درس حدیث نمبر 0027
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر – 0204
سوال نمبر/ 0204
عید کی نماز کے لئے جاتے وقت اور آتے وقت الگ الگ راستہ کو اختیار کرنا بھی مشہور ہے.کیا یہ بات شرعا ثابت ہے؟
جواب: حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے موقع پر(جاتے آتے وقت ) الگ الگ راستوں کو اختیار کرتے تھے (بخاری:986)
اس حدیث کی روشنی میں فقہاء نے عید کی نماز کے لیے جاتے وقت طویل راستہ کو اختیار کرنا اور واپسی میں مختصر راستہ کو اختیار کرنا مستحب قرار دیا ہے.
وَأَن يذهب للصَّلَاة فِي طَرِيق طَوِيل مَاشِيا بسكينة وَيرجع فِي آخر قصير (الإقناع في حل الفاظ ابي شجاع ١/ ٣٨٩)
Question no/0204
People usually walk through different roads while going and returning from Eid prayers..Does sharia approve this custom?
Ans; Hazrat Jabir R.A narrated that On the day of Eid,”the Prophet(peace and blessings of Allah be upon him)used to return(after offering the Eid prayer)through the way different from that by which he went” (Sahih Bukhari 986)
In the light of this hadees the jurists (fuqaha) concluded that it is mustahab to prefer the long route while going and short route while returning for Eid prayer..
مدينة المنوّرة دعاء – 29 رمضان 1437
فضيلة الشيخ عبدالمحسن القاسم
مكة المكرّمة دعاء – 29 رمضان 1437
فضيلة الشيخ صلاح بن سالم با عثمان
مدينة المنوّرة ختم القرآن دعاء – 29 رمضان 1437
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
مكة المكرّمة ختم القرآن دعاء – 29 رمضان 1437
فضيلة الشيخ عبدالرحمن بن عبدالعزيز السديس
درس قرآن نمبر 0588
سورة النساء – آيت نمبر -082-083 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
رمضان ایک منٹ كا سبق نمبر 27 – 2011
مدينة المنوّرة دعاء – 28 رمضان 1437
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
مكة المكرّمة دعاء – 28 رمضان 1437
فضيلة الشيخ خالد بن علي الغامدي
درس قرآن نمبر 0587
سورة النساء – آيت نمبر -080-081 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
رمضان ایک منٹ كا سبق نمبر 26 – 2011
فقہ شافعی سوال نمبر – 0202
سوال نمبر/ 0202
عید کی نماز میں ہر دو تکبیر کے درمیان رکعت باندھنا ہے یا ہاتھ چھوڑے رکھنا بھی درست ہے؟
جواب:عید کی نماز میں دو تکبیرکے درمیان رکعت باندھنا سنت ہے. البتہ اگر کوئی رکعت باندھنے کے بجائے ہاتھ چھوڑے رکھے توکوئی حرج نہیں اس لیے کہ اصل ہاتھوں کو کسی عبث اور بے كار کام میں مشغول کیے بغیر ایک ہی کیفیت پر برقرار رکھناہے.اوریہ مقصد رکعت باندھنے اور ہاتھوں کو چھوڑے رکھنے سے حاصل ہوتا ہے.
ویسن ان یضع یمناہ علی یسراہ تحت صدرہ بین التکبیرتین کما فی تکبیر الاحرام (مغنی المحتاج:1/531)
قال الشیخ الجمل:
ولا باس بارسالھما لان المقصود عدم العبث لھا وھو حاصل مع الارسال وان کانت السنۃ وضعھا تحت صدرہ (حاشیۃ الجمل:2/51)