مكة المكرّمة دعاء – 06 رمضان 1439
فضيلة الشيخ ماهر بن حمد المعيقلي
فضيلة الشيخ ماهر بن حمد المعيقلي
سورة الحجر– آيت نمبر 10-11-12-13-14-15 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0434
کیا مسلمانوں کے لئے رمضان میں ہوٹل کھلا رکھنے کی گنجائش ہے جب کہ عام طور پر غیر مسلم ہی فائدہ اٹھاتے ہیں ؟
جواب:۔ رمضان کا مہینہ اللہ کے شعائر میں سے ہے جس کا احترام ہر مسلمان پر ضروری ہے اس لئے دن کے وقت ہوٹلوں کو بند رکھنا چاہیے نیز اگر صرف غیر مسلم ہی ہوٹل سے فائدہ اٹھاتے ہو تب بھی کھولنا جائز نہیں کیوں کہ اس سے گناہ پر مدد کرنا لازم آتا ہے۔
ولا يجوز لمسلم إعانة الكافر على ما لا يحل عندنا كالأكل والشرب في نهار رمضان بضيافة أو غيرها لأنه إعانة على معصية۔ (حاشية البجيرمي على الخطيب 2/374) (حاشية الجمل 5/226)
Fiqhe Shafi Question No/0434
Is it permissible for muslims to keep their hotels open in the holy month of ramadhan though the non muslims get benefited usually by it?
Ans; The month of Ramadhan is among the rituals of Allah and it is necessary for every muslim to respect this holy month so the hotels should be closed in the day time and if only the non muslims are benefitted by these hotels even then it is not permissible to keep the hotels open because it assists the sin..
مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ
عنوان : روزے کے اہم مسائل
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ ياسر بن راشد الدوسري
سوال نمبر /0168
روزے کی حالت میں کولگیٹ ، منجن ، وغیرہ لگانے سے روزہ ٹوٹے گا یا نہیں .؟
جواب: روزے کی حالت میں اگرکسی نے کولگیٹ، یا منجن لگایا اور اس کا کچھ حصہ تهوک کے ساتھ پیٹ میں چلا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
البتہ اگر اس کا صرف اثر یعنی مزہ حلق میں محسوس ہو تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، اس اعتبار سے زوال سے پہلے اس شرط کے ساتھ کولگیٹ کرنا جائز ہے کہ اس کا ذرہ بهی حصہ اندر نہ چلا جائے اور زوال کے بعد مکروہ ہے، لیکن بہتر اور افضل بات یہ ہے کہ روزہ کی حالت میں کولگیٹ ، منجن وغیرہ استعمال کرنے سے احتیاط کرے۔
وَأَنْ يَتْرُكَ السِّوَاكَ بَعْدَ الزَّوَالِ، وَإِذَا اسْتَاكَ فَلَا فَرْقَ بَيْنَ الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ، بِشَرْطِ أَنْ يَحْتَرِزَ عَنِ ابْتِلَاعِ شَيْءٍ مِنْهُ أَوْ مِنْ رُطُوبَتِهِ.
استعمال المعجون للصائم لا بأس به إذا لم ينزل إلى معدته ولكن الأولى عدم استعماله لأن له ينفذ إلى المعدة والإنسان لا يشعر به.
_____________(١) روضة الطالبين (٣٦٨/٢)
(٢) موسوعة الأحكام (٦٠٢)
*الفقه الإسلامى وأدلته (٦٦١/٢)
*فتاوى الصيام لابن جبرين (٦٤)
مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ
عنوان : روزے کے اہم مسائل
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
فضيلة الشيخ عبد الرحمن بن عبد العزيز السديس
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الحجر– آيت نمبر 10-11-12-13 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0439
*کیا تراویح کی نماز میں قرآن مجید دیکھ کر نماز پڑھنے کا کیا مسئلہ ہے؟*
*تراویح کی نماز میں امام کے لیے یا کسی تنہا نماز پڑھنے والے شخص کے لیے قرآن کریم موبائیل یا مصحف میں دیکھ کر پڑھنا جائز ہے. قرآن مجید دیکھ کر پڑھنے سے نماز باطل نہیں ہوگی. البتہ اس بات کا خیال رہے کہ قرآن دیکھ کر پڑھنے سے عمل کثیر یعنی زیادہ حرکت نہ ہونے پائے۔ چونکہ عمل کثیر سے نماز باطل ہوجائے گی۔*
*ﻟﻮ ﻗﺮﺃ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻣﻦ اﻟﻤﺼﺤﻒ ﻟﻢ ﺗﺒﻄﻞ ﺻﻼﺗﻪ ﺳﻮاء ﻛﺎﻥ ﻳﺤﻔﻈﻪ ﺃﻡ ﻻ ﺑﻞ ﻳﺠﺐ ﻋﻠﻴﻪ ﺫﻟﻚ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﺤﻔﻆ اﻟﻔﺎﺗﺤﺔ ﻛﻤﺎ ﺳﺒﻖ ﻭﻟﻮ ﻗﻠﺐ ﺃﻭﺭاﻗﻪ ﺃﺣﻴﺎﻧﺎ ﻓﻲ ﺻﻼﺗﻪ ﻟﻢ ﺗﺒﻄﻞ* (المجموع:4/95) *علامہ شروانی رحمہ للہ فرماتے ہیں: لو قراء من المصحف و قلب الاوراق احیانا لا تبطل صلاته.* (حواشي الشيرواني مع تحفة المحتاج: ٢٤/٢) *امام ماوردی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فَلَوْ قَرَأَ فِي صَلَاتِهِ مِنْ مُصْحَفٍ جَازَ، وَلَمْ تَبْطُلْ صَلَاتُهُ….. لِأَنَّهُ لَوْ قَرَأَ فِي مُصْحَفٍ بَيْنَ يَدَيْهِ لَمْ تَبْطُلْ صَلَاتُهُ، وَلَيْسَ التَّصَفُّحُ عَمَلًا كَثِيرًا لِمَا بَيْنَ تَصَفُّحِ الْأَوْرَاقِ مِنْ بُعْدِ المدى فدل على صحة صلاته.* (الحاوي الكبير : ٢ / ١٨٤)
Fiqhe Shafi Question No/0439
If an Imaam leads the taraveeh prayer by observing and reciting the holy Quran or if any individual performs taraveeh prayer alone by observing the holy quran then what is the ruling with regard to this?
Ans; It is permissible for the Imaam or the one performing taraveeh alone to recite the holy quran by looking.. Reciting quran by looking doesnot invalidate the prayer. However one must be careful that while reciting the quran by looking, one should not exceed the acts of salah…
مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ
عنوان : روزے کے اہم مسائل
فضيلة الشيخ احمد بن طالب حميد