درس حدیث نمبر 0208
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة يوسف – آيت نمبر 110-111 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0577
عام طور پر نکاح میں خطبہ نکاح قاضی پڑھتا ہںے ولی اور دولہا خطبہ نکاح کو سماعت کرتے ہیں شرعی طور پر خطبہ نکاح کسے پڑھنا چاہیے؟
جواب:۔ نکاح میں خطبہ نکاح کا پڑھنا مسنون ہے، خطبہ نکاح کا پڑھنا کسی کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ دولہا، یا اس کا ولی یا کوئی اور شخص بھی خطبہ نکاح پڑھ سکتے ہیں کسی ایک کے خطبہ نکاح پڑھنے سے سنت حاصل ہوجائے گی، لہذا قاضی کا بھی خطبہ نکاح پڑھنا شرعاً درست ہے۔
(ويستحب تقديم خطبة قبل الخطبة)….. (وقبل العقد)…. وسواء خطب الزوج أو الولى أو أجنبي، حصل الاستحباب. (النجم الوهاج7 / 43_44) (حاشية الجمل 279/6)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سورة يوسف – آيت نمبر 108-109 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0576
اگر نکاح کے بعد ولیمہ دولہن کے والد اپنے اخراجات سے کرنا چاہتے ہو تو اس کی اجازت ہے یا نہیں؟
جواب:۔ نکاح کے بعد شوہر کے لیے ولیمہ کرنا سنت ہے، اگر نکاح کے بعد ولیمہ دولہن کے والد اپنے اخراجات سے کرنا چاہتے ہو اور شوہر (دولہا) اس کی اجازت دے تو دولہن کے والد اپنے اخراجات سے ولیمہ کرسکتے ہیں اور اس سے ولیمہ کی سنت بھی ادا ہوجائے گی اسی طرح دولہن بھی شوہر کی اجازت سے اپنے شوہر کی طرف سے ولیمہ کرسکتی ہے لیکن شوہر کسی کو اجازت نہ دے تو ولیمہ کی سنت ادا نہ ہوگی.
(وليمة العرس)….. (سنة) بعد عقد النكاح الصحيح للزوج الرشيد ولولي غير أبيه أو جده من مال نفسه كما يأتي، فلو عملها غيرهما كأبي الزوجة أو هي عنه فالذي يتجه أن الزوج إن أذن تأدت السنة عنه فتجب الإجابة إليها وإن لم يأذن فلا (تحفة المحتاج 298/3) (إعانة الطالبين 555/3)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة يوسف – آيت نمبر 105-106-107-108 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة يوسف – آيت نمبر 102-103-104 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0575
ہوائی جہاز پر یا پانی کی جہازوں پر خدمت گذار کی حیثیت سے کام کرنے کی نوبت آتی ہے جبکہ وہاں مسافروں کو شراب بھی تقسیم کرنی پڑتی ہے، شرعا اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔ ہر وہ کام جس سے گناہ میں تعاون ملے وہ کام درست نہیں ہے۔ لہذا اگر کوئی شخص ہوائی جہاز یا کسی دوسری جگہ پر ملازمت کرتا ہو اور اس میں شراب تقسیم کرنی پڑتی ہو تو یہ گناہ پر تعاون ہے اور حرام کمائی لے لئے ملازمت اور اجرت کا معاملہ کرنا درست نہیں ہے اس لئے کہ جو شراب کے متعلق جو بھی کام کرے وہ کمائی حرام ہے الا یہ کہ غیر مسلموں کے علاقے میں کوئی دوسرا کام (جاب) نہ مل رہا ہو تو بطور مجبوری گنجائش مل سکتی ہے
ولا تجوز الإجارة على المنافع المحرمة، مثل: أن يستأجر رجلا ليحمل له خمرا لغير الإراقة. (البيان :٢٤٨/٧) لو استأجر رجلا ليحمل له خمرا إلى داره, أو استأجر جملا ليحملها فالإجارة فاسدة۔ (بحرالمذهب : ٣١٠/٩) (سورہ مائدة/٣) (سنَن ترمذي : ١٢٩٥)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)