درس قرآن نمبر 1081
سورة يوسف – آيت نمبر 021 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة يوسف – آيت نمبر 021 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0565
بعض لوگ دوران نماز بلغم اور سردي كو تيشو پيپر سے صاف كرنے کےبعد اسکو لپيت كر جيب میں ركھ ديتے ہيں کيا حديث میں آپ صلى الله عليه وسلم اسكى رہنمائی فرمائی ہے اور اسں طرح كرنے سے نماز کا کيا حكم ہے؟
جواب:۔ صحيح بخارى کی حديث نمبر ٤١٧ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص كا نماز كی حالت ميں بلغم اور سردی كو تيشو سے صاف كرکے جيب ميں ركھنا جائز ہے اور اس طرح كرنے سے نماز بھی درست ہوگی اسلئے کہ بلغم اور سردى پاک ہے۔
فان كان فيه بصق في ثوبه في الجانب الأيسر وحك بعضه ببعض، ولا يبصق فيه فإنه حرام (٢). قال علامه محمد المرصيفى أما الخارج من الصدر أو الحلق وهو النخامة، ويقال النخاعة والنازل منالدماغ فطاهر (٣) (٢) مغني المحتاج :٣٤٧/١ (٣) حاشية البجير مى :١٠٥/١ (٤) حواشي الشروانى:١٦٤/ ٢(٥) نهاية المحتاج:٦١/٢
fiqhe Shafi Question No/0565
Some people clean their mucus from the nose and phelgm using tissue paper while praying salah and keep it in their pocket by folding it.. Have The messenger of Allah( peace and blessings of Allah be upon him) showed guidance with this regard in the hadeeth and what is the ruling with regard to salah?
Ans; From the hadeeth number 417 of sahih bukhari we come to know that it is permissible for an individual to clean his mucus of nose and phelgm with tissue paper while praying and keep it in pocket and by doing this his salah will also be valid because the mucus from the nose and phelgm are considered to be clean..
فقہ حنفی سوال نمبر/ 0178
کندھا کھلا رکھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب:۔ نماز میں دونوں کندھوں کو ڈھکنا مستحب ہے، لھذا جو شخص ایک یا دونوں کندھے کھول کر نماز پڑھے گا تو وہ کرائت کا مرتکب ہوگا۔ (طحطاوي علي المراقي/١٩٣)
فقہ حنفی سوال نمبر/ 0177
نماز میں آگے کی طرف سینہ باہر نکال کر کھڑا ہونا کیسا ہے؟
جواب:۔ نماز کی حالت میں اللہ تعالی کے سامنے انتہائی عاجزی اور خشوع و خضوع کا اظہار ہونا چاہیے، لھذا اگر کوئی شخص نماز میں سینہ آگے کی طرف باہر نکال کر اکڑ کے کھڑا ہوگا تو یہ سخت بے ادبی اور کراہت کی بات ہوگی۔ مجمع الأنهر ١٢٤/١ فتاوي عالمگیری۱۰۷/۱
فقہ حنفی سوال نمبر/ 0176
نماز کے دوران آنکھیں بند رکھنا کیسا ہے؟
جواب:۔ دوران نماز آنکھیں بلا عذر بند رکھنا مکروہ ہے، لیکن اگر کوئی توجہ اور یکسوئی حاصل کرنے کے لیے آنکھیں بند کرے تو اس کی گنجائش ہے۔ (مجمع الأنهر ٤٢٤/١) (در مختار زكريا٤١٣/٢)
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: تعلیمی آغاز پر طلبہ اور اساتذہ کو نصیحت
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0564
بعض لوگ بلغم اور تھوک کو قبلہ کی سمت تھوک ديتے ہيں شرعا اس سلسلے ميں كيا رہنمائی ہے؟
جواب:۔ بعض لوگ بلغم اور تھوک کو قبلہ کی سمت تھوک ديتے ہیں شرعا قبلہ کی جانب تھوکنا مکروہ ہے اس لئے کہ قبلہ تمام سمت میں افضل اور مكرم سمت ہے۔
ويكره البصاق عن يمينه وأمامه وهو في غير الصلاة أيضا كما قاله المصنف خلافا لما رجحه الأذرعي تبعا للسبكي من أنه مباح، لكن محل كراهة ذلك أمامه إذا كان متوجها إلى القبلة كما بحثه بعضهم إكراما لها. (مغنى المحتاج :٣٤٧/١) قال علامه الزحيلى ويكره البصاق أيضا وهو في غير الصلاة عن يمينه وأمامه إذا كان متوجها إلى القبلة، إكراما لها. (نهاية المحتاج:٦٠/٢) (الفقه الاسلامي وادلة:٩٦٧/٢) (حاشيتا قيلوبي:٥٤٥/١)
Fiqhe Shafi Question No/0564
Some people spit saliva and phelgm in the direction of qiblah, what does the shariah say with regard to this?
Ans; Some people spit saliva and phelgm in the direction of qiblah, according to the shariah spitting in the direction of qiblah is makrooh because the direction of qiblah is a virtuous and honourable direction among all the directions…
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة يوسف – آيت نمبر 019-020 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة يوسف – آيت نمبر 019-020 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0563
اگر کوئی مؤذن "أشهد أن لا إله” کو "اشد” پڑھتا ہے تو کیا اس سے معنی میں کوئی تبدیلی ہوگی اور ایسے شخص کی اذان درست ہوگی یا نہیں؟
جواب:۔ اذان کے الفاظ میں کسی حرف میں مد بڑھانا یا لفظ میں کمی زیادتی کرنا مکروہ ہے جبکہ معنی میں کوئی تبدیلی نہ ہو اور اگر معنی میں تبدیلی ہو تو حرام ہے لہذا اگر کوئی مؤذن "أشهد أن لا إله” کو أشد”پڑھتا ہے تو اس سے لفظ أشهد کے معنی باقی نہیں رہتے ہے اس بناء پر یہ تبدیلی حرام ہوگی اور ایسے شخص کی اذان درست نہ ہوگی.
ويكره أذان فاسق وصبي وأعمى، لأنهم مظنة الخطأ والتمطيط والتغني فيه ما لم يتغير به المعنى وإلا حرم. تحفة المحتاج 168/1 أنه لو أتى بكلمة منه على وجه يخل بمعناها لم يصح أنه إذا خفف مشدداً بحيث يخل بمعنى الكلمة لم يصح أذانه. حاشية الجمل 475/1
Fiqhe ShafiQuestion No/0563
If a muazzin recites اشد instead of "أشهد أن لا إله” then does its meaning change and does the adhan of this person become valid?
Ans; Raising madd (stretch) in the letters of adhan or making alterations (addition or reduction) in the words of adhan is makrooh while there occurs no change in its meaning and if the meaning changes then it is forbidden (haram).. Therefore if a muazzin recites اشد instead of أشهد أن لا إلہ then the meaning of اشہد doesnot remain so based on this the alteration will be forbidden (haram) and the adhan of this person will be invalid…
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
فضيلة الشيخ سعود بن إبراهيم الشريم