درس قرآن نمبر 0774
سورة الانعام– آيت نمبر 152-153 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة الانعام– آيت نمبر 152-153 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
سوال نمبر/ 0106
کھانے کے بعد دانتوں میں خلال کرنے اور خلال سے کھانے کے نکلنے والے ذرات کو نگلنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ کھانے سے فراغت کے بعد دانتوں کے سوراخوں میں پھنسے ہوئے کھانے کے ریشے وغیرہ کو احتیاط کے ساتھ خلال کے ذریعہ صاف کر لینا چاہیے. اس لیے کہ منہ اور دانتوں میں ان ذرات کا باقی رہنا دانتوں کی بیماری اور بدبو کا باعث بنتا ہے. اگر ان ذرات میں خون بھی نکلا ہو توایسے ذرات کو نگلنا حرام ہے۔ اس سلسلے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کھانے کے بعد خلال کیا تو خلال سے نکلنے والے ذرات کو پھینک دے اور جو زبان سے نکلے اسے نگل سکتا ہے. جس نے ایسا کیا تو بہتر کیا اور جس نے نہیں کیا تو اس پر کوئی حرج نہیں۔(سنن ابی داود/35)
————-
علامہ خطیب شربینی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
ولا یبتلع ما یخرج من اسنانه بالخلال بل یرمیه (مغنی المحتاج:3/250)
(ﺃﻛﻞ) ﺷﻴﺌﺎ (ﻓﻤﺎ ﺗﺨﻠﻞ) ﻣﺎ ﺷﺮﻃﻴﺔ ﻭاﻟﺠﺰاء ﻓﻠﻴﻠﻔﻆ ﺃﻱ ﻣﺎ ﺃﺧﺮﺟﻪ ﻣﻦ اﻷﺳﻨﺎﻥ ﺑﺎﻟﺨﻼﻝ (ﻓﻠﻴﻠﻔﻆ) ﺑﻜﺴﺮ اﻟﻔﺎء ﻓﻠﻴﻠﻖ ﻭﻟﻴﺮﻡ ﻭﻟﻴﻄﺮﺡ ﻣﺎ ﻳﺨﺮﺟﻪ ﻣﻦ اﻟﺨﻼﻝ ﻣﻦ ﺑﻴﻦ ﺃﺳﻨﺎﻧﻪ ﻷﻧﻪ ﺭﺑﻤﺎ ﻳﺨﺮﺝ ﺑﻪ ﺩﻡ (ﻭﻣﺎ ﻻﻙ ﺑﻠﺴﺎﻧﻪ) ﻋﻄﻒ ﻋﻠﻰ ﻣﺎ ﺗﺨﻠﻞ ﺃﻱ ﻣﺎ ﺃﺧﺮﺟﻪ ﺑﻠﺴﺎﻧﻪ ﻭاﻟﻠﻮﻙ ﺇﺩاﺭﺓ اﻟﺸﻲء ﺑﻠﺴﺎﻧﻪ ﻓﻲ اﻟﻔﻢ ﻳﻘﺎﻝ ﻻﻙ ﻳﻠﻮﻙ (ﻓﻠﻴﺒﺘﻠﻊ) ﺃﻱ ﻓﻠﻴﺄﻛﻠﻪ ﻭﺇﻥ ﺗﻴﻘﻦ ﺑﺎﻟﺪﻡ ﺣﺮﻡ ﺃﻛﻠﻪ (ﻣﻦ ﻓﻌﻞ) ﺃﻱ ﺭﻣﻰ ﻭﻃﺮﺡ ﻣﺎ ﺃﺧﺮﺟﻪ ﻣﻦ اﻷﺳﻨﺎﻥ ﺑﺎﻟﺨﻼﻝ (ﻭﻣﻦ ﻻ) ﺃﻱ ﻟﻢ ﻳﻠﻔﻈﻪ ﺑﻞ ﺃﻛﻠﻪ ﻋﻠﻰ ﺗﻘﺪﻳﺮ ﻋﺪﻡ ﺧﺮﻭﺝ اﻟﺪﻡ (عون المعبود)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 152 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا عبد النّور عبد الباری فكردے ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سوال نمبر/ 0108
کھانے کے بعد پلیٹ اور انگلیاں چاٹ کر صاف کرنے کا کیا حکم ہے؟ کیا حدیث سے اس کا ثبوت ملتا ہے؟
جواب:۔ کھانے کے بعد پلیٹ (برتن) اور انگلیوں کو چاٹ کر صاف کرنے کا سنت ہے
ترمذی شریف کی روایت ہے حضرت نبیشہ الخیر رضی اللہ عنھا فرماتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص پیالہ (پلیٹ وغیرہ) میں کھانا کھائے پھر اس کو چاٹ لےصاف کر لے) تو وہ پیالہ اس کے لئے مغفرت کی دعا کرتا ہے.(ترمذی/١٨٠٤)
علامه خطيب شربيني رحمة الله عليه فرماتے ہیں
و يسن لعق الإناء والأصابع (مغني المحتاج 250/3)