بہتر ہے۔
وخرج بمقتد ما لو انقطعت القدوة كأن سلم الإمام فقام مسبوق فاقتدى به آخر أو مسبوقون فاقتدى بعضهم ببعض فتصح في غير الجمعة على الأصح لكن مع الكراهة. نهاية المحتاج: ١٦٨/٢ (قوله لكن مع الكراهة) ظاهر في الصورتين وعليه فلا ثواب فيها من حيث الجماعة حاشية الشبراملسي ١٦٧/٢
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: بُری مجلس میں شرکت
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0614
اگر مرض یا سردی کی وجہ سے کوئی شخص تیمم کرکے امامت کرے تو اس کی اقتداء میں وضو کرکے نمازپڑھنے والوں کی نماز درست ہوگی یا نہیں؟
جواب:۔ اگر کوئی امام کسی عذر یا مرض کی بناء پر تیمم کرکے ایسے لوگوں کو نماز پڑھانے جو وضو یا تیمم کرکے نماز ادا کر رہے ہیں تو ایسی صورت میں مقتدیوں کی نماز درست ہوجائے گی۔
ويجوز أن يصلي المتوضئ خلف المتيمم. وقال علي بن أبي طالب رضي الله عنه
(إنه لا يجوز ذلك) دليلنا:حديث عمرو بن العاص الذي ذكرناه في (التيمم) (البيان 2/403) قال المصنف رحمة الله عليه: ويجوز للمتوضئ ان يصلى خلف المتيمم لانه اتى عن طهارته ببدل فهو كمن غسل الرجل (المجموع : 263/4)
سورة النحل– آيت نمبر 043-044 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)