خوشحالی میں عبادت – 06-07-2018
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
سوال نمبر/ 0107
عورت کے لئے اپنے ہاتھ پاؤں کے بال نکالنے کا کیا حکم ہے؟اس حکم میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ میں کوئی فرق ہوگا یا نہیں ؟
جواب:۔امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں کہ "نامصہ” یعنی وہ عورت جو اپنے چہرے کے بال کو زائل کرے، اور یہ حرام ہے، اور اس ممانعت میں بھنویں اور چہرے کے اطراف کے بال بھی داخل ہیں، لیکن اگر کسی عورت کو ڈاڑھی، مونچھ آئے، تو اس کا نکالنا مستحب ہے، اسی طرح جسم کے بال مثلا ہاتھ اور پنڈلیوں کے بالوں کا نکالنا شادی شدہ عورت کے لئے زینت کے طور پر شوہر کی اجازت سے جائز ہے، غیرشادی شدہ عورت کے لئے اجازت نہیں ہے اس لیے کہ ان بالوں کے نکالنے کا اس میں کوئی فائدہ نہیں، بلکہ فتنہ کا اندیشہ ہے، لہذا غیر شادی شدہ کے لئے ہاتھ پاوں کے بالوں کا نکالنا کرنا جائز نہیں، لیکن اگر اس کی شادی جلد ہونے والی ہے، اور ان بالوں کے نکالنے کا مقصود شوہر کے لئے زینت اختیار کرنا ہے تو اس کی گنجائش ہونی چاہیے۔
قال الإمام النووي:۔
وأما النامصة…فهي التي تزيل الشعر من
الوجه…وهذا الفعل حرام إلا إذا نبتت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالتها،بل يستحب عندنا۔(شرح مسلم:288/5)
قال الشيخ خالد سيف الله الرحماني:-
وأما إزالة بقية الشعر من الجسم فقد أجاز والمرأة بإذن زوجها،ولم يجيزوا لغير المتزوجة لعدم المصلحة في إزالته غالبا۔
(4)نوازل فقهة معاصرة:288/2 الموسوعة الفقهية الكويتية:82/ج:14
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سورة النحل– آيت نمبر 036-037-038-039-040 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0611
اگر کوئی شخص چاہے منفرد ہو یا امام بھول کر تیسری یا چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ پڑھ لے تو سجدہ سھو کرنا ہے یا نہیں؟
جواب:۔ تین اور چار رکعت والی نماز میں ابتدائی دو رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی دوسری سورت پڑھنا بالاتفاق مسنون ہے۔ البتہ تیسری اور چوتھی رکعت میں سورت پڑھنے کے بارے میں مفتی بہ قول سنت نہ ہونے کا ہے البتہ کوئی پڑھ لے تو جائز ہے اس لئے کہ بسا اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بیان جوازکے لئے پڑھنا ثابت ہے لہذا اگر کوئی تیسری یا چوتھی رکعت کے قیام میں کوئی سورت پڑھ لے تو سجدہ سہو سنت نہیں ہے اس لئے کہ سجدہ سہو کے اسباب میں یہ صورت داخل نہیں ہے۔ہاں اگر سورت کو اس کے محل سے منتقل کرکے سجدہ رکوع یا تشہد میں پڑھ لے تو سجدہ سہو کرنا سنت ہے۔
وَقَوْلُهُ سَمِعْنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا أَيْ فِي نَادِرٍ مِنْ الْأَوْقَاتِ وَهَذَا مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّهُ لِغَلَبَةِ الِاسْتِغْرَاقِ فِي التَّدَبُّرِ يَحْصُلُ الْجَهْرُ بِالْآيَةِ مِنْ غَيْرِ قَصْدٍ أَوْ أَنَّهُ فَعَلَهُ لِبَيَانِ جَوَازِ الْجَهْرِ وَأَنَّهُ لا تبطل الصلاة ولا يقضي سُجُودَ سَهْوٍ أَوْ لِيُعْلِمَهُمْ أَنَّهُ يَقْرَأُ أَوْ أَنَّهُ يَقْرَأُ السُّورَةَ الْفُلَانِيۃ المجموع 3/386 أَمَّا الْأَحْكَامُ فَهَلْ يُسَنُّ قِرَاءَةُ السُّورَةِ فِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ وَالرَّابِعَةِ فِيهِ قَوْلَانِ مَشْهُورَانِ (أَحَدُهُمَا) وَهُوَ قَوْلُهُ فِي الْقَدِيمِ لَا يُسْتَحَبُّ قَالَ الْقَاضِي أَبُو الطَّيِّبِ وَنَقَلَهُ الْبُوَيْطِيُّ وَالْمُزَنِيُّ عَنْ الشَّافِعِيّ
(وَالثَّانِي) يُسْتَحَبُّ وَهُوَ نَصُّهُ فِي الْأُمِّ وَنَقَلَهُ الشَّيْخُ أَبُو حَامِدٍ وَصَاحِبُ الْحَاوِي عَنْ الْإِمْلَاءِ أَيْضًا وَاخْتَلَفَ الْأَصْحَابُ فِي الْأَصَحِّ مِنْهُمَا فَقَالَ أَكْثَرُ الْعِرَاقِيِّينَ الاصح الاستحباب ممن صحه الشَّيْخُ أَبُو حَامِدٍ وَالْمَحَامِلِيُّ وَصَاحِبُ الْعُدَّةِ وَالشَّيْخُ نَصْرُ الْمَقْدِسِيُّ وَالشَّاشِيُّ وَصَحَّحَتْ طَائِفَةٌ عَدَمَ الِاسْتِحْبَابِ وَهُوَ الْأَصَحُّ وَبِهِ أَفْتَى الْأَكْثَرُونَ (المجموع 386 /387) إلا إن قرأ* الفاتحة أو السورة *في غير محل للقراءة [كالركوع]* وجلوس التشهد………. *فيسجد لذلك* وإن لم يبطل عمده…… *سواء فعله سهوا أو عمدا* بشرى الكريم 237 وقضية كلام المصنف أن التسبيح ونحوه من كل مندوب قولي مختص بمحل لا يسجد لنقله إلى غير محله واعتمده بعضهم لکن اعتمدہ الاسنوی وغیرہ انہ لافرقال منهاج القويم: ١٣٠
سورة النحل– آيت نمبر 035-036 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اردو ترجمہ عيدالفطر شفقت الرحمٰن
عنوان: وقت تزکیہ نفس،،، اہمیت، ذرائع اور فوائد
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0610
بعض لوگ مور کا پَر یا پنکھ زینت کے لئے گھروں میں یاکتابوں میں رکھتے ہیں شرعا مور کے پَر /پیس کو زینت کے لئے رکھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ دراصل مور ان جانوروں میں سے ہے جن کو کھایا نہیں جاتا۔ اگر اس کی زندگی میں اس کے بدن سے اس کا پنکھ جدا ہوجائے یا اس کی موت کے بعد دونوں صورتوں میں وہ نجس ہے۔ اس لئے مور یا ان جیسے نہ کھائے جانے والے جانوروں کا کوئی حصہ یا پنکھ ان کی زندگی میں ان کے بدن سے جدا کرکے یا ان کی موت کے بعد حاصل کرکے زینت اختیارکرنا یا بغیر کسی شدید ضرورت کے استعمال کرنا شرعا درست نہیں ہے۔ اس لئے کہ شریعت نے طہارت اور پاکیزگی کا حکم دیا ہے اور نجس چیزوں سے دور رہنے کی تاکید کی ہے۔
ال: (إلا شعر المأكول؛ فطاهر)، وكذا صوفه ووبره؛ لقوله تعالى: {ومِنْ أَصْوَافِهَا وأَوْبَارِهَا وأَشْعَارِهَا أَثَاثًا ومَتَاعًا إلَى حِينٍ}.
ومحل الوفاق إذا قص في حال الحياة، فإن تناثر أو نتف .. فالأصح: طهارته أيضا، وقيل: نجس، وقيل: المتناثر طاهر، والمنتتف نجس. والريش في معنى الشعر، واحترز المصنف عن شعر ما لا يؤكل لحمه كالحمار، فإنه إذا أبين .. نجس على المشهور قال: (والجزء المنفصل من الحي كميتته) أي: كميتة ذلة الحي؛ لأن الحياة قد زالت منه. وروى الترمذي [١٤٨٠] وأبو داوود [٢٨٥٢] عن أبي واقد الليثي قال: قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة، وهم يجبون أسمنة الإبل، ويقطعون أليات الغنم، فقال: (ما يقطع من البهيمة وهي حية .. فهو ميت)، وهو حديث حسن عليه العمل عند أهل العلم.ونقل ابن المنذر عليه الإجماع.و مخل الخلاف في المنفصل في الحياة. أما المنفصل بعد الموت .. فحكمه حكم ميتته بلا شك.النجم الوهاج 1/14
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)