درس حدیث نمبر 0674
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 1160
امام کے لیے محراب کے اندر کھڑے ہوکر نماز پڑھانے کا کیا حکم ہے؟
محراب چونکہ مسجد کا ہی ایک حصہ ہے اکثر فقہائے کرام نے امام کے لیے محراب میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے. البتہ بہتر یہ ہے کہ امام پوری طرح محراب میں کھڑا نہ ہو، بلکہ محراب سے ایک دو قدم پیچھے کھڑا رہے۔
المِحْرابُ المُجَوَّفُ عَلى الهَيْئَةِ المَعْرُوفَةِ حَدَثَ بَعْدَهُ ومِن ثَمَّ قالَ الأذْرَعِيُّ يُكْرَهُ الدُّخُولُ فِي طاقَةِ المِحْرابِ ورَأيْت بِهامِشِ نُسْخَةٍ قَدِيمَةٍ ولا يُكْرَهُ الدُّخُولُ فِي الطّاقَةِ خِلافًا لِلسُّيُوطِيِّ اھ عِبارَةُ البِرْماوِيِّ ولا تُكْرَهُ الصَّلاةُ فِي المِحْرابِ المَعْهُودِ ولا بِمَن فِيهِ خِلافًا لِلْجَلالِ السُّيُوطِيّ ولَمْ يَكُنْ فِي زَمَنِهِ ، والخُلَفاءُ بَعْدَهُ إلى آخِرِ المِائَةِ الأُولى وإنَّما حَدَثَتْ المَحارِيبُ فِي أوَّلِ المِائَةِ الثّانِيَةِ اهـ. (حواشي الشرواني والعبادي على تحفة المحتاج في شرح المنهاج:٤٩٩/١)
نهاية المحتاج إلى شرح المنهاج:١/٤٤٠ حاشية الجمل على شرح المنهج:١/٣٢٢
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
فقہ شافعی سوال نمبر / 1157
امام نماز کے لیے کب کھڑا ہوگا اقامت سے پہلے یا اقامت کے دوران؟
امام کو چاہیے کہ مؤذن جب اقامت مکمل کرے اس کے بعد امام نماز پڑھانے کے لیے کھڑا ہوجائے
فالإمام والمأموم يقومون إذا فرغ المؤذن من الإقامة. وبه قال مالٌك وأحمد وإسحق وأبو يوسف رحمهم الله، وعلى هذا أهل الحرمين، ثم يقول: استووا. (بحر المذهب للروياني ٢/١٦)
ولا يقوم حتى يفرغ المؤذن من الإقامة)؛ لأنه ما لم يفرغ منها لم يحضر وقت الدخول في الصلاة، ويكون مشتغلًا بجوابه، ولو أسقط لفظ (المؤذن) … لكان أحسن، لكنه جرى على الغالب. (النجم الوهاج في شرح المنهاج ٢/٣٨٤)
ولاَ يَقُومُ حَتّى يَفْرُغَ المُؤَذِّنُ مِنَ الإقامَةِ، أي وإن كان شيخًا؛ لأن الإقامة بجملتها إعلام، وإنما يثبت حكمها في الإجابة إلى المدعو بعد التمام؛ لأنه قبل التمام مشغول بالإجابة. (عجالة المحتاج إلى توجيه المنهاج ١/٣٣٢)
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ ياسر بن راشد الدوسري
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 1154
ایک مرتبہ عمرہ سے فراغت کے بعد اگر کوئی شخص حدود حرم سے باہر کسی کام یا تفریح یا تاریخی مقامات کی زیارت کے لیے جائے تو کیا انہیں واپسی میں عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کرنا ضروری ہے؟ چونکہ ان دنوں سعودی حکومت کی طرف سے ایک عمرہ کرنے کے بعد دوسرا عمرہ کرنے کی اجازت نہیں ہے؟
جو لوگ حدود حرم میں عمر ہ یا حج کے نیت سے داخل ہوتے ہیں ان کے لیے میقات سے احرام باندھ کر حدود حرم میں داخل ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی ایک مرتبہ مکمل عمرہ کرنے کے بعد کسی وجہ سے حدود حرم سے باہر نکلیں اور واپس حدود حرم میں داخل ہوتے وقت دوبارہ عمرہ کا ارادہ نہ ہو تو احرام باندھنا ضروری نہیں ہے البتہ مستحب یہ ہے کہ دوبارہ حدود حرم میں داخل ہوتے وقت احرام کے ساتھ داخل ہوں۔ چونکہ اس وقت سعودی حکومت کی طرف سے دوبارہ عمرہ کی اجازت نہیں ہے تو بغیر احرام کے ہی چلے جائیں اور دیگر عبادات میں مصروف رہیں۔
(ﻭﻣﻦ ﻗﺼﺪ ﻣﻜﺔ) ﺃﻭ اﻟﺤﺮﻡ ﻭﻟﻮ ﻣﻜﻴﺎ ﺃﻭ ﻋﺒﺪا ﺃﻭ ﺃﻧﺜﻰ ﻟﻢ ﻳﺄﺫﻥ ﻟﻬﻤﺎ ﺳﻴﺪ ﺃﻭ ﺯﻭﺝ ﻓﻲ ﺩﺧﻮﻝ اﻟﺤﺮﻡ، ﺇﺫ اﻟﺤﺮﻣﺔ ﻣﻦ ﺟﻬﺔ ﻻ ﺗﻨﺎﻓﻲ اﻟﻨﺪﺏ ﻣﻦ ﺟﻬﺔ ﺃﺧﺮﻯ (ﻻ ﻟﻨﺴﻚ) ﺑﻞ ﻟﻨﺤﻮ ﺯﻳﺎﺭﺓ ﺃﻭ ﺗﺠﺎﺭﺓ (اﺳﺘﺤﺐ ﻟﻪ ﺃﻥ ﻳﺤﺮﻡ ﺑﺤﺞ) ﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻓﻲ ﺃﺷﻬﺮﻩ ﻭﻳﻤﻜﻨﻪ ﺇﺩﺭاﻛﻪ (ﺃﻭ ﻋﻤﺮﺓ) ﻭﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻓﻲ ﺃﺷﻬﺮﻩ ﻛﺘﺤﻴﺔ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻟﺪاﺧﻠﻪ ﻭﻳﻜﺮﻩ ﺗﺮﻛﻪ ﻟﻠﺨﻼﻑ ﻓﻲ ﻭﺟﻮﺑﻪ (نهاية المحتاج مع حاشيته: ٣/ ٢٧٧)
(ﻭﻣﻦ ﻗﺼﺪ اﻟﺤﺮﻡ) ﻫﻮ ﺃﻋﻢ ﻣﻦ ﻗﻮﻟﻪ ﻣﻜﺔ (ﻻ ﻟﻨﺴﻚ) ﺑﻞ ﻟﻨﺤﻮ ﺯﻳﺎﺭﺓ ﺃﻭ ﺗﺠﺎﺭﺓ (ﺳﻦ) ﻟﻪ (ﺇﺣﺮاﻡ ﺑﻪ) ﺃﻱ ﺑﻨﺴﻚ ﻛﺘﺤﻴﺔ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻟﺪاﺧﻠﻪ ﺳﻮاء ﺃﺗﻜﺮﺭ ﺩﺧﻮﻟﻪ ﻛﺤﻄﺎﺏ ﺃﻡ ﻻ ﻛﺮﺳﻮﻝ ﻗﺎﻝ ﻓﻲ اﻟﻤﺠﻤﻮﻉ ﻭﻳﻜﺮﻩ ﺗﺮﻛﻪ. (شرح المنهج مع حاشية الجمل: ٢/ ٤٢٦)