فقہ شافعی سوال نمبر/ 0581 کیا کسی غیر مسلم کے لیے مسجد کی صفائی کرنا جائز ہے؟
جواب:۔ کسی غیر مسلم کے لیے مسلمانوں کی اجازت کے بغیر مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں ہے پس اگر کوئی غیر مسلم مسجد میں کھانے یا سونے کے لیے مسلمان سے اجازت لے تو مسلمان کو چاہیے کہ اجازت نہ دے لیکن اگر کوئی ضرورت ہو تو مسلمان کی اجازت سے مسجد میں داخل ہونا جائز ہے، لہذا اگر مسجد کی صفائی یا دیگر کام کاج کے لیے مسلمان مزدور میسر نہ ہوں تو پھر کسی غیر مسلم کے ہاتھوں مسلماں کی اجازت کے ساتھ مسجد کی صفائی وغیرہ کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
فأما سائر المسجد :فلا يجوز للكفار دخولها بغير إذن المسلمين لأنهم ليسوا من أهلها. فإن استأذن أحد منهم مسلماً في الدخول :فإن كان للأكل أو النوم، لم يأذن له في الدخول…. إن كان له حاجة إلى مسلم في المسجد أو للمسلم إليه حاجة، جاز له أن يدخل إليه. (البيان 240/12__241) قاله الاذرعي بناءً على الأصح من تمكين الكافر الجنب من المكث بالمسجد لأنها لا تعتقد حرمته. (مغنى المحتاج 418/3)
فقہ حنفی سوال نمبر/ 0185 اگر جانور ذبح کرتے وقت پوری گردن کٹ جائے، تو کیا اس کا گوشت حلال ہے.؟
جواب:۔ اگر جانور ذبح کرتے وقت پوری گردن کٹ کر الگ ہوجائے، تب بھی اس کا کھانا حلال ہے، ہاں! البتہ جان بوجھ کر اس طرح کاٹنا مکروہ ہے. (مستفاد: کتاب النوازل: ١٤ /٤٧٠)
عن ابن عباس رضی اللّہ تعالٰی عنھما ان النبی صلی اللّہ علیہ و سلم : نھی عن الذبیحة ان تفرس. (اخرجه الطبرانی ،بحواله: سابق) ومن بلغ بالسکین النخاع او قطع الرأس کرہ له ذلك، و توکل ذبیحته. (الهدایة: ٤ /٤٣٨ دیوبند)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0580 اگر کوئی عورت بيمار ہو اور اپنی جگہ پر ہی پيشاب پاخانہ کرتی ہے اسی بناء پر اسے پيمپرس پہنايا جاتا ہو تو ہر نماز کيلئے اسکے پيمپرس کو نکال کر دھونا اس عورت کے موٹاپے کی وجہ سے آسان نہيں ہے تو ايسى صورت ميں اس عورت كيلئے شرعا کيا حكم ہے ؟
جواب:۔ اگر کوئی عورت بيمار ہو اور اپنى جگہ پر پيشاب پاخانہ کرتی ہو اور اسی وجہ سے اسکو پيمپرس پہنيايا جاتا ہو اور اس عورت كے موتاپے کی وجہ سے پيمپرس کو ہر نماز کيئلے کھولنا بھی ممکن نہيں ہے تو وہ عورت ظهر كے وقت پيمپرس تبديل كركے نيا پيمپرس پہنے گی اور وضو كركے ظهر و عصر كو جمع كرے پھر مغرب كے آخرى وقت ميں پاکی صفائی حاصل كركے نيا پيمپرس پہنے اور دوبارہ وضو كركے مغرب عشاء كو جمع كركے پڑھے پھر فجر كيلئے مستقل صفائی حاصل كركے فجر ادا كرے ,, اور اگر دن میں تين مرتبہ پيمپرس بدلنا دشوار ہو تو عصر كے بالکل آخر وقت ميں پيمپرس بدل کر پاکی صفائی كركے وضو كرے اور ظهر كو عصر كے ساتھ جمع کرے پھر ويسے ہی مغرب كی اذان ہو مغرب وعشاء كو جمع كرے جيسے کہ رسول الله صلي الله عليه وسلم نے حضرت حمنه بنت جحش كو( انکے مرض) استحاضہ کے خون كےکثرت كی وجہ سے انکو پاکی صفائی کا حكم دے کر نمازوں کو جمع کرنےکا حكم ديا. اور خود نبي كريم صلي الله علیہ وسلم مدينة میں مرض كى وجہ سے نمازوں كو جمع كرکے پڑھی۔
قال علامه الماوردى فَإِنْ قَوِيتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ فتغتسلين ثُمَ تُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ تُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ ثمَ تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَافْعَلِي وَتَغْتَسِلِينَ عِنْدَ الْفَجْرِ ثُمَّ تُصَلِّينَ الصُّبْح( ٣): قال علامه وھبة الزحيلى الاستحاضة ونحوها: يجوز الجمع لمستحاضة ونحوها كصاحب سلس بول أو مذي أو رعاف دائم ونحوه(٤) قال علامه الدمياطى رح يجوز الجمع بالمرض تقديما وتاخير على المختار ويراعي الارفق (٥) (١)ابو داؤد، حديث ٢٨٧ (٢) جامع الترمزي : ٣٩٥٦، كتاب العلل
( ٣) الحاوي الكيير :٣٨٣/١ (٤) الفقه الاسلامى وادلة:١٣٨١/٢ (٥)اعانة الطالبين :١٦٤/٢
Fiqhe Shafi Question No0/580 If a sick woman urinates or excretes in her place due to which she is made to wear diaper and because of her obesity it is difficult to change her diaper for each prayer then what does the shariah say with regard to this?
Ans; If a sick woman urinates or excretes in her place and she is made to wear diaper and because of her obesity it is impossible to change her diaper for each prayer then the woman shall change her diaper in the time of zuhr and make ablution and combine zuhr and asar prayer and again she should change her diaper in the end part of maghrib and renew her ablution and pray combining maghrib and isha prayers.. similarly she must attain purity for fajr and perform prayer… If it is difficult to change the diapers thrice a day then one must change it in the end part of asar, perform ablution and pray zhur and asar prayer together and after the adhan of maghrib she must pray maghrib and isha together as the Prophet sallallahu alaihi wasallam asked Hamna bint e jahash to attain purity and combine the prayers for her heavy bleeding of istihaza and even the Prophet sallallahu alaihi wasallam combined the prayers in madinah due to his sickness…